گنڈاپور خیبر پختونخوا اسمبلی توڑیں گے یا وفاق ایمرجنسی لگائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر آئینی بحران نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت نے 30 جون تک صوبائی بجٹ کی عدم منظور پر صوبے میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے بارے مشاورت شروع کر دی ہے جبکہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور نے عمران خان سے بجٹ بارے مشاورت ہونے تک بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان کرتے ہوئے وفاق کی جانب سے صوبے میں معاشی ایمرجنسی لگانے پر صوبائی اسمبلی توڑنے کی دھمکی دے دی ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق گنڈاپور کی اسمبلی توڑنے کی دھمکیاں خالی گیڈر بھبکیاں ہیں وہ کبھی بھی اس حد تک نہیں جائیں گے۔ گنڈاپور صرف پی ٹی آئی ورکرز کو خوش کرنے کیلئے ایسے بیانات داغتے رہتے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے اور وہ مرتے مر جائیں گے لیکن اسمبلی کبھی نہیں توڑیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیارات ہیں لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ ان اختیارات کا استعمال کریں گے یا نہیں،انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت میں محمود خان نے اسمبلی تحلیل کی تھی۔ تاہم اس وقت حالات اور تھے تاہم اس بار دیکھنا ہو گا کہ اسمبلی تحلیل ہونے سے فائدہ کس کو ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں بالکل نہیں لگتا کہ علی امین گنڈاپور کبھی اپنی حکومت ختم کرنے کا سوچ بھی سکتے ہوں، ان کا بیان سیاسی ہے۔ تجزیہ کاروں کا مزید کہنا تھا کہ  علی امین کو بخوبی علم ہے کہ صوبے میں حکومت کے باعث وہ محفوظ ہیں۔ صرف وہی محفوظ نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اس وقت پوری پی ٹی آئی کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ پی ٹی آئی دوبارہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی نہیں مارے گی۔ حقیقت میں گنڈاپور ایسے بیانات دے کر عمران خان سے ملاقات کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ عمران خان نے وزیراعلیٰ، مشیر خزانہ اور سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کو مشاورت کے لیے طلب کر رکھا ہے تاہم ابھی تک پی ٹی آئی رہنماؤں کی بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہو پائی ہے۔ بجٹ شیڈول کے مطابق 24جون کو صوبائی بجٹ منظور ہونا تھا تاہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کیے بغیر خیبر پختونخوا حکومت کو بجٹ منظوری سے روک دیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا اس حوالے سے جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہنا ہے کہ میرے پاس اختیار ہے میں کسی وقت بھی اسمبلی کو تحلیل کر سکتا ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہبانی پی ٹی آئی کا آئینی، قانونی اور اخلاقی حق ہے کہ وہ بجٹ پر مشاورت کریں لیکن ان سے مشاورت کیلئے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ خیبرپختونخوا حکومت کو ختم کرنے کیلئے پوری کوشش کی جارہی ہیں اگر ہم بجٹ منظور نہیں کرتے تو وفاق صوبے پر معاشی ایمرجنسی لگا کر ٹیک اوور کر سکتا ہے۔گنڈاپور نے مزید کہا کہ میں تمام اداروں کو کھلا پیغام دے رہا ہوں مجھے حکومت کی ذمہ داری دی گئی ہے، میرے پاس اختیار ہے میں کسی وقت بھی اسمبلی کو معطل کر سکتا ہوں، اس کیلئے مجھے کسی وقت یا بجٹ کی ضرورت نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ یہ ہم سے مینڈیٹ چھین لیں گے، میں ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے ورکرز کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ پھر 9 مئی اور 8 فروری کرانا چاہتے ہیں، ورکرز تیار ہو جائیں ہم یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دینگے جب ہم  نکلیں گے تو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا بجٹ پاس ہوگا اور نہ ہی کسی اور صوبے کا بجٹ پاس کرنے دیں گے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 30جون تک بجٹ منظور نہ کرنا صوبائی حکومت کی ناکامی ہوگی تاہم خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر وفاقی حکومت آئینی ماہرین کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے لیکن تاحال اس بحران کے کس حل پر اتفاق رائے نہیں ہو سکاہے۔ دوسری جانب اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ کوشش کی جارہی ہے کہ بجٹ اپنے شیڈول کے مطابق منظور ہو، ہم چاہتے ہیں کوئی آئینی مسئلہ نہ بنے لیکن ہمارے قائد کا حکم ہے کہ مشاورت کے بغیر بجٹ منظور نہ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ بھی پالیسی بیان دے چکے ہیں اگر کوئی بحران جنم لیتا ہے تو اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہوگی۔

تاہم گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرانی تنخواہ پر کام جاری رکھیں، بانی چیئرمین سے ملاقات ہو یا نہ ہو بجٹ تو اپنے وقت پر منظور کرنا ہوگا ورنہ پی ٹی آئی قیادت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

دوسری جانب آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کا بجٹ 30 جون تک منظور کروانا حکومتی ذمہ داری ہے،کیونکہ بجٹ منظور نہ ہونے پر یکم جولائی سے سرکاری فنڈز کا استعمال رک جائے گا جبکہ معاشی بحران پر آرٹیکل 234 اور 235 کے تحت وفاق صوبے میں ایمرجنسی لگا سکتا ہے۔دوسری جانب  گورنر 30 جون تک بجٹ منظوری نہ ہونے پر وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا بھی کہہ سکتے ہیں،

 

Back to top button