کیا مولانا اور عمران مل جل کر شہباز کو ٹف ٹائم دے پائیں گے؟

ماضی میں ایک دوسرے کو مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ جیسے القابات سے نوازنے والے عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن شہباز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں ایک دوسرے کے ساتھ ملکر چلنے کے خواہشمند ہیں تاہم پاکستان تحریک انصاف مولانا فضل الرحمٰن کو حکومت مخالف تحریک میں شامل کرنے کے لیے راضی نہیں کرسکی۔جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی قیادت نے مولانا فضل الرحمٰن کو تحریک انصاف سے ہاتھ ملانے کی مخالفت کردی ہے، جس پر مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی وفد کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے تحریری یقین دہانیاں مانگ لی ہیں۔

ذرائع کے مطابق26ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کرنے پر مولانا فضل الرحمن کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے والے یوتھیے رہنما ایک بار پھر جے یو آئی قیادت کے ترلوں پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن اپنی رہی سہی ساکھ کا جنازہ نکالتے ہوئے قیدی نمبر 804 کی ہچکولے کھاتی گاڑی کو ڈیزل فراہم کرنے پر آمادہ ہیں تاہم مولانا کو اپنے اس فیصلے پر جماعت کے اندر سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

تاہم ذرائع کا دعوی ہے کہ ماضی میں ایک دوسرے کو مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ قرار دینے والے عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن شہباز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کیخلاف ایک پیج پر آ گئے ہیں۔ مولانا کی جانب سے اپنے سخت سیاسی مخالف سے ایک بار پھر ہاتھ ملانے کی خواہش پر جہاں سوشل میڈیا پرانھیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں ناقدین اس ممکنہ اتحاد کو مجبوری کی شادی قرار دے رہے ہیں۔تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے مل کر حکومت مخالف احتجاج سے زیادہ فائدہ کس پارٹی کو ہوگا اور کیا یہ احتجاج شہباز حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب ہو گا؟

سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق اگر پی ٹی آئی اور جے یو آئی مل کر احتجاج کرتے ہیں تو اس کا زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا اور اس کی طاقت میں بھی اضافہ ہو گا، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہی احتجاج کامیاب تصور کیا جاتا ہے جس میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہو، جے یو آئی کے پاس اگرچہ اسٹریٹ پاور زیادہ ہے تاہم وہ اس کا مظاہرہ نہیں کرے گی تاکہ پی ٹی آئی والے اسے کیش نہ کروا سکیں۔مجیب الرحمان شامی کا مزید کہنا ہے کہ اگر جے یو آئی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مل کر احتجاج کرے گی تو ایک دلچسپ چیز سامنے آئے گی کہ جے یو آئی کا عام انتخابات میں جن نشستوں پر دھاندلی کا الزام ہے اس میں سے بیشتر نشستیں خیبرپختونخوا کی ہیں اور وہاں پی ٹی آئی کامیاب ہوئی ہے، تو جے یو آئی کیسے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر احتجاج کرے گی؟مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان اس اتحاد کو وسیع کرتے ہیں اور ایک بڑی سیاسی مفاہمت کی بنیاد رکھتے ہیں تو اس کا فائدہ پورے ملک کو ہوگا، اس طرح دیگر پارٹیاں بھی اس میں شامل ہوسکیں گی، اگر سیاسی جماعتیں یہ طے کر لیں کہ آئندہ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد کرانا ہے تو یہ ایک مثبت عمل ہوگا اور اس سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا۔

اپوزیشن کے مل کر احتجاج کرنے اور حکومت کو ٹف ٹائم ملنے سے متعلق سوال پر مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ جب حکومت ایک مرتبہ قائم ہوجاتی ہے تو اسے صرف پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد لانے، مارشل لاء نافذ کرنے یا عدلیہ کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے، اس وقت عدلیہ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ منتخب حکومت کو گھر بھیجے، اگر احتجاج کرنے والوں کو فوج کی سپورٹ نہ ہو تو کیسے منتخب حکومت کو گھر بھیجا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور جے یو آئی مل کر احتجاج کرنے پر اتفاق کر لیتے ہیں تو اس کا اصل فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا، اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے پاس اسمبلیوں میں نشستیں زیادہ اور جے یو آئی کے پاس کم ہیں لیکن احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے جے یو آئی کا سیاسی وزن پی ٹی آئی سے زیادہ ہے جس کا وہ بھر پور استعمال کرے گی۔انصار عباسی کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج حکومت کو کتنا ٹف ٹائم دے گا اس کا تعلق احتجاج سے نہیں ہوتا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہے، 2014ء کے دھرنے میں اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ تھی لیکن اب اسٹیبلشمنٹ حکومت کے پیچھے کھڑی ہے، اس لیے احتجاج کرنے والوں کا حکومت کو ٹف ٹائم دینا مشکل ہوگا، حکومت کو ٹف ٹائم اپوزیشن کا احتجاج نہیں بلکہ مشکل معاشی حالات ضرور دے سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی فوج سے مذاکرات کی امید پوری کیوں نہیں ہو پائی ؟

 تاہم دوسری جانب جے یو آئی ذرائع کا دعوی ہے کہ سابق اسپیکر اسد قیصر،تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی سمیت مختلف اپوزیشن رہنما مولانا فضل الرحمٰن کو راضی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم ابھی تک تحریک انصاف حکومت کے خلاف تحریک میں مولانا فضل الرحمٰن کو شامل کرنے کے لیے راضی نہیں کرسکی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کو قائل کرنے کے لیے مزید رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جے یو آئی کے ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کے مرکزی قائدین نے مولانا فضل الرحمٰن کو پی ٹی آئی سے ہاتھ نہ ملانے کا مشورہ دے دیا ہے ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے بااختیار وفد سے بات چیت کرنے پر اتفاق کیا ہے اور جن امور پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اس پر انھوں نے پی ٹی آئی قیادت سے تحریری یقین دہانی اور ضمانت مانگ لی ہے۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں دونوں جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے قریب اور ایک دوسرے کے خلاف رہی ہیں، اتحاد دونوں کی ضرورت ہے لیکن یہ اتحاد غیر فطری ہے۔ کیونکہ جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کو مستقبل میں احتجاج کیلئے جے یو آئی کی مدد کی ضرورت ہو گی جبکہ مولانا کا مسئلہ یہ ہے کہ گذشتہ انتخابات میں مولانا کو خیبرپختونخوا میں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس شکست کی بڑی بینیفیشری تحریک انصاف ہے۔ اس لئے دونوں جماعتوں کا ملکر آگے بڑھنا ناممکن نظر آتا ہے اور لگتا یہی ہے کہ مولانا اس وقت صرف اور صرف مختلف اقدامات کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ حساب برابر کر رہے ہیں۔

Back to top button