عمران خان کے بیٹے تحریک کا حصہ بننےسےپیچھےکیوں ہٹنےلگے؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان کسی قسم کی یقین دہانی نہ ملنے اور ٹرمپ سے ملاقات میں ناکامی کے بعد علیمہ خان کے اعلان کے مطابق پاکستان آنے کی بجائے امریکہ سے واپس لندن پہنچ گئے ہیں”جس کے بعد نہ صرف قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد کی امیدیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں، بلکہ یوتھیوں کی توقعات پر بھی پانی پھر چکا ہے اور احتجاجی تحریک کی ناکامی اب نوشتۂ دیوار بنتی نظر آتی ہے۔”
ناقدین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد کی خبریں ایک وقت میں پی ٹی آئی کارکنان کے لیے امید کی کرن سمجھی جا رہی تھیں، مگر حالیہ پیش رفت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ صرف افواہوں کا غبار تھا جو سیاسی موسم کی پہلی تیز ہوا میں ہی چھٹ گیا۔ علیمہ خان کی جانب سے دیے گئے بیانات اور بعض اندرونی حلقوں کی امیدوں کے باوجود، قاسم اور سلیمان پاکستان پہنچنے کے بجائے امریکہ سے واپس لندن چلے گئے ہیں، اس اقدام نے بظاہر پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کی رہی سہی جان بھی نکال دی ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کے صاحبزادگان قاسم اور سلیمان کے امریکہ سے پاکستان پہنچنے کی بجائے واپس لندن روانہ ہونے کے بعد نہ صرف پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں بلکہ خود پارٹی کے اندر بھی مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مبصرین کے بقول یہ صرف دو نوجوانوں کا غیرسیاسی ہونا یا نہ ہونا نہیں، بلکہ عمران خان کی موجودہ حکمت عملی پر ان کے قریبی حلقوں کا عدم اعتماد ہے۔ ناقدین کے مطابق جب خاندان خود میدان میں آنے سے گریز کرے، تو باقی کارکن کس جذبے سے احتجاج کریں گے؟” ان کا مزید کہنا ہے کہ "قاسم اور سلیمان کی غیرحاضری نے تحریک انصاف کے کارکنوں میں ایک واضح خلا پیدا کر دیا ہے۔ کارکن سمجھ رہے تھے کہ خان کے بیٹے آ کر قیادت کریں گے، لیکن اب تحریک ایک بار پھر ‘بیاناتی احتجاج’ میں تبدیل ہو چکی ہے۔” سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق "قاسم اور سلیمان کی آمد کو ایک ‘پولیٹیکل سٹنٹ’ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ جب ان کی آمد ممکن نظر آئی تو اس پر لابنگ ہوئی، لیکن جیسے ہی حقیقت سامنے آئی، تو پارٹی نے خاموشی اختیار کر لی۔ یہ غیرسنجیدگی تحریک کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔” ناقدین کے مطابق "جمائما گولڈ اسمتھ کا دباؤ، بشریٰ بی بی کی مخالفت اور خود عمران خان کی سیاسی حکمت عملی میں قاسم اور سلیمان کی عدم شرکت، سب ایک واضح سگنل ہے کہ تحریک انصاف اندرونی طور پر تقسیم شدہ اور قیادت سے خالی ہو چکی ہے۔”
بعض دیگر مبصرین کے مطابق قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد کے معاملے پر نہ صرف تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں الجھن پائی جاتی ہے بلکہ اس کے پیچھے بانی پی ٹی آئی کے قریبی خاندان کی تین بااثر خواتین کے متضاد بیانیے بھی واضح طور پر کارفرما ہیں۔ ایک طرف جمائما خان سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے بیٹوں کو پاکستان بھیجنے کو ایک غیر ضروری خطرہ تصور کرتی ہیں اور وہ اس حوالے سے اپنا موقف واضح طور پر ظاہر کر چکی ہیں۔ دوسری جانب علیمہ خان عمران خان کے بیٹوں کی آمد کو نہ صرف سیاسی دباؤ کا مؤثر ذریعہ سمجھتی ہیں بلکہ اسے تحریک میں نئی جان ڈالنے کی ایک ممکنہ کوشش کے طور پر بھی پیش کرتی ہیں۔ علیمہ خان کا مؤقف جارحانہ اور سیاسی ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ بیٹوں کی آمد ایک "نیا سیاسی ہتھیار” ثابت ہو سکتی ہے مگر شاید وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہی ہیں کہ جب میدان میں رہنما ہی غیرموجود ہو تو سپاہی کتنا بھی بہادر ہو، جنگ نہیں جیت سکتا۔
تاہم، ان سب کے برعکس بشریٰ بی بی کا کردار بالکل مختلف نوعیت کا ہے وہ اس بات کی سخت مخالف ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے خاندان کا کوئی اور فرد، بالخصوص عمران خان کے بیٹے، سیاسی منظرنامے پر ابھرے یا مستقبل میں پارٹی قیادت کی طرف قدم بڑھائیں۔بشریٰ بی بی کی مبینہ مخالفت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کے اندرونی حلقے نہ صرف قیادت بلکہ وراثتی سیاست کے امکانات پر بھی منقسم ہیں۔ پی ٹی آئی کی تینوں بااثر خواتین کے ان بیانیوں کے باہمی تضاد نے نہ صرف فیصلہ سازی کے عمل کو الجھا دیا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ عمران خان کی سیاست اب خاندانی تقسیم اور ذاتی مفادات کے دباؤ کا شکار ہوتی جا رہی ہے، جو کسی بھی بڑی سیاسی تحریک کے لیے زہر قاتل ہے۔ مبصرین کے مطابق ان متضاد آراء کے بیچ عمران خان بھی خود الجھن کا شکار نظر آتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ قاسم اور سلیمان سے ملاقات کے خواہشمند تو ہیں، مگر بیٹوں کی سیاسی شرکت کے خلاف ہیں۔
ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے 5 اگست کو “فیصلہ کن احتجاج” کا تو اعلان کر رکھا ہے تاہم یہ احتجاج ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ پی ٹی آئی جس قیادت کے خلا کا سامنا کر رہی ہے، وہ صرف پارٹی کے اندر نہیں بلکہ کارکنوں اور ووٹرز کے دل و دماغ میں بھی ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ قاسم اور سلیمان کی عدم موجودگی ایک علامتی شکست ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ عمران خان کی تحریک، اب "خاندانی سطح” پر بھی غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ "جب میدان میں قدم رکھنے کو خود خان کے بیٹے تیار نہ ہوں، تو عوام کو سڑک پر لانا صرف کھوکھلی نعرے بازی بن کر رہ جاتی ہے۔”تجزیہ کاروں کے مطابق، قاسم اور سلیمان کی عدم موجودگی اس امر کی علامت ہے کہ تحریک انصاف نہ صرف قیادت کے بحران سے دوچار ہے بلکہ اس کی احتجاجی سیاست کا بنیادی بیانیہ بھی اب بکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس لئے5 اگست کی جس تحریک کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے، وہ فی الحال بیانات اور سوشل میڈیا مہمات سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کی حالیہ خاموشی اور قاسم و سلیمان کی غیرحاضری اس بات کا ثبوت بن رہی ہے کہ اب پارٹی کو صرف نعروں اور جذباتی خطابات سے نہیں، حقیقی قیادت، تدبر اور موجودگی کی ضرورت ہے — جو فی الحال کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
