میجر طفیل محمد شہید کو اعلیٰ ترین فوجی اعزاز کیوں دیا گیا ؟

لڑائی کے دوران بہادری اور شجاعت کے غیر معمولی کارنامے سر انجام دینے والے فوجی افسروں اور جوانوں کو سب سے بڑا فوجی اعزاز ”نشانِ حیدر‘‘ دیا جاتاہے، نشان حیدر پانے والے جوان بہادری کے وہ جوہر دکھاتے ہیں کہ دشمن بھی انھیں داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔یہ اعزاز اب تک 10فوجی افسروں اور جوانوں کو مل چکا ہے جن میں میجر طفیل محمد بھی شامل ہیں جنہوں نے 1958 میں اپنی جوانمردی سے دشمن کو ایسے ناکوں چنے چبوائے کہ بھارتی فوجی اپنے جہنم واصل ہونے والے فوجیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔
میجر طفیل شہید 7 اگست 1958ء کو لکشمی پور میں جام شہادت نوش کیا تھا۔ میجر طفیل محمدکے والد کا نام چودھری موج الدین تھا۔ جو دیندارشخصیت تھے اور صوفی کے نام سے جانے جاتے تھے ۔ان کا خاندان موضع کھرکاں ضلع ہوشیار پور بھارت کا رہائشی تھا۔کاروبار کی وجہ سے 1913ء میں ہوشیار پور سے ضلع جالندھر کے ایک گاؤں میں منتقل ہو گئے، جہاں 22 جولائی 1914 ء کو طفیل محمد نے جنم لیا۔ طفیل محمد لکھنے پڑھنے کی عمر کو پہنچے تو انہیں ایک مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔ اسی مدرسے سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا جبکہ گورنمنٹ کالج جالندھر سے ایف اے کیا۔ جن دنوں طفیل محمد فوج میں جانے کی کوشش کر رہے تھے انہی دنوں ان کی شادی کر دی گئی۔
22 جولائی 1932ء میں وہ سپاہی بھرتی ہوئے۔سپاہی سے ترقی کرتے ہوئے صوبیدار کے عہدے پر پہنچے۔ 1943ء میں پنجاب ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور 1947ء میں جب وہ میجر کے عہدے تک پہنچ چکے تھے، وہ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ پاکستان آ گئے اور یہاں فوج میں خدمات انجام دینے لگے۔ مسلح فورسز میں ایک امتیازی کریئر کے بعد 1958ء میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے مشرقی پاکستان میں تعینات ہوئے۔ جون 1958ء میں میجر طفیل محمد کی تعیناتی ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوئی۔ اگست 1958ء کے اوائل میں انہیں لکشمی پور کے علاقے میں ہندوستانی اسمگلرز کا کاروبار بند کرنے اور چند بھارتی دستوں کا صفایا کرنے کا مشن سونپا گیا جو کہ لکشمی پور میں مورچہ بند تھے۔
وہ اپنے دستے کے ساتھ وہاں پہنچے اور 7اگست کو بھارتی چوکی کو گھیرے میں لے لیا۔ اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے دشمن سے 15 گز کے فاصلے پر پہنچ گئے۔ جب مورچہ بند دشمنوں نے مشین گن سے فائر شروع کئے تو میجر طفیل اپنے ساتھیوں میں سب سے آگے ہونے کی وجہ سے ان کی گولیوں کا نشانہ بننے والے پہلے سپاہی تھے ۔برستی گولیوں میں بے تحاشہ بہتے خون کی حالت میں انہوں نے ایک گرنیڈ دشمنوں کی طرف پھینکا جو سیدھا دشمن کے گن مین کو لگا اور وہ جہنم واصل ہو گیا۔
ان کے جسم سے خون کے زیادہ بہنے سے ان کی زندگی کا چراغ بجھنے کو تھا۔ اس حالت میں بھی وہ اپنے ساتھیوں کی قیادت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ ایک مشین گن تو خاموش ہو گئی لیکن دوسری مشین گن نے اسی وقت فائرنگ شروع کر دی جس کی اندھا دھند فائرنگ سے میجر طفیل کے سیکنڈ ان کمانڈ نشانہ بن گئے۔ میجر طفیل نے ایک گرنیڈ کے ذریعے اس گن کو بھی تباہ کر دیا۔ اس دوران ان کا خون بہتا رہا مگر وہ اپنے نوجوانوں کو ہدایات دیتے رہے۔ اب لڑائی دوبدو لڑی جا رہی تھی۔ اس دوران میجر طفیل نے دیکھا کہ ایک دشمن دبے پائوں ایک جوان پر حملہ آور ہونے والا تھا۔ میجر صاحب اس وقت خود شدید زخمی تھے، چل بھی نہیں سکتے تھے، رینگتے ہوئے دشمن اور جوان کے درمیان پہنچ گئے اور اپنی ایک ٹانگ پھیلا دی جیسے ہی دشمن ٹھوکر کھا کر گرا میجر طفیل نے اپنے ہیلمٹ سے اس کے چہرے پر ضربیں لگانا شروع کر دیں۔ اس لڑائی میں بھارتی اپنے پیچھے 4 لاشیں اور 3 قیدی چھوڑکر فرار ہوگئے۔
میجر طفیل محمدنے 7 اگست 1958ء کو لکشمی پور میں شہادت کا رتبہ حاصل کیامیجر طفیل محمد کی تدفین چک نمبر 253 ای بی وہاڑی میں ہوئی۔ میجر طفیل محمد کو شجاعت اور بہادری کے باعث انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دیئے جانے کا اعلان کیا گیا۔ 15نومبر 1959ء کواس وقت کے صدر ایوب خان نے کراچی میں ایوان صدر میں منعقد ہونے والے ایک خاص دربار میں میجر طفیل محمد کی صاحبزادی نسیم اختر کو یہ اعزاز عطا کیا۔
