کیا علیمہ خان پی ٹی آئی پر قبضے میں کامیاب ہو پائیں گی؟

 

 

 

 

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کے امکانات معدوم ہونے کے بعد پی ٹی آئی پر قبضے کیلئے جاری اندرونی لڑائی اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتی نظر آتی ہے۔سینیئر صحافی طلعت حسین کے مطابق علیمہ خان کی پی ٹی آئی کی قیادت سنبھالنے کی خواہش اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے اور وہ اس حوالے سے متحرک کردار ادا کر رہی ہیں۔ طلعت حسین کے بقول علیمہ خان کے نزدیک عمران خان کی صحت کا معاملہ ان کے پارٹی کو ٹیک اوور کرنے کی بنیار فراہم کرسکتا ہے۔ علیمہ خان اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے کسی کو بھی نظرانداز کر سکتی ہیں، تاہم طلعت حسین کے مطابق پارٹی کے اندر بہت سے لوگ علیمہ خان کے ارادوں سے آگاہ ہیں اور وہ ان کے بیانیے کو قبول نہیں کر رہے۔ جس کی وجہ سے علیمہ خان کی پی ٹی آئی پر قبضے کی خواہش تعطل کا شکار ہے۔

 

طلعت حسین کا مزید کہنا ہے کہ علیمہ خان عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی تناظر میں دیکھ رہی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ بدلتی صورتحال پارٹی قیادت میں تبدیلی کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ تاہم علیمہ خان کو پارٹی کے اندر سے تاحال شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ تاہ بوض دیگر مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کی طویل قید کی وجہ سے علیمہ خان کی پارٹی پر قبضے میں بڑی رکاوٹ ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد علیمہ خان نے جہاں پارٹی کے فیصلہ سازی میں اپنا حصہ بڑھانا شروع کر دیا ہے وہیں پارٹی کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں جبکہ پارٹی کو ٹیک اوور کرنے کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اندر بھی لابنگ شروع کر دی ہے۔ جس کے بعد جہاں پاکستان تحریک انصاف میں گروپنگ کھل کر سامنے آ گئی ہے اور پارٹی میں پھوٹ پڑنے لگی وہیں اب اس سلسلے میں علیمہ خان کو پارٹی ٹیک اوور کرنے کے باقاعدہ مشورے بھی ملنے لگ گئے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق علیمہ خان کی جانب سے تحریک انصاف کو ٹیک اوور کرنے کی کوششوں کے بعد سے پی ٹی آئی کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ علیمہ خان پارٹی کو عملا اپنے کنٹرول میں لے چکی ہیں، اور اس کی بڑی وجہ سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے علیمہ کی بتائی ہوئی پالیسی پر عمل کرنا ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خود سے اختلاف کرنے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بھی بے لگام سوشل میڈیا بریگیڈ سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنوا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے پارٹی کے اندر ایک بڑی تقسیم پیدا کر دی ہے، اسی تقسیم اور علیمہ خان کی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی وجہ سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا ایک اہم موقع بھی ضائع ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں عمران خان کی قید مزید طویل ہو گئی ہے۔

 

مبصرین کے مطابق علیمہ خان صرف سوشل میڈیا پر پارٹی کا بیانیہ طے نہیں کر رہیں بلکہ وہ اپنے بھائی اور دیگر بہنوں کے ذریعے اہم سیاسی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں جبکہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو مسلسل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ انہیں انکی پارٹی کی مرکزی قیادت نے تنہا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انکا پارٹی پر کنٹرول کمزور ہو رہا ہے، عمران کو یہ بھی فیڈ کیا جا رہا ہے کہ انکے کچھ لوگ پارٹی پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ پی ٹی آئی پر علیمہ خان کا قبضہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔ ذرائع کے بقول پارٹی کے ایک سینئر لیکن غیر منتخب رہنما کو علیمہ خان کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ ان دونوں کی قیادت میں پارٹی کے اندر ایک ایسا گروپ فعال ہو چکا ہے جو منتخب رہنمائوں بشمول   علی امین گنڈاپور، مشعال یوسفزئیم شاندانہ گلزار کو پارٹی کے آفیشل اور نان آفیشل سوشل میڈیا اکائونٹس پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ علیمہ خان کے پارتی قبضے کے مخالف ان پی ٹی آئی رہنماؤں پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ پارٹی کے سخت مؤقف سے ہٹ گئے ہیں لہٰذا انہیں ’’غدار‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق، حالیہ دنوں میں حکومت سے بامعنی مذاکرات کی ایک نئی کوشش، جسے بااثر حلقوں کی حمایت بھی حاصل تھی، علیمہ کے سخت رویے اور عمران کو دئیے گئے پیغامات کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں غیر منتخب شخصیات کی بڑھتی مداخلت اور فیصلوں کو صرف عمران کے خاندانی دائرے میں محدود کرنے سے پارٹی کی ساخت کمزور اور سیاسی مواقع ضائع ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے جہاں تحریک انصاف بند گلی میں پھنس چکی ہے وہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کیلیئے ریلیف کے دروازے بھی بند ہو چکے ہیں۔

سہیل وڑائچ نے سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے حل تجویز کر دیا

دوسری جانب بعض دیگر سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی جیل یاترا کے بعد سے پی ٹی آئی دھڑے بندی کا شکار ہوچکی ہے جس میں موروثی سیاست عروج پر ہے۔ مبصرین کے مطابق علیمہ خان چاہتی ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی جیل میں ہی رہیں کیونکہ جتنا عرصہ عمران خان اور بشری بی بی جیل میں رہیں گے علیمہ خان کو اس کا فائدہ ہوگا،کیونکہ عمران خان اور بشری بی بی کی رہائی علیمہ خان کے سیاسی سفر کا خاتمہ کردے گی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی عمران خان کی رہائی کے حوالے سے مذاکرات کی کوئی راہ ہموار ہونے لگتی ہے تو علیمہ خان اپنی لیڈری اور سیاست کو بچانے کیلئے اس میں روڑے اٹکانا شروع کر دیتی ہیں۔

 

Back to top button