5ججز کی ریپریزنٹیشن کیوں مسترد ہوئی؟ تحریری فیصلہ جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سنیارٹی تبدیل کرنے کے خلاف پانچ ججز کی ریپریزنٹیشن مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا گیا۔

چیف جسٹس عامرفاروق نے ریپریزنٹیشن مسترد کی تھی۔رجسٹرار کو فیصلے کی کاپی متعلقہ ججز کو بھیجنے کی ہدایت کردی گئی۔

جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس بابر ستار،جسٹس سردار اعجاز اور جسٹس ثمن رفعت کی ریپریزنٹیشن مسترد کی گئی۔

تحریری فیصلے کے مطابق تین صوبائی ہائیکورٹس سے ججز کے تبادلےکے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبدیل کی گئی سنیارٹی لسٹ برقراررہے گی جبکہ لاہور ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہو کراسلام آباد ہائیکورٹ آنے والے جسٹس سرفراز ڈوگر سینئر پیونی جج برقرار رہیں گے۔

صوبائی ہائیکورٹس سے ٹرانسفر ہونیوالےججز کو دوبارہ نیا حلف اٹھانے کی ضرورت نہیں،ججز کی تعیناتی اور ٹرانسفر میں فرق ہے،دونوں مختلف باتیں ہیں۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سرحدپار بھارت میں تو ججزکا ٹرانسفر عام بات ہے، بھارت کی طرح پاکستان میں ٹرانسفر پالیسی نہیں لیکن صدر پاکستان قانون کے مطابق ٹرانسفر کرسکتے ہیں۔بھارتی ہائی کورٹس کے ججز کے حلف کا متن بھی فیصلے میں شامل کیا گیا۔

فیصلے میں مزید لکھا ہے کہ قانون کے مطابق ججز کو دوبارہ حلف لینے کی ضرورت نہیں۔ ججز کے حلف کا متن بھی فیصلے کا حصہ ہے۔

ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے کے مطابق جب جج کا ٹرانسفر ہوتا ہے تواس ہائی کورٹ کے جج کے طور پر اسٹیٹس رہتا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا،آئین کا آرٹیکل 200 جج کے ایک ہائی کورٹ سے دوسری میں ٹرانسفر سے متعلق ہے۔

Back to top button