190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ تیسری بار بھی ملتوی کیوں ہو گیا؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ تیسری بار مؤخر ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں افواہوں کا بازار گرم ہے، جہاں ایک طرف فیصلے کی تاخیر کو پی ٹی آئی اور مقتدر حلقوں کے مابین ڈیل سے جوڑا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ حکومت مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے فیصلے کو مسلسل مؤخر کروا رہی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی اور حکومت ایسی تمام خبروں کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں، حکومتی حلقوں کے مطابق فیصلےکو سنانایا مؤخر کرنا عدالتی صوابدید ہے اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ تیسری بار مؤخر کرتے ہوئے فیصلہ سنانے کے لیے نئی تاریخ 17 جنوری مقرر کر دی ہے۔احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے عدالتی فیصلہ مؤخر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ وہ 8بجے سے عدالت میں فیصلہ سنانے کیلئے موجود ہیں تاہم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی عدالت پیش نہیں ہوئے، جبکہ انہیں 2 مرتبہ پیش ہونے کے لیے پیغام بھی بھیجا گیا۔ لہٰذا اب آئندہ سماعت پر 17 جنوری کو فیصلہ سنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 18 دسمبر 2024 کو فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پہلے 23 دسمبر 2024 کو فیصلہ سنانے کی تاریخ دی گئی جو بعد میں 6 جنوری 2025 تک مؤخر کردی گئی تھی۔ بعد ازاں 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کا دن مقرر کیا گیا۔ تاہم اب 17 جنوری کو فیصلہ سنانے کا علان کیا گیا ہے۔

فیصلے میں تاخیر کے حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس کے محفوظ فیصلے میں تاخیر کے حوالے سے اسلام آباد میں اس وقت تین کہانیاں چل رہی ہیں۔ ان میں سے ایک کہانی یہ ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان جاری مذاکرات کو برقرار رکھنے کے لئے القادر ٹرسٹ المعروف ایک سونوے ملین پاؤنڈ کیس کے محفوظ فیصلے کولٹکایا جارہا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کہانی درست نہیں۔ کیونکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات میں کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ فریقین ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ اس لئے اس کہانی میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی/

القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ موخر کرنے بارے وفاقی دارالحکومت میں دوسری کہانی یہ چل رہی ہے کہ مقتدر قوتوں کے اصل خفیہ مذاکرات عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے ساتھ ہور ہے ہیں اور یہ بات چیت خود سابق خاتون اول کی خواہش پر ہو رہی ہے ، جو دوبارہ جیل جانے سے بچنے کے لئے درمیان کا راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ عمران خان نے بشری بی بی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ مذاکرات صرف پی ٹی آئی کی ٹیم اور حکومت کے درمیان ہورہے ہیں۔ لیکن عمران خان کا دعوی سراسر غلط بیانی پر مبنی ہے۔ عمران خان نے خود یہ اعتراف کیا تھا کہ انہیں بالواسطہ بنی گالہ شفٹ ہونے کی پیشکش کی گئی ہے۔ یہ بات ان کی بہن علیمہ خان نے بھی دہرائی تھی۔ حالانکہ حکومت سے مذاکرات کرنے والی پی ٹی آئی کمیٹی نے دوٹوک تردید کی ہے کہ حکومت نے انہیں ایسی کوئی آفر نہیں کی ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ بیک گراؤنڈ میں کوئی دوسرا چینل بھی چل رہا ہے، جس کے ذریعے بقول عمران خان انہیں بنی گالہ شفٹ ہونے کی بالواسطہ پیشکش کی گئی مبصرین کے مطابق یہ چینل بشریٰ بی بی کا ہی ہے۔۔  جو پس پردہ الگ سے ڈیل کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ڈیل کرنے والوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح عمران خان کو آمادہ کر لیں گی کہ وہ زبان بندی کر کے بنی گالہ شفٹ ہونے پر راضی ہو جائیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خان بنی گالہ شفٹ ہونے پر رضامند ہیں۔ تاہم ان کی خواہش ہے کہ بنی گالہ شفٹ ہونے پر انہیں بولنے کی آزادی دی جائے گی لیکن یہ اجازت انہیں نہیں مل رہی ہے، جس کے سبب بشری بی بی کے ساتھ ہونے والی خفیہ بات چیت تا حال کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اسی لئے ہی القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ سنانے میں تاخیر ہورہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی طرح بشریٰ بی بی کو بھی ادراک ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں ٹھوس گواہیاں اور دستاویزی شواہد موجود ہیں، جس کی وجہ سے ان کا لمبی سزا سے بچنا ناممکن ہے۔ عمران خان پہلے ہی جیل میں ہیں۔ان کے برعکس بشری بی بی مختلف کیسز میں ضمانت پر ہیں۔ اگر القادر کیس کا فیصلہ سنادیا جاتا ہے اور متوقع طور پر انہیں طویل سزا ہو جاتی ہے تو انہیں ایک بار پھر جیل جانا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بشری بی بی کی حد درجہ کوشش ہے کہ کسی طرح القادر ٹرسٹ کے فیصلے سے پہلے ان کی ڈیل کامیاب ہو جائے اور وہ دوبارہ قید میں جانے سے بچ جائیں۔

190 ملین پاونڈ کیس بارے وفاقی دارالحکومت میں تیسری کہانی یہ چل رہی ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ سنانے میں تاخیر کا سبب اسلام آباد ہائی کورٹ کے لئے حجز کی تقرری ہے۔ اس تقرری کے سلسلے میں سترہ جنوری کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہونے جارہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ان تقرریوں تک یا اس کے بعد ہی القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ سنایاجائے تا کہ فیصلے کے خلاف اپیل کے ذریعے پی ٹی آئی کو فوری ریلیف دینے کی روایت دہرائی نہ جاسکے۔

Back to top button