تحریک طالبان کی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن کیوں نہیں ہو پایا؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ پشاور میں سال 2014 میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں سینکڑوں بچوں کی شہادت کے بعد تشکیل دیے گئے نیشنل ایکشن پلان پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تحریک طالبان کی دہشت آج بھی ملک کے طول و عرض میں فوجی جوانوں اور معصوم عوام کا خون بہا رہے ہیں۔

 

عمار مسعود نے اپنے سیاسی تجزیے میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دو بڑے اور واضح مراحل ہیں۔ ایک مرحلہ دہشتگردوں کو عسکری قوت سے شکست دینا اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہے، جبکہ دوسرا مرحلہ دہشت گردانہ سوچ کو ختم کرنا ہے۔ ان کے بقول، پہلے مرحلے کے لیے صرف عسکری طاقت کافی ہے، لیکن دوسرے مرحلے کے لیے نظریاتی، اخلاقی اور قومی سوچ میں یکجہتی ضروری ہے۔ انکے مطابق دونوں باتیں ایک ساتھ ہوں تو ہی یہ عفریت ختم ہو سکتا ہے۔ نہ تو صرف عسکری قوت اس مسئلےکا حل ہے اور، نہ ہی صرف نظریاتی اتحاد اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ عسکری محاذ پر پاکستان نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دشمن کو شکست دی گئی، ہمارے جوانوں نے قربانیاں دیں اور دشمن کے ٹھکانے تباہ کیے۔ لیکن فوج کے ساتھ پوری قوم کی ہم آہنگی ’بنیان مرصوص‘ کی طرح ابھی بھی نظر نہیں آتی۔ انکے مطابق اب بھی نظریاتی تقسیم اور درون خانہ منفی قوتیں ہماری راہ میں حائل ہیں۔ عمار مسعود نے کہا کہ عسکری طاقت کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستانی ہتھیار، جنگی جہاز اور انٹیلی جنس نظام دہشت گردوں سے نمتنے کے لیے کتنے مؤثر ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی معلومات اور سرزمین پاکستان کی حفاظت کے لیے ہماری کتنی تیاری ہے۔

پنجگور میں مسلح افراد کی فائرنگ، 6 افراد جاں بحق

لیکن تصویر کا دوسرا رخ تاریک اور تشویشناک ہے، جو لمحۂ فکریہ بھی ہے اور داستانِ الم بھی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 میں آرمی پبلک سکول پر تحریک طالبان پاکستان کے بزدلانہ حملے کے بعد قومی اتفاق رائے سے پارلیمینٹ نے ایک نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا۔ اس کا ہر نکتہ واضح طور پر لکھا گیا، ذمہ داریاں تقسیم کی گئیں اور ہر فریق کو مطمئن کر کے اس منصوبے کو شروع کیا گیا تاکہ دہشتگردی سے پاک ملک کی تشکیل ممکن ہو۔ تاہم عمار مسعود کے مطابق 12 سال گزرنے کے باوجود اس پلان کے صرف ایک نکتے پر عمل ممکن ہوا ہے۔ فوج نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی، ان کے ٹھکانے تباہ کیے، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے اور دلیر جوانوں نے قربانیاں دی، مگر نیشنل ایکشن پلان کے باقی نکات پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ نصاب میں تبدیلی، مدارس کی رجسٹریشن، نفرت انگیز تقاریر پر پابندی، بھتہ خور تنظیموں کے خلاف کارروائی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والوں کی گرفتاری سمیت کسی بھی فیصلے کا نفاذ نہ ہو سکا۔

 

عمار مسعود نے خبردار کیا کہ اس قومی غفلت کی وجہ سے سیاست کے میدان، میڈیا اور دیگر شعبوں میں ایسے افراد آگئے ہیں جو دہشتگردوں کی سوچ سے متاثر ہیں یا انہیں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ یہ لوگ لڑکیوں کے سکولوں کو بم سے اڑانے، خواتین کے حقوق سلب کرنے اور مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر دہشتگردی کی تائید کرنے میں ملوث ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردوں کا واحد ہتھیار جہالت نہیں، بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا بھی ان کی نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔ ایسے اکاؤنٹس افغانستان سے چلتے ہیں اور فنڈنگ بھارت سے ہوتی ہے، مگر ان کے اثرات پاکستان میں بھی موجود ہیں۔ عمار مسعود کے بقول، اگر دہشتگردوں کو ختم کرنے کی ذمہ داری صرف عسکری اداروں تک محدود رکھی گئی تو وہ جہنم واصل ہو جائیں گے، مگر ملک جنت نہیں بن سکے گا۔ اتحاد، یکجہتی اور قومی بیانیہ ہی ملک کو دہشتگردی کے عفریت سے نکال سکتا ہے۔

 

Back to top button