کیا ڈپٹی سپیکر قاسم سوری بچ جائیں گے یا کھڑک جائیں گے؟

ڈھائی برس کے طویل انتظار کے بعد اب سپریم کورٹ آف پاکستان قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی الیکشن ٹربیونل کے ہاتھوں نااہلی کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت کرنے جا رہی ہے جس کے بعد یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ شاید الیکشن 2018 میں 52 ہزار جعلی ووٹ ڈلوانے کے الزام کا سامنا کرنے والے سوری فارغ ہو جائیں۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے الیکشن ٹربیونل کے ہاتھوں دھاندلی کے الزامات پر نااہل قرار دیے جانے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو سپریم کورٹ نے عبوری طور پر انکی درخواست کا فیصلہ ہو جانے تک بحال کیا۔ اب سپریم کورٹ 2 مارچ سے اس کیس کی سماعت شروع کرنے جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ گلزار احمد نے اپنے دور میں اس کیس کو دبائے رکھا اور اور اسکی ایک بھی سماعت نہ ہو پائی۔

اس سے پہلے ستمبر 2019 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات پر این اے 265 کوئٹہ ٹو سے قاسم سوری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا تھا اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا. نادرہ ریکارڈ کے مطابق یہ پاکستان کا واحد حلقہ تھا جہاں کہ ہاتھوں کے انگوٹھوں کے علاوہ ووٹوں پر پاؤں کے انگوٹھے کے نشانات بھی پائے گئے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ حلقہ میں ریکارڈ دھاندلی ہوئی، ایک لاکھ 14 ہزار میں سے 65 ہزار ووٹ غلط تھے۔ قاسم سوری کی انتخابی کامیابی کو نوابزادہ لشکر رئیسانی نے چیلنج کیا تھا اور 2018 انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ نادرا نے کوئٹہ کے حلقہ این اے 265 میں جیت کر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی بننے والے قاسم سوری کے انتخابات میں ووٹوں کی بائیومیٹرک تصدیق میں سنگین غلطیوں کی نشاندہی کی تھی۔

نادرا کی جانب سے بلوچستان ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ 7بویارں کھولنے پر 319 عدد کھلے ہوئے بغیر سیل پارسل پائے گئے۔ 15 پولنگ اسٹیشنوں کے خاکی تھیلے تمام بوریوں میں موجود ہی نہیں تھے جبکہ 2 ایسے پولنگ اسٹیشنز کا مواد ملا جن کا کوئی نام و نشان ہی نہیں تھا۔ نادرا رپورٹ کے مطابق بائیو میٹرک تصدیق کے دوران کل ایک لاکھ 9 ہزار 118 ووٹوں میں 1533 کائونٹر فائلز پر درج شناختی کارڈ نمبرز غلط پائے گئے جبکہ 123 کائونٹر فائلز پر شناختی کارڈ نمبرز 2 /2 بار درج تھے۔

333 کائونٹرز فائلز پر ایسے شناختی کارڈ نمبر درج ہے جو اس حلقے میں رجسٹرڈ ہی نہیں تھے۔ نادرا رپورٹ میں حلقے میں کاسٹ کئے جانے والے ووٹوں میں سے صرف 49042 ووٹوں کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 52756 ووٹوں کے انگھوٹوں کی نشان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ نادرا بلوچستان نے حلقہ این اے 265 کے 2 پولنگ اسٹیشنز اور 52756 ووٹوں کو مسترد کردیا تھا۔

کیا تحریک لبیک پھر سے حکومت کو آگے لگانے والی ہے؟

تاہم سپریم کورٹ نے قاسم سوری کی اپیل پر بلوچستان الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ عبوری طور پر معطل کردیا تھا جس کے بعد دو سال اور پانچ ماہ گزر گئے لیکن اس کیس کی سماعت نہ ہو پائی۔ تاہم اب آئے سائیں سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور چیف جسٹس گلزار احمد کی فراغت کے بعد سپریم کورٹ نے 2 مارچ کو اس کیس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ستمبر 2019 میں قاسم سوری کی نااہلی کا فیصلہ معطل کرنے والے جج موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال تھے۔

بندیال نے تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ معطل کیا تھا۔ تب عدالت میں قاسم سوری کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی کی طرف سے 50 ہزار سے زیادہ غیر تصدیق شدہ ووٹوں سے متعلق الیکشن ٹربیونل میں جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ ان کے موکل ان غیر مصدقہ ووٹوں کے ذمہ دار ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عام انتخابات میں ہونے والی بےضابطگیاں ان کے موکل سے منسوب نہیں کی جا سکتیں۔

یاد رہے کہ قاسم سوری کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی نے چیلنج کیا تھا اور 27 ستمبر 2019 کو الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ نے اس سلسلے میں فیصلہ سناتے ہوئے حلقہ این اے 265 میں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے قاسم سوری کو ڈی سیٹ کیے جانے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا تھا.

تاہم قومی اسمبلی کا اجلاس حکومتی رکن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کے بعد غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کی وجہ سے نئے ڈپٹی سپیکر کا انتخاب نہیں ہو سکا تھا۔ اس دوران قاسم سوری نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا اور اپنے خلاف الیکشن ٹریبونل کا حکم نامہ عبوری طور پر معطل کروادیا۔

Back to top button