پاکستان میں امریکی ڈالر کا ریٹ 325 روپے تک کیوں جانے والا ہے؟

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے اس سال کے آخر تک پاکستان میں ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 325 روپے تک لے جانے کا مطالبہ کر رکھا ہے لہذا دو برس تک مستحکم رہنے کے بعد اب ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

پاکستان میں ڈالر کی قیمت بڑھنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ پیسے والوں نے منافع کے لالچ میں ڈالرز اکٹھے کرنا شروع کر دیا کیونکہ انہیں مستقبل قریب میں ڈالر 325 روپے کا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے پاکستان میں تیل اور دیگر درآمدات کے ریٹ بھی بڑھ رہے ہیں اور حقیقی مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی کا درست اندازہ لگانے کے لیے ڈالر ذخائر اور ڈالر ریٹ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے جب بھی ڈالر ریٹ اور ذخائر میں کمی بیشی ہوتی ہے تو پوری ملکی معیشت پر اس کا اثر نظر آنے لگتا ہے۔ پاکستان میں ڈالر کا ریٹ بڑھنے کی وجوہات بارے کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ کہتے ہیں کہ: ’ڈالر کی ویلیو بڑھنے کی وجہ ایک مافیا ہے، جس میں کرنسی ایکسچینج کمپنیاں، بینکس، منی ٹرانسفر آپریٹرز اور سرکار شامل ہیں۔ یہ سب مل کر ڈالر کا ریٹ بڑھا رہے ہیں۔ اسوقت پاکستان میں’مال بناؤ‘ تحریک چل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے وفاقی بجٹ پاس ہوا ہے، ڈالر کا ریٹ مسلسل بڑھ رہا ہے، کیونکہ بجٹ میں ایکسچینج کمپنیوں کو بھی پی آر آئی PRI  سکیم میں شامل کر لیا گیا ہے، جس سے ان کمپنیوں کو بھی وہی اختیارات مل گئے ہیں جو بینکس کو حاصل تھے۔ اب یہ کمپنیاں بھی ایم ٹی اوز کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ڈالرز کی انجینیئرنگ کر رہی ہیں، جس سے ڈالر ریٹ بڑھ رہا ہے۔‘

کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن کے جنرل سیکٹری ظفر پراچہ مزید کہتے ہیں کہ’ایکسچینج کمپنیوں کو پی آر آئی سکیم میں شامل کرنا ایک غلط فیصلہ ثابت ہوا ہے۔ میں نے کئی مرتبہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں کو اس سکیم سے نکالا جائے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ سکیم کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، تاکہ نہ بینکس، نہ ایکسچینج کمپنیاں، اور نہ ہی انڈین ایم ٹی اوز اس سے مستفید ہوں۔‘ ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ: ’پی آر آئی ایک عجیب قانون ہے۔ اس کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی جب اپنے وطن رقوم بھیجتے ہیں تو بینکوں کو کم از کم 100 ڈالر پر 37 سعودی ریال انعام میں ملتے تھے۔

اگر ہزار ڈالر آتے تھے، تو بینک اسے 10 ٹرانزیکشنز میں تقسیم کر کے 370 ریال حاصل کرتے تھے۔ اب سٹیٹ بینک نے کم از کم 100 ڈالر کی ٹرانزیکشن کو بڑھا کر 200 ڈالر کر دیا ہے اور انعام کی شرح بھی 20 ریال کر دی ہے۔ بینکوں اور ایم ٹی اوز کے منافع تقریباً 17 ریال فی 100 ڈالر ٹرانزیکشن کم ہو گئے ہیں، اور اب وہ مبینہ طور پر یہ نقصان پورا کرنے کے لیے ڈالر کے ریٹ میں انجینیئرنگ کر رہے ہیں، جو کہ پاکستان میں ڈالر کے مہنگا ہونے کی بڑی وجہ ہے۔‘

ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ: ’پی آر آئی سکیم کے تحت حکومت سالانہ تقریباً 200 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔ بیرون ملک سے پیسے ایم ٹی اوز کے ذریعے پاکستان بھیجے جاتے ہیں، جن میں سے 90 فیصد انڈین کمپنیاں ہیں۔ یعنی پاکستانیوں کے ٹیکس سے جو سبسڈی دی جا رہی ہے، وہ انڈیا جا رہی ہے۔ پی آر آئی سکیم کو بند ہونا چاہیے۔ پہلے تقریباً 37 ریال فی 100 ڈالر بیرون ملک چلا جاتا تھا، اب بھی 22 ریال ان کی جیب میں جائیں گے۔ پی آر آئی سکیم سے حکومت پاکستان اپنا ڈالر انڈین کمپنیوں کو بیچ رہی ہے۔ یوں پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے اور انڈیا کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔’ ظفر پراچہ کے مطابق ’یہ رعایت بیرون ملک سے ترسیلات بھیجنے والے پاکستانیوں کو دی جانی چاہیے، جیسا کہ بنگلہ دیش میں ہوتا ہے۔ وہاں ترسیلات بھیجنے والوں کو فی ڈالر دو ٹکا سبسڈی دی جاتی ہے۔ اگر پاکستان بھی یہ سبسڈی براہ راست پاکستانیوں کو دے، تو ڈالر کی قیمت کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔‘

پاکستان میں ڈالر کا ریٹ بڑھنے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت صرف تین ایکسچینج کمپنیوں سے ڈالرز خرید رہی ہے۔ اسکے علاوہ جو ڈالر ریٹ بتایا جا رہا ہے وہ درست نہیں، بلکہ کم بتایا جا رہا ہے تاکہ عوام سے سستا ڈالر خریدا جائے اور پھر وہی ڈالر حکومت کو مہنگا بیچ کر منافع حاصل کیا جائے۔ یہ کھیل ایکسچینج کمپنیوں اور بیوروکریسی کی ملی بھگت سے کھیلا جا رہا ہے۔ ان کمپنیوں کی جانب سے حکومت کو ڈالر کی فارورڈ سیلنگ میں بھی پیسہ بنایا جا رہا ہے۔

انڈیا کا جنگی نقصان: ٹرمپ نے مودی کو مصیبت میں کیسے ڈال دیا؟

لیکن معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ حکومت اتنے ذیادہ ڈالرز کیوں خرید رہی ہے؟ ان کے مطابق اس وقت پاکستانی ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے، ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالرز تک بڑھ چکے ہیں، آئی ایم ایف کی زرمبادلہ ذخائر کی شرط بھی پوری ہو چکی ہے، اور کسی بڑے قرض کی ادائیگی بھی نہیں کرنی، پھر بھی حکومت ڈالرز خریدتی چلی جا رہی ہے۔ شاید حکومت کو ڈرایا گیا ہے کہ ایم ٹی اوز اور بینکوں کے منافع کم ہونے سے ترسیلات زر میں تین ارب ڈالر تک کمی آ سکتی ہے، اسی لیے حکومت ڈالر خرید رہی ہے، جس سے ریٹ بڑھ رہا ہے۔‘

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے اس حوالے سے بتایا کہ ’حکومت نے گذشتہ سال ہنڈی حوالہ سے تقریباً آٹھ ارب ڈالرز خریدے، جس کی وجہ سے ڈالر کنٹرول میں رہا۔ اس سال حکومت بمشکل دو سے تین ارب ڈالرز ہی اضافی حاصل کر سکے گی۔ حکومت جانتی ہے کہ موجودہ سال میں ڈالرز ذخائر کو مینج کرنا مشکل ہو گا، اسی لیے وہ ڈالر خرید رہی ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ڈالر ریٹ 325 روپے ہو۔ اس سال کے اختتام تک ڈالر ریٹ 325 روپے تک جا سکتا ہے۔ اسی لیے زیادہ سے زیادہ ڈالرز سٹاک کیے جا رہے ہیں اور اس کا ریٹ بڑھ رہا ہے۔

Back to top button