کیا عمران ریلیف کیلئے سیاسی ایڈجسٹمنٹ کرنے میں کامیاب ہوں گے ؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ عمران خان کی دوغلی سیاست کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس محمود خان اچکزئی کو اپنا صدارتی امیدوار بنایا جس کا وہ خود چادر اوڑھ کر جلسوں میں مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آج پی ٹی آئی اسی مولانا فضل الرحمن کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ترلے کر رہی ہے جن کے خلاف عمران خان جلسوں میں مولانا ڈیزل کے نعرے لگواتے تھے۔ ماضی میں عمران نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے جن رہنماؤں کو چور اور ڈاکو قرار دیتے رہے، بعد میں انہی کو پی ٹی آئی میں شامل کر لیا۔ قصہ مختصر یہ کہ عمران خان کے انصاف، میرٹ اور تبدیلی کے نعرے بھی صرف ایک ڈھکوسلہ ہی تھے۔
سینیئر صحافی اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر آصف زرداری کے خطاب پر وزیراعظم تالیاں بجا رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ پاکستانی سیاست ہو یا عالمی‘ سیاستدان کی کھال موٹی ہونی چاہیے۔ کچھ بھی ہو جائے آپ نے لوگوں اور میڈیا کی پروا نہیں کرنی۔ عوام اور میڈیا کے پاس اور کیا آپشن ہے؟ ایک پارٹی کو ووٹ کے ذریعے ہٹائیں گے تو چار پانچ سال بعد اسی پارٹی کو واپس لے آئیں گے جس سے ناراض ہو کر اس کے مخالفین کو ووٹ ڈالا تھا۔ لہٰذا آپ نے اپنی ڈگر سے نہیں ہٹنا۔ آپ نے ڈھیٹ بنے رہنا ہے۔ اپنے بدترین سیاسی مخالفوں کے ساتھ بھی وقت پڑنے پر ساتھ مل جانا ہے۔ اس بات کی پروا نہیں کرنی کہ آپ کا سیاسی مخالف ماضی میں آپ کے بارے میں کیا کہتا یا کرتا رہا ہے۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ بعض لوگ اسے جمہوریت اور سیاست کی خوبصورتی کہیں گے کہ جو لوگ کل تک لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر ایکدوسرے کو گھسیٹنے کی باتیں کرتے تھے آج وہی لوگ ایک اتحادی حکومت چلا رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا سیکھا ہے‘ یہی سیاست ہے اور یہی جمہوریت ہے۔ دوسری جانب عمران خان برسر اقتدار آئے تو انہوں نے دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کا رگڑا نکالنا شروع کر دیا۔ اخلاقیات ایک طرف رکھ کر عمران نے سب سے پہلے ان سیاسی مخالفین کو اپنی پارٹی میں شامل کیا جنہیں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے۔ شیخ رشید جیسے مخالفین جو اُن کی فیملی لائف پر ٹی وی شو میں گفتگو کرتے تھے انہیں اپنی حکومت میں وزیر داخلہ بنا دیا۔ جس نے بھی عمران کو ماضی میں گالی دی تھی، خان نے اسے اپنا وزیر بنا لیا‘ جسے عمران خان کرپٹ سمجھتا تھا اسے اعلیٰ عہدوں سے نوازا اور یوں خان بھی ہر قیمت پر ملک کا بادشاہ بن گیا۔ ان کے لیے بادشاہ بننا اہم تھا، نہ کہ اقدار یا اخلاقیات پر مبنی سیاست کرنا۔ خان نے دنیا سب نالائق اور کرپٹ ڈھونڈ کر انہیں اپنے ساتھ ملایا اور حکومت ان کے حوالے کر دی‘ چاہے وہ پنجاب کی ہو یا خیبر پختونخوا کی۔ مجال ہے عمران کسی قابل اور ذہین آدمی کو اپنے قریب آنے دیں یا عہدہ دیں۔
تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کی رہائی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتی؟
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ آپ اعلیٰ عہدوں کیلئے عمران خان کی چوائس دیکھ لیں تو اندازہ ہو جائے گا وہ ملک کو عظیم بنانے کے جو نعرے لگاتے تھے ان میں وہ کتنے سنجیدہ تھے۔ اب کوئی کہے گا کہ سیاست میں مفاہمت چلتی ہے لہٰذا شریفوں اور زرداری نے کر لی یا خان اور مولانا فضل الرحمن نے کر لی تو کون سی قیامت آ گئی۔
ہمارے پیارے دوست میجر عامر ایک قصہ سناتے ہوتے ہیں کہ گائوں کا ایک بندہ دنگا فساد اور پھڈوں کی وجہ سے بار بار جیل جاتا تھا۔ آخری دفعہ جیل سے ضمانت پر باہر آنے لگا تو اپنے ساتھی قیدی کو کہا: بیرک میں میری جگہ پر کسی اور قیدی کو نہ سونے دینا۔ چند دنوں بعد پھر میرا پھڈا ہوگا اور میں پھر یہیں ہوں گا۔ چند ماہ گزر گئے لیکن وہ بندہ جیل واپس نہ آیا۔ اس پر اس قیدی نے اپنے پرانے دوست کو کسی کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ بدبخت میں تو دس قیدیوں سے لڑ چکا ہوں جو تمہاری جگہ لینا چاہتے تھے‘ تم اب تک نہیں آئے۔ جواب میں اس بندے نے قیدی دوست کو پیغام بھیجا کہ تم میری جگہ کسی اور کو دے دو کیونکہ میں نے اب گائوں میں ایڈجسٹ ہو کر رہنا سیکھ لیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا عمران بھی کوئی سیاسی ایڈجسٹمنٹ کر پائیں گے یا نہیں۔
