27 ویں ترمیم 1973 کے آئین کا ڈیتھ وارنٹ کیوں قرار پائی ؟

ملکی سیاسی و قانونی حلقوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی 27ویں آئینی ترمیم کے چرچے زوروں پر ہیں۔ ایک جانب مختلف قانونی ماہرین، سیاست دان اور سوشل میڈیا صارفین مجوزہ ترمیم پر کھل کر اپنی آرا پیش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب کئی حلقے آئینی ترمیم میں شامل عدالتی اصلاحات سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ تاہم تمام تر تحفظات اور خدشات کے باوجود سوشل میڈیا صارفین اس بات پر متفق ہیں کہ عوام چاہیں ’ہنسیں، مسکرائیں یا روئیں‘ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو کوئی نہیں روک سکتا۔
ناقدین کے مطابق سوشل میڈیا پر صارفین کے تبصرے دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے منظور ہونے سے بھی پہلے اس کے مسودے نے ملک میں عدالتی اصلاحات کو لے کرخدشات کو جنم دے دیا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم بارے سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے ایکس پر لکھا کہ اب وزیر اعظم خود وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کو تعینات کریں گے جبکہ آئینی عدالت میں ججز کا ’پہلا بیچ‘ وزیر اعظم کی ایڈوائس اور آئینی عدالت کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد صدر کی جانب سے تعینات کیا جائے گا۔ محمد زبیر کے مطابق عدلیہ کو اس سے پہلے کبھی ایگزیکٹو کے اتنے تابع نہیں کیا گیا۔
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے 27ویں آئینی ترمیم کو ’آئینی مارشل لا‘ سے تشبیہ دی جبکہ سابق وزیر قانون بابر اعوان کا کہنا ہے کہ یہ آئینی ترمیم نہیں بلکہ 1973 کے دستور کا ’ڈیتھ وارنٹ اور اور جمہوری پارلیمانی نظام کا مکمل رول بیک‘ ہے۔
وکیل عبدالمعیز جعفری نے آئینی ترمیم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ترمیم کا مسودہ ’شمالی کوریا بھیج دینا چاہیے تاکہ کم جونگ ان اپنے بچوں کو اس کی لوری سنائیں۔‘
اسی طرح قانونی ماہر صلاح الدین احمد کا 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے سے پیدا ہونے والے خدشات کا احاطہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی اختیارات ختم کیے جا رہے ہیں کیونکہ آئینی معاملات پر درخواستیں اب حکومت کے چُنے ہوئے ججز پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت جائیں گی جبکہ ہائیکورٹس میں بھی حکومت کے چُنے ہوئے ججز پر مشتمل آئینی بینچز ہی آئینی درخواستیں سنیں گے۔ اسی طرح ہائیکورٹ سے ٹرانسفر قبول نہ کرنے والے ججز کو ریٹائر کیا جا سکتا ہے جس سے ’پاکستان میں عدلیہ کی آزادی کی امید دم توڑ چکی ہے۔‘
قانونی ماہر اسد رحیم خان کے مطابق 27ویں ترمیم کے ذریعے ’چیف جسٹس آف پاکستان‘ کا عہدہ ہی ختم کر دیا گیا جس کے لیے مختلف شقوں سے لفظ ’پاکستان‘ ہٹانا پڑا۔ اب چیف جسٹس آف پاکستان کی جگہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے ہوں گے۔ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے سوال کیا کہ ’ہنسیں، مسکرائیں یا روئیں؟ ۔۔۔ عدلیہ کی آزادی گئی گھاس چرنے۔ ہماری سپریم کورٹ، ہماری مرضی۔‘
مجوزہ 27ویں ترمیم میں جہاں سوشل میڈیا پر عدالتی اصلاحاتی پیکج بارے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں قانونئ ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم کے ذریعے ’پاکستان میں سویلین بالادستی کی کوششیں بھی دم توڑ دیں گی کیونکہ اس ترمیم کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے گا فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنی زندگی کے دوران پاکستان میں طاقت کا واحد مرکز رہیں۔‘
نئی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور ججز کون ہوں گے ؟
صحافی ماجد نظامی کی رائے میں آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم نے کچھ سوالات کو جنم دے دیا ہے جن کے جوابات تاحال سامنے نہیں آئے جیسا کہ چیف آف ڈیفینس فورسز کی ’مدت ملازمت کیا ہو گی؟ کیا سی ڈی ایف کے عہدے میں توسیع یا دوبارہ تقرری ہو سکے گی؟‘ کیا سی ڈی ایف ائیر فورس اور نیوی کا رسمی سرپرست ہو گا یا انتظامی اختیارات میں بھی عمل دخل ہو گا؟ کیا مستقبل میں اس عہدے پر ائیر فورس اور نیوی سے بھی کسی کو تعینات کیا جائے گا یا یہ صرف آرمی کے لیے مخصوص ہو گا؟‘ ماجد نظامی کے مطابق سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ عہدہ ’فائیو سٹار ہی رہے گا یا مستقبل میں کوئی فور سٹار اس پر تعینات ہو سکتا ہے؟ کیا یہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے وقتی بندوبست ہے یا بعد ازاں مستقلاً اس پر تقرری کی جائے گی؟‘ تاہم دوسری جانب دفاعی امور کی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ وزارت قانون کے مسودے سے ایسا لگتا ہے جیسے فیلڈ مارشل عاصم منیر اب ’تینوں سروسز کو کنٹرول کریں گے‘ تاہم اگر ایسا ہوا تو کئی ’آپریشنل اور بیوروکریٹک پیچیدگی سامنے آئیں گی جس سے سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔‘ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے ایکس پر لکھا کہ ‘پاکستان کے 1962 کے آئین کے ابتدائیے میں یہ جُملہ موجود تھا کہ یہ آئین فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے قوم کو عطا کیا۔ اس بار صرف اس کی کسر باقی رہ گئی۔‘
