کیا گنڈا پور کا پشاور جلسہ پنڈی کے قیدی کو رہا کروا پائے گا؟

 

 

 

26 نومبر 2024 کو اسلام آباد دھرنے کی ناکامی کے نتیجے میں اپنی سٹریٹ پاور کے خاتمے کے بعد سے تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے مسلسل احتجاج کی کالز تو دیتی رہتی ہے لیکن ایک بھی احتجاج کامیاب نہیں ہو پایا۔ ایسے میں اب وزیراعلی خیبر پختون علی امین گنڈا پور نے ایک نیا حربہ آزماتے ہوئے 27 ستمبر کو پشاور میں عمران کی رہائی کے لیے ایک جلسے کا اعلان کیا ہے ۔ اس جلسے میں عوامی شرکت یقینی بنانے کے لیے انہوں نے یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ اسکا ایک اور مقصد خیبر پختون خواہ میں جاری فوجی آپریشن کی مذمت کرنا بھی ہے۔

 

اس جلسے کے تمام تر انتظامات کی نگرانی وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور خود کررہے ہیں جو 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد کے دھرنے سے چوری چھپے جوتیاں اٹھا کر بشری بی بی کے ہمراہ فرار ہو گئے تھے۔ اب موصوف میں اتنی جرات نہیں کہ دوبارہ اسلام آباد کا رخ کریں اور وہاں جلسہ کر سکیں لہذا انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ پشاور میں احتجاج کروا کر راولپنڈی سے عمران خان کو رہا کروایا جائے۔ لیکن گنڈاپور کو چونکہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی یقین نہیں کہ لوگ پشاور کے جلسے میں بھی بڑی تعداد میں شامل ہوں گے لہذا انہوں نے چالاکی دکھاتے ہوئے جلسے کا ایک اور مقصد کے پی میں آپریشن کے خلاف احتجاج بتایا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں وادی تیرہ میں پراسرار دھماکوں میں 24 افراد کی ہلاکتوں کے بعد صوبے میں احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں جنہیں گنڈا پور نے کیش کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گنڈاپور مسلسل فوج کے مقابلے میں طالبان کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں جو بنیادی طور پر عمران خان کی پالیسی ہے۔ عمران کا موقف ہے کہ چونکہ طالبان کی فوج سے لڑائی ہے لہذا دشمن کا دشمن اپنا دوست سمجھنا چاہیے۔

 

علی امین گنڈا پور کے اعلان کے مطابق عمران کی رہائی کے لیے جلسہ پشاور کی رنگ روڈ کے کبوتر چوک پر اسی مقام پر منعقد ہوگا، جہاں چند برس قبل بانی نے نے اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد جلسہ کیا تھا۔ تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح پشاور کا یہ جلسہ بھی ناکامی سے دوچار ہوگا چونکہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین کی ہدایت پر خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ میں شامل نوجوان رہنما سہیل آفریدی جلسے کے انتظامات دیکھ رہے ہیں۔ سہیل کا تعلق آفریدی قبیلے سے ہے جو کہ تیراہ وادی میں 24 ہلاکتوں پر سب سے زیادہ احتجاج کر رہا ہے۔ آفریدی قبیلے سے تعلق رکھنے والا پی ٹی آئی کا ایک رکن قومی اسمبلی اور دو اراکین خیبر پختون خواہ اسمبلی عوامی احتجاج میں سب سے آگے ہیں لہذا امید کی جاتی ہے کہ 27 ستمبر کو پشاور کے جلسے میں سب سے زیادہ تعداد انہی لوگوں کی ہوگی۔

 

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جلسے کا بنیادی مقصد تو عمران خان کی رہائی ہے لیکن فوجی آپریشن کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا بھی لازمی ہے جس کی وجہ سے سویلین بھی مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جلسے کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور ورکرز عمران کی رہائی کے لیے پرجوش ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک تاریخی جلسہ ہوگا، آخری بار عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد خود اسی جگہ جلسہ کیا تھا، یہ جلسہ بھی اتنا ہی بڑا ہوگا۔‘

 

سہیل آفریدی نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ جلسہ پشاور اور اس کے نواحی علاقوں کے لیے ہے، جس میں پشاور کے قریبی اضلاع سے ورکرز اور مرکزی و صوبائی قائدین شرکت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جلسہ عمران خان کی ہدایت پر ہو رہا ہے، جس میں قائدین ان کی ہدایت کے مطابق آئندہ کے لیے لائحہ عمل بھی اعلان کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا اور آخری جلسہ نہیں ہے۔ عمران کی رہائی اور حقیقی آزادی تک ہم اپنا جدوجہد جاری رکھیں گے، اور یہ بھی اسی تحریک کا حصہ ہے۔‘

