کیا آرمی چیف کے نام عمران کا خط فوج کو مزید تقسیم کرے گا؟

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو لکھا گیا خط دراصل اسٹیبلشمینٹ کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے جس سے فوجی قیادت اور بانی پی ٹی آئی کے مابین جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ انکا کہنا ہے کہ اسی لیے اس خط کو فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی سازش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں کبوتروں سے خط بھیجنے کا کام لیا جاتا تھا کچھ لوگ آج بھی کبوتروں سے یہ کام لیتے ہیں حالانکہ خط لکھنا اور لکھوانا آؤٹ آف فیشن ہو چکاہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون نے محبت کرنے والوں کا کام آسان کر دیاہے ۔ آج کے دور میں آپ کا محبت نامہ پلک جھپکتے اسکے پاس پہنچ جاتا ہے، جسے آپ اپنا حال دل سنانا چاہتے ہیں لیکن عمران خان نے عجیب کام کیا! موصوف نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ایک خط لکھا جو ان تک پہنچا ہی نہیں۔ اڈیالہ جیل کے سپرٹینڈنٹ کا تو یہ دعوی ہے کہ عمران خان کی جانب سے نہ تو کوئی خط لکھا گیا اور نہ ہی بھجوایا گیا، لیکن تحریک انصاف والوں کا اصرار ہے کہ خط لکھا گیا ہے، خان صاحب نے جیل میں سجائی گئی ایک عدالت میں موجود صحافیوں کو خود ہی اس خط کے بارے میں بتایا اور پوری دنیا میں شور مچ گیا۔ ہر کسی نے اس خط کے مندرجات پر اپنی اپنی پسند کا تبصرہ کیا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ ان سے بھی کئی دوستوں نے پوچھا کہ آپ کا عمران کے اس خط پر کیا خیال ہے ؟میں نے کہا پہلے مجھے خط دکھاؤ، خط کسی کے پاس نہیں تھا ۔نہ تو خط لکھنے والے نے خط کی نقل جاری کی اور نہ ہی کہیں خط وصول ہوا لیکن خط پر دھڑا دھڑ تبصرے شروع ہو گئے۔ دل میں خیال آیا کہ شائد عمران خان کا کبوتر جنرل عاصم منیر کے بجائے جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کے گھر خط نہ دے آیا ہو لیکن باجوہ صاحب کے قریبی دوستوں نے بتایا کہ ایسا کوئی کبوتر ان کے پاس نہیں پہنچا۔
سینیئر صحافی کے مطابق عمران خان چاہتے تو بیرسٹر گوہر خان یا علی امین گنڈا پور کے ذریعےاپنا پیغام آرمی چیف تک پہنچا سکتے تھے لیکن انہوں نے ان دونوں کو اپنا کبوتر کیوں نہیں بنایا ؟شاید انہوں نے کھلا خط بھجوانے کی کوشش کی ہے کیونکہ خط کے مندرجات میں کوئی نیا نکتہ نظر نہیں آتا۔ خان صاحب نے خط میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ریاستی اداروں سے محاذ آرائی نہیں چاہتے لیکن عوام اور اداروں میں فاصلے پیدا ہونے کی کچھ وجوہات ہیں جو 8 فروری 2024ء کے الیکشن سے شروع ہوتی ہیں اور 26ویں آئینی ترمیم کے بعد پیکا ترمیمی ایکٹ کی صورت میں بڑھتی جا رہی ہیں۔ عمران کہتے ہیں کہ یہ فاصلے ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ اپنی پالیسی تبدیل کریں لیکن دوسری جانب سے جواب آیا ہے کہ نہ تو ہمیں کوئی خط ملا ہے اور نہ ہی ہم کسی خط کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ ملٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اگر کوئی خط لکھنا چاہتے ہیں تو حکومت وقت کو لکھیں چونکہ سیاست فوج کا کام نہیں۔
عمران نے جیل سے کوئی خط نہیں لکھا، اصل میں خط کس نے لکھا ؟
حامد میر کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خط کے جواب میں ہمیں کسی قاصد کی لاش تو دکھائی نہیں دے رہی لیکن شک گزر رہا ہے کہ خان صاحب نے اپنے کھلے خط کے ذریعہ ایک خطرناک کھیل شروع کر دیا ہے ۔ان کے خط کو فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی سازش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ خان صاحب نے حالیہ دنوں میں صرف آرمی چیف نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان کے نام بھی ایک خط بھیجا ہے۔ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ مزید خطوط بھی لکھیں۔ لیکن سوال یہ یے کہ عمران خان کو تو خط کا جواب ہی نہیں ملا پھر وہ دوبارہ خط کیوں لکھیں گے؟
سینئیر صحافی کہتے ہیں کہ بات دراصل یہ ہے کہ جس طرح خان صاحب نے میڈیا کے ذریعہ ایک کھلا خط آرمی چیف کو بھجوایا لیکن خط کی نقل جاری نہیں کی اسی طرح دوسری طرف سے بھی باقاعدہ جوابی خط تو جاری نہیں کیا گیا لیکن ’’عسکری ذرائع‘‘ کے حوالے سے جوابی پیغام تو جاری کیا گیا ہے۔ عمران نے جنرل عاصم منیر کے نام خط میں پیغام دیا ہے کہ اگر مجھ پر کوئی الزام ہے تو جوڈیشل کمیشن سے انکوائری کروا لیں اور اگر میں آپ پر کوئی الزام لگا رہا ہوں تو اسکی بھی جوڈیشل انکوائری کروا لیں۔ خان صاحب کے اس کھلے خط میں دراصل فوج کے خلاف ایک چارج شیٹ موجود ہے جو محاذ آرائی کی چنگاریوں کو شعلے بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس سے عمران اور فوج کے مابین بڑھتی ہوئی محاذ آرائی میں مذید اضافہ یو گا جو دونوں میں سے کسی کے فائدے میں نہیں۔ا
