کیا بشریٰ بیگم نصرت بھٹو اور کلثوم نواز جیسی سیاست کر پائیں گی؟

عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی کی جانب سے عملی طور پر پی ٹی آئی کی کمان سنبھالنے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہی موضوع زیربحث ہے کہ کیا بشریٰ بی بی تحریک انصاف کو لیڈکریں گی؟ کیا بشریٰ بی بی کو تحریک انصاف کی قیادت سنبھالنا چاہیے؟ اگر ایسا کریں تو کیا یہ تحریک انصاف کے اینٹی موروثیت بیانیہ کے خلاف نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی قیادت نے تو معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم عمرانڈو قیادت خلاف حقائق یہ دعوے زوروشور سے کرتی نظر آتی ہے کہ بشری بی بی کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں وہ صرف اپنے شوہر اور مرید خاص عمران خان کی رہائی کیلئے میدان میں ہیں عمران خان کی جیل خلاصی کے بعد وہ ایک گھریلو خاتون کا رول پی نبھائیں گی۔

مبصرین کے مطابق بشری بی بی پہلی خاتون نہیں جو پاکستانی سیاست میں آئی ہیں۔پاکستانی سیاست میں خواتین سیاستدانوں کے حوالے سے پہلا معتبر اور بڑا نام تو محترمہ فاطمہ جناح کا ہے۔ انہیں ایوب خان کی حزب اختلاف کے رہنماؤں نے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے پر مجبور کیا تھا۔ الیکشن مادر ملت جیت گئیں، مگر نتیجہ ایوب خان کے حق میں گیا۔ روزنامہ نوائے وقت نے یہ خبر دیتے ہوئے بڑی دلچسپ اور معنی خیز سرخی جمائی، لیڈ سرخی تھی ’الیکشن کمیشن نے ایوب خان کی جیت کا اعلان کر دیا‘ سمجھنے والے اس فقرے میں پوشیدہ طنز اور کاٹ سمجھ گئے۔

پاکستانی سیاست میں خواتین سیاستدانوں میں دوسرا بڑا نام بیگم نصرت بھٹو کا ہے، جو اپنے وزیراعظم خاوند ذوالفقارعلی بھٹو کی گرفتاری کے بعد سیاست میں سرگرم ہوئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اسیری کے دوران قائم مقام چیئرپرسن کے عہدے پر بیگم نصرت بھٹو کو مقرر کر دیا۔ پارٹی کے کئی سینیئر رہنما اس پر چیں بہ چیں بھی ہوئے، مگرحقیقت یہ ہے کہ پارٹی بیگم نصرت بھٹو کی قیاد ت میں متحد ہوئی۔ذوالفقار علی بھٹو کو بے بنیاد کیس میں بدقسمتی سے پھانسی ہوگئی اوریوں بیگم نصرت بھٹو جو قائم مقام کے طور پر سیاست میں متحرک ہوئیں، انہیں بھٹو لیگیسی سنبھالنا پڑی، جو بتدریج ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کو منتقل ہوگئی۔

پاکستانی سیاست میں خواتین کے کردار کی تیسری مثال اس سے کچھ پہلے کی ہے جب نیپ کے رہنما خان عبدالولی خان حیدرآباد سازش کیس میں گرفتار ہوئے، ان کی اسیری کے دوران احتجاجی تحریک کو صوبہ سرحد میں ولی خان کی اہلیہ بیگم نسیم ولی خان نے لیڈ کیا۔ اس سے پہلے وہ گھریلو خاتون تھیں، مگر ضرورت پڑنے پر وہ سر پر چادر لیے باہر آئیں اور پارٹی جلسوں سے بھی خطاب کرتی رہیں۔

جنرل ضیا کے مارشل لا کے بعد حیدرآباد سازش کیس ختم کر دیا گیا، ولی خان اور دیگر پشتون، بلوچ قوم پرست رہنما رہا ہوگئے تو بیگم نسیم ولی خان واپس گھر چلی گئیں۔ یہ اور بات کہ ولی خان نے بعد میں اپنی بیگم صاحبہ کو ساتھ رکھا اور انہیں بھرپور تکریم دی، مگر نسیم ولی خان پھر فرنٹ پر نہیں رہیں۔

1999 میں جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم میاں نواز شریف کا تختہ الٹا تو مسلم لیگ ن پر بھی سکتے کا عالم طاری ہوگیا۔ تب میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز شریف باہر آئیں اور انہوں نے اپنی پرجوش تقریروں سے لیگی کارکنوں میں ایک نئی روح پھونکی۔ کلثوم نواز شریف کا سیاسی کیریئر مختصر رہا، کیونکہ میاں نواز شریف مشرف حکومت سے ایک معاہدے کے بعد کئی برسوں کے لیے جلاوطن ہوگئے۔ بعد میں بیگم کلثوم نواز کا کردار پس منظر میں رہا۔

2018 میں عمران خان کی اقتدار میں آمد کے بعد مسلم لیگ ن کے لیے مشکل وقت شروع ہوا، تب مریم نواز شریف کا کردار بھی اہم اور نمایاں رہا۔ وہ نواز شریف کے تیسرے دور میں سیاسی طور پر ایکٹو ہوچکی تھیں، انہیں کسی حد تک میڈیا وغیرہ کو ڈیل کرنے کی غیر رسمی ذمہ داریاں بھی دی گئیں۔ پانامہ کیس اور اس کے بعد کے نیب کیسز میں مریم نواز شریف کو بھی سزا سنائی گئی۔ وہ جیل میں اسیر بھی رہیں۔ مریم نواز شریف نے رہائی کے بعد پرجوش انداز میں لیگی سیاست کو اٹھایا اور ثابت کیا کہ وہ نواز شریف کی سیاسی وارث ہیں۔

ایک زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ میاں نوازشریف کے سیاسی ورثے کے وارث ان کے بھتیجے حمزہ شہباز شریف ہوں گے، تاہم پچھلے پانچ سات برسوں میں مریم نواز شریف ٹاپ پر آ گئیں۔ واضح ہوگیا کہ اب میاں نواز شریف کی سیاسی وارث ان کی صاحبزادی ہوں گی۔ جس کسی نے پارٹی میں رہنا ہے، اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا۔ جس کو اتفاق نہیں تھا، اسے پارٹی سے باہر ہونا پڑا۔فروری 2014 کے انتخابات کے بعد مریم نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بن گئیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ اگر میاں نواز شریف کو موقعہ ملا تو وہ اگلا وزیراعظم خود بننے کے بجائے اپنی صاحبزادی کو بنائیں گے۔

بشریٰ بی بی بمقابلہ علیمہ خان: قیادت کی جنگ میں جیت کس کی ہو گی؟

تاہم اب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اسیری کے دوران پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کیلئے اپنی اہلیہ اور مرشد بشری بی بی کو سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم مصلحتا پارٹی کی قیادت بشری بی بی کو سونپنے کے حوالے سے باقاعدہ اعلان کرنے سے گریزاں ہیں تاکہ پی ٹی آئی پر موروثیت کی چھاپ نہ لگے۔ تاہم  اب یہ وقت ثابت کرے گا کہ بشری بی بی پاکستانی سیاست میں پہلے آنے والی خواتین کی طرح جمہوریت کے دفاع کیلئے میدان میں اتر کر اپنا نام بڑا کرتی ہیں یا پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست کو آگے بڑھا کر اپنا منہ کالا کرتی ہیں۔

Back to top button