عماد وسیم کی دوسری شادی پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ کیوں؟

 

 

 

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم کی دوسری شادی منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا۔ عماد وسیم کی موجودہ اہلیہ نائلہ راجہ اور سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کے درمیان الزامات اور جوابی بیانات نے معاملے کو ذاتی دائرے سے نکال کر عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ویڈیوز، جذباتی پیغامات اور سنگین دعوؤں کے تبادلے نے نہ صرف مداحوں کو چونکا دیا بلکہ سوشل میڈیا کو بھی دو واضح حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک جانب عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کے الزامات کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف متعدد سوشل میڈیا صارفین موجودہ اہلیہ نائلہ راجہ کو معصوم قرار دیتے ہوئے ان کے مؤقف کی تائید کرتے نظر آ رہے ہیں۔تاہم اس تمام صورتحال نے عماد وسیم کی ذاتی زندگی کو سوشل میڈیا پر عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے، جہاں محض ایک خاندانی اختلاف کے پس منظر میں ان کا باقاعدہ سوشل میڈیا ٹرائل جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر الزامات، جوابی دعوؤں اور ادھورے شواہد کی بنیاد پر رائے قائم کی جا رہی ہے، جس میں قانونی اور نجی پہلوؤں سے زیادہ جذبات اور قیاس آرائیاں غالب نظر آتی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 28 دسمبر کو عماد وسیم کی پہلی شادی کے خاتمے کا اعلان سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد حال ہی میں ان کی دوسری شادی کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ یہ ویڈیوز خود ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے انسٹاگرام پر شیئر کیں،ویڈیو کے کیپشن میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ “اب سب لوگ ثبوت دیکھ چکے ہیں” انھوں نے عماد وسیم کی نئی دلہن نائلہ راجہ پراپنا گھر توڑنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس گھر کو توڑنے والی خاتون نے کبھی ایک بار بھی میرے بچوں کے بارے میں نہیں سوچا۔ اس بے وفا کا آخرکار بھانڈا پھوٹ گیا ہے اور میں اپنے بچوں کے لیے اور ان سب تکالیف کے لیے جن سے ہم گزرے ہیں، انصاف چاہتی ہوں۔‘

 

سابقہ اہلیہ کی پوسٹ کے بعد عماد وسیم نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی شادی کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس کے فوراً بعد نائلہ راجہ نے بھی ایک تفصیلی پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور کردار کشی پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنانا آسان ہے لیکن اس کے نتائج حقیقی ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ متاثر وہ شخص ہوتا ہے جو اس صورتحال سے گزر رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دھمکی آمیز ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، ان کے کردار اور وقار پر سوال اٹھائے گئے، حتیٰ کہ ان کے خاندان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔نائلہ راجہ نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی سے ڈیٹ نہیں کیا بلکہ باقاعدہ رشتے کے ذریعے ایک ایسے شخص سے شادی کی جو پہلے سے طلاق یافتہ تھا۔ ان کے مطابق یہ ان کی سچائی ہے اور وہ اللہ کی حکمت پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حالات سازگار ہوئے اور بچوں کے ساتھ تعلق استوار ہوا تو وہ انہیں کھلے دل سے قبول کریں گی۔ ان کا خیال رکھیں گی، ان سے محبت کریں گی، اور بچوں کی پرورش عماد کے ساتھ مل کر شفقت، احترام اور ذمہ داری کے ساتھ کریں گی۔ ‘ایک دوسری پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ “دوسرا موقع ہمیشہ خطرہ نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی ایک نعمت ہوتا ہے۔”

 

تاہم معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ثانیہ اشفاق نے ایک اور پوسٹ میں الزام عائد کیا کہ عماد وسیم کی وجہ سے انہوں نے اپنا بچہ کھویا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2023 میں لاہور میں ان کا اسقاطِ حمل کروایا گیا۔ وہ ایک قاتل ہے اور میرے پاس اس کا ثبوت دینے والی ویڈیو موجود ہے۔ اُس نے میرے ساتھ بے وفائی کی۔انہوں نے فرنچائز ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کو بھی ٹیگ کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کیے ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد یونائیٹد نے ایک قاتل اور بے وفا شخص کو موقع دیا ہے۔ کسی بھی بے وفا یا قاتل کو بچ نکلنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔‘

 

اس کے علاوہ انہوں نے ایک پوسٹ میں بظاہر نائلہ راجہ کے والد کو مخاطب کرتے ہوئے بھی تنقیدی جملے تحریر کیے، جس سے تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔

 عماد وسیم نےسوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ سے دوسری شادی کرلی

یاد رہے کہ عماد وسیم اور ثانیہ اشفاق اگست 2019 میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے اور ان کے تین بچے ہیں۔ طلاق کے اعلان کے بعد اب دوسری شادی نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جو قانونی سے زیادہ سماجی اور اخلاقی دائرے میں زیرِ بحث ہے. قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عماد وسیم کی سابقہ اور موجودہ اہلیہ کے مابین عائد کردہ سنگین الزامات کی نوعیت ایسی ہے جن کی جانچ سوشل میڈیا کی بجائے عدالتوں اور متعلقہ اداروں کا کام ہے، تاہم موجودہ ڈیجیٹل دور میں رائے عامہ اکثر عدالتی فیصلوں سے پہلے ہی قائم ہو جاتی ہے۔ ناقدین کے مطابق فی الحال یہ معاملہ بیانات اور پوسٹس تک محدود ہے، لیکن اس نے نہ صرف ایک معروف کرکٹر کی ذاتی زندگی کو ہنگامہ خیز بنا دیا ہے بلکہ یہ بھی دکھا دیا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں نجی اور عوامی زندگی کے درمیان حد فاصل کس قدر کمزور ہو چکی ہے۔

 

Back to top button