اگراسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہی تو عدم اعتماد کا مستقبل کیا ہوگا؟

تحریر: حامد میر

اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت، دونوں کا سیاسی مستقبل اس وقت اس ایک اہم ترین سوال سے جڑا ہے کہ ملکی سیاست کا پہیہ گھمانے والی طاقتور ترین فوجی اسٹیبلشمنٹ دونوں میں سے کس کا ساتھ دے گی۔ اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اگر مقتدر قوتوں نے اپوزیشن کا ساتھ دیا تو اسکی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی لیکن اگر وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کو رام کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ اپنے اقتدار کے پانچ سال پورے کر کے جائیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملکی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک تب ہی کامیاب ہوئی ہے جب اسے اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہوئی ہے اور وہ بھی خاموش طریقے سے نہیں بلکہ کھل کھلا۔ تاہم شاید یہ ملکی سیاسی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ حزب اختلاف نے کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاتے ہوئے ساتھ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس مرتبہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہے گی اور اگر ایسا ہوا تو وہ عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

دوسری جانب حکومتی وزراء بار بار یہ دعوی کر رہے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ ہے اور وہ اپوزیشن کی سازش کا حصہ نہیں بنے گی۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں اگر اپوزیشن کی بات مان لی جائے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے تو پھر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ماضی کی طرح اب بھی وزیر اعظم کے ساتھ کھڑی ہے، اس بار فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی میں حکومت اور فوجی قیادت کے مفادات ایک ہوتے تھے لیکن اس بار عمران خان نے کمانڈر پر اپنے آئینی اختیارات کی بندوق تان رکھی ہے اور اسے اپنا ساتھ دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے آنے والی اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا پلان حزب اختلاف نے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ نے تیار کیا تھا جس کا بنیادی مقصد ایک اور توسیع حاصل کرنا تھا۔ تاہم جب وزیراعظم کو یہ خبر ملی کہ نیوٹرل ہونے کے دعوے کے باوجود فوجی اسٹیبلشمنٹ کا جھکاؤ اپوزیشن کی جانب ہے تو انہوں نے خطرناک ہو جانے کی دھمکی دہرا دی اور ایسی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں کہ وزیراعظم نے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن سائن کر کے رکھ دیا یے۔

لہذا کہا جاتا ہے کہ فوجی قیادت کو فوری طور پر پیچھے ہٹنا پڑا جس کے بعد جہانگیر خان ترین بیرون ملک روانہ ہوگئے اور گجرات کے چوہدریوں نے دوبارہ حکومت کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم ظاہر کر دیا۔ لہذا اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ہاتھ ہونے کا امکان پیدا ہو گیا یے۔

بجلی کی قیمت میں 5 روپے 94 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری

موجودہ حالات میں وزیر اعظم کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا ایک اور راستہ ان کے خلاف الیکشن کمیشن میں زیر سماعت تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس ہے جس کی سماعت مارچ کے پہلے ہفتے سے شروع ہونے جا رہی ہے اور جلد فیصلہ کا امکان ہے۔ کپتان حکومت کے خاتمے کی امید لگائے اپوزیشن ذرائع اب اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ شاید ان کے تحریک عدم اعتماد لانے سے پہلے ہی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہو جائے اور اور کپتان گھر چلا جائے۔

لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں اور اگر ایسا کوئی فیصلہ آیا تو عمران خان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان کوئی ایسا فیصلہ دے بھی دے تو یہ معاملہ سپریم کورٹ جائے گا جہاں حتمی فیصلہ ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عمران خان اور اپوزیشن دونوں کے مستقبل کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں یے اور آخری فیصلہ اسی نے کرنا ہے۔ تاہم مقتدر حلقوں کے لیے بڑی مشکل عمران خان کے آئینی اختیارات ہیں جن کے تحت وہ وہ کسی بھی وقت نیا فوجی سربراہ مقرر کر سکتے ہیں لہذا اسٹیبلشمنٹ کھل کر اپوزیشن کا ساتھ نہیں دے پا رہی۔ وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کے حواکے سے جاری سیاسی سرگرمیوں سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست دان کامیابی کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

وجہ یہ ہے کہ عمران کے اتحادیوں کو توڑے بغیر معاملہ بنتا نہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلنے والی حکومت کی اتحادی جماعتیں قاف لیگ اور ایم کیو ایم واضح الفاظ میں بتا چکی ہیں کہ انہیں کوئی اشارہ نہیں ملا لہذا وہ اب تک حکومت کے ساتھ ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اپوزیشن نے حکمران جماعت تحریک انصاف کے اندر سے ایک فارورڈ بلاک کے سامنے آنے کی امید لگائی تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کی وجہ سے ابھی تک ایسا نہیں ہو پایا۔

اس دوران جہانگیر ترین بھی علاج کی غرض سے بیرون ملک روانہ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب چوہدری پرویز الہی بھی اپوزیشن کے ساتھ معاملات تقریبا طے کر لینے کے بعد اب دوبارہ ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ حکومت کے اتحادی ہیں اور اور وزیر اعظم اپنی پانچ سالہ اقتدار کی مدت پوری کریں گے۔

 لیکن عجیب بات یہ ہے کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے پر بھی راضی نہیں ہے اور چاہتی ہے کہ وہ کھل کر اس کا ساتھ دے۔ جب عمران کابینہ کے ایک اہم رکن سے اسٹیبلشمنٹ کی غیر جانبداریت پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ نیوٹرل اسٹیبلشمنٹ حکومت کیلئے موزوں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو جائے تو اسکا مطلب حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ کہ ق لیگ کے لیڈر کامل علی آغا نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ جب اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو جائے تو حکومت کیلئے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ وزیر داخلہ شیخ رشید بھی بار ہا کہہ چکے ہیں کہ عمران خان حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے۔

انہوں نے تو یہ تک کہا ہے کہ اپوزیشن والوں کو اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ان کی گردن پر نظر آئے گا۔ دوسرے دن ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے لیکر ایک عام سپاہی تک ہر کوئی وزیراعظم عمران خان کے پیچھے کھڑا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کا ہر شہری بھی عمران خان کے پیچھے کھڑا ہے‘ ۔

دوسری جانب ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے منصوبے پر نواز لیگ کے اندر بھی تحفظات پائے جاتے ہیں اور لیگی سیاستدانوں کا ایک بڑا گروپ اسے ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی نفی قرار دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شہبازشریف نے بڑی منت سماجت کے بعد نواز شریف کو تحریک عدم اعتماد لانے پر راضی کیا تھا اور یہ یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ ان کی تحریک کامیاب ہو گئی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

اس سے پہلے 2019 میں بھی شہباز شریف نے نواز شریف کو اس بات پر راضی کیا تھا کہ جنرل باجوہ کی توسیع کے حق میں ووٹ دیا جائے تاکہ عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کیا جا سکے۔ پیپلز پارٹی کو بھی کچھ ایسی ہی یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں۔ تاہم توسیع کے بعد اسٹیبلشمنٹ دوبارہ سے عمران حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور اپوزیشن کے ساتھ پھر دھوکا ہو گیا۔

 افسوسناک بات ہے کہ کچھ اپوزیشن لیڈر ایسے بھی ہیں جو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تصادم کا انتظار کر رہے ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں کہ ایسے کسی بھی اقدام کی وجہ سے عمران حکومت کو ہٹانے میں مدد ملے گی۔ لیکن دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار اس خدشہ کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر عمران خان اور فوجی قیادت کے مابین کسی مس ایڈونچر کی صورت میں کوئی تصادم ہوا تو اس کے نتیجے میں ملک میں مارشل لاء کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

Back to top button