 

پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور سابق اسپیکر اسد قیصر کے مطابق ‘ریلیز عمران خان’ پشاور جلسہ عمران خان کی رہائی اور عوامی حقوق کے لیے ہو رہا ہے، جس کا مقصد خیبر پختونخوا میں آپریشن بند کرانا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان چاہیں تو کل ہی رہا ہو سکتے ہیں۔  وہ اگر اسٹیبلشمنٹ کی دو تین باتیں مان لیں تو کل ہی رہا ہو سکتے ہیں۔ لیکن اسد قیصر کا کہنا تھا کہ عمران آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں اور اور اسی لیے کسی قسم کی رہائی کی ڈیل کرنے سے انکاری ہیں۔ تاہم اسد قیصر نے یہ نہیں بتایا کہ عمران خان اگر ڈیل نہیں کرنا چاہتے پچھلے دو برس سے صرف اور صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی بھیک کیوں مانگ رہے ہیں۔

 

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی علی مین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عمران خان کو کسی ڈیل کے ذریعے نہیں بلکہ عوامی طاقت کے ذریعے رہا کروایا جائے گا اور پشاور میں 27 ستمبر کو ہونے والا جلسہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انک کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کا مقصد ملک میں رائج ہائبرڈ نظام سے بغاوت بھی ہے، 27 ستمبر کو پارٹی کے ورکرز لاکھوں کی تعداد میں باہر نکلیں گے اور کہیں گے کہ انہیں اس ملک میں ہائبرڈ نظام قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو ناجائز آپریشن ہو رہے ہیں وہ منظور نہیں۔ ’ 27 ستمبر کو پشاور میں ہونیوالا جلسہ عوام کا جلسہ ہے، اس لیے تمام پاکستانیوں بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام سے کہتا ہوں کہ اپنے حقوق کے لیے نکلیں۔‘

 

علی امین گنڈاپور سمیت تحریک انصاف کی قیادت ہوم گراؤنڈ میں ایک تاریخی جلسہ کرنے کا دعویٰ تو کر رہی ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک موجودہ حالات میں کامیاب جلسہ کروانا پارٹی قیادت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی شہاب الدین کے مطابق پی ٹی آئی ایک ایسے وقت میں عمران خان کی رہائی کے لیے جلسہ کر رہی ہے جب ورکرز قیادت سے مایوس نظر آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ورکرز عمران خان کے ساتھ ہیں، لیکن مسلسل احتجاج اور قیادت کی غائب ہونے  سے ورکرز کا اب بھروسہ کم ہو گیا ہے اور وہ نکلنے میں ہچکچا رہے ہیں۔‘

 

شہاب الدین نے بتایا کہ پی ٹی آئی ماضی میں بڑے جلسے کرتی تھی لیکن اب وہ ماضی کا حصہ ہیں اور اب صورتحال مختلف ہے۔ ’رنگ روڈ پہ جلسہ ہے، لوگ زیادہ نظر آئیں گے اور علی امین کامیاب جلسے کا دعویٰ کریں گے۔‘ انہوں نے بتایا کہ علی امین کے پاس پیسہ اور اختیار ہے، وہ اراکین اور کابینہ اراکین سے ورکرز نکالوا سکتے ہیں، اور اسی لیے انہوں نے جلسے کا اعلان خود کیا ہے۔

 

لیکن سینیئر صحافی ظفر اقبال کے نزدیک بھی 27 ستمبر کا جلسہ زیادہ متاثر کن نہیں ہوگا کیونکہ پی ٹی آئی میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ورکرز اور قیادت میں اعتماد کا فقدان ہے۔ ورکرز کو قیادت پر بھروسہ نہیں ہے، اور قیادت ورکرز کے تحفظات دور کرنے کی کوشش نہیں کر رہی۔ ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کے جلسے میں دو چار ہزار لوگ شریک ہوں گے لیکن گنڈاپور یہ دعوی کریں گے کہ لاکھوں لوگ شریک ہوئے اور جلسہ کامیاب رہا، ان کا کہنا تھا کہ جتنے لوگ عمران خان کے جلسوں میں شریک ہوتے تھے اتنی تعداد میں لوگوں کا نکالنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روز روز ناکام جلسے کر کے عمران خان کی آتما رولنے سے بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔

 

Back to top button