ایران اور اسرائیل کی جنگ بندی زیادہ  عرصہ برقرارکیوں نہیں رہےگی؟

ایران اور اسرائیل کے مابین غیرمتوقع جنگ بندی نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک لمحاتی سکون تو پیدا کر دیا ہے تاہم جنگ بندی کے باوجود خطے میں ’امن‘ ابھی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین باہمی اعتماد میں کمی کی وجہ سے ایران اسرائیل جنگ بندی کا لمبے عرصے کیلئے برقرار رہنا اور مذاکراتی عمل کے ذریعے دونوں ممالک کا مل کر آگے بڑھنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی، امریکہ کی خاموش چالوں اور صدر ٹرمپ کے اچانک یوٹرن نے عالمی افق پر ایک نئی بے چینی پیدا کر دی ہے۔  جس کے بعد عالمی سیاسی و عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ کیا امریکی حملوں اورجنگ بندی کے بعد ایران واقعی جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹ جائے گا؟ کیا واشنگٹن اب سفارت کاری کا راستہ اپنائے گا یا ایک اور محاذ کھلے گا؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ  اس بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان جیسے اہم خطے کے لیے کیا خطرات یا امکانات جنم لے سکتے ہیں؟اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعداصل سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے مستقبل بارے خدشات ابھی سے جنم لینا شروع ہو گئے ہیں تاہم جنگ بندی کے بعد عالمی طاقتوں کے تہران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر نئے سرے سے مذاکرات اور دیگر تنازعات پر بات چیت کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ عالمی مبصرین مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال بارے کوئی بھی پیشگوئی کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں ان کے مطابق صدر ٹرمپ حکومتی معاملات ذرا ہٹ کر چلا رہے ہیں۔ بیرونی ماہرین جن سے صدارتی انتظامیہ طویل عرصے سے مشاورت کر رہی ہے، اب انھیں بھی فیصلہ سازی کے عمل سے فارغ کر دیا گیا یے جس کے بعد وہ بھی عام لوگوں کی طرح تازہ ترین واقعات پر صدر ٹرمپ کے خیالات جاننے کے لیے ان کے سوشل میڈیا کو فالو کرنے پر مجبور ہیں۔ مبصرین کے مطابق عالمی مشاورت کار تو کجا ایران بارے صدر ٹرمپ کی پالیسی سے  کانگریس بھی مکمل طور پر آگاہ نظر نہیں آ رہی کیونکہ اعلیٰ ارکان کو تین ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے صدر ٹرمپ کے فیصلے کی صرف سرسری اطلاعات فراہم کی گئی تھیں۔یہی نہیں بلکہ ان حملوں کے اثرات کے بارے میں بریفنگ بھی اچانک ملتوی کر دی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پیر کو صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور ایران کے جنگ بندی پر متفق ہونے کے اعلان نے انتظامیہ میں سے کئی افراد کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا کیونکہ امریکی صدر کا یہ اعلان صدر ٹرمپ کی ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ ڈالنے کی مہم سے واضح طور پر 180 ڈگری کی تبدیلی تھا۔ تاہم امریکی صدر کے اس بڑے یوٹرن کے باوجود ایران کا امریکہ کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایرانی حکام سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے صرف اسرائیل کو بچانے کیلئے جنگ بندی کروائی ہے تاکہ اسے ایرانی حملوں سے ہونے والے مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

بعض دیگر ماہرین کے مطابق ایرانی جوہری تنصیبات پر بنکر بسٹر بموں سے حملوں بارے امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس کی ابتدائی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید ہزیمت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ کانگریس اراکین کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک ابتدائی جائزے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے صرف ایرانی ایٹمی پروگرام کو صرف چند ماہ پیچھے دھکیل سکا ہے لیکن اسے مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔رپورٹ کے مطابق فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں نے اگرچہ تنصیبات کو خاصا نقصان پہنچایا ہے تاہم وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں۔ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو سابقہ سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو ان مراکز کی مرمت یا تعمیرِ نو میں مہینوں یا اس سے زیادہ وقت لگے گا۔

حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کرنے کے بعد فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ایران دوبارہ کبھی جوہری پروگرام پر کام نہیں کرے گا۔ تاہم، اس حوالے سے سنجیدہ سوالات ہیں کہ کیا ایران کی قیادت ان سے بات چیت کے لیے تیار ہو جائے گی۔ایک اور بڑا سوال یہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے بعد کیا ہوگا؟ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ ایران میں کس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام بارے امریکہ سے معاہدہ کر سکے یا پھر امریکہ یا دیگر کے ساتھ دوبارہ بات چیت پر آمادہ ہو۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت اس وقت انتشار کا شکار ہے جس کی وجہ سے ایران کا مذاکرات کی میز پر واپس آنا مشکل ہو رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی قیادت اور حکومت اس حد تک ہم آہنگ نہیں کہ اس وقت جوہری پروگرام بارے امریکہ سے کسی قسم کے مذاکرات کرنے کے قابل ہو خاص طور پر جب امریکہ ایران سے یورینیئم کی صفر افزودگی کا مطالبہ کر رہا ہو۔ ماہرین کے مطابق ایران کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ ٹرمپ ایک ایسی ایرانی حکومت کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں جس کی طویل عرصے سے شناخت امریکہ دشمنی پر مبنی ہے اور ایران میں کوئی بھی حکومتی اہلکار عوامی نفرت کے پیش نظر امریکہ سے کبھی بھی پیار کی پینگیں نہیں بڑھائے گا۔

Back to top button