مولانا فضل کپتان کے ساتھ جائیں گے یا شہباز سے یاری نبھائیں گے؟

تحریک انصاف کی جانب سے مولانا فضل الرحمن سے پیار کی پینگیں بڑھانے کے بعد اب حکومت بھی سربراہ جے یوآئی کو رام کرنے کیلئے متحرک ہو چکی ہے۔ جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں بار بار مولانا کے در پر ماتھا ٹیکتی دکھائی دیتی ہیں وہیں اب وزیر اعظم شہبازشریف نے ساتھیوں کے ہمراہ خود ملاقات کر کےمولانا کو ان کے تمام تحفظات کے ازالے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان ابھی حکومت یا اپوزیشن میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کی کھل کر حامی نہیں بھریں گے بلکہ وہ اس وقت ایک تیر سے دو شکار کرنے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ جہاں وہ بار بار پی ٹی آئی رہنماؤں کے پھیرے لگوا کر اپنی ماضی کی بے عزتی کا بدلہ لے رہے ہیں وہیں وہ شہباز شریف، نواز شریف اور آصف زرداری سے بے وفائی کا بدلہ بھی لینے کے خواہشمند ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے بھی خود کو ایک سیاسی طاقت کے طور پر منوانا چاہتے ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق اب خود چل کر وزیر اعظم شہباز شریف کے ان کے گھر آمد کے بعد مولانا تذبذب کا شکار ہو گئے ہیں کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہاتھ ملائیں یا سابق اتحادی جماعت نون لیگ کے ساتھ جانے کا فیصلہ کریں؟

خیال رہے کہ شہباز شریف حکومت طویل تگ و دو کے بعد بمشکل معاشی بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوئی ہے  تاہم اب پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن میں شامل سیاسی جماعتوں نے حکومت کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ہے اور مبینہ الیکشن دھاندلی کو جواز بناتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اپوزیشن کے احتجاجی تحریک شروع کرنے کے اعلان نے بحرانوں میں گھری شہباز حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر شہباز شریف مولانا کو منانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو جے یو آئی کی تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک میں عدم شمولیت سے جہاں شہباز حکومت کو ریلیف ملے گا وہیں حکومت کیلئے اپوزیشن کی احتجاجی تحریک سے نمٹنا بھی آسان ہو گا۔ مبصرین کے مطابق اگر اپوزیشن جماعتیں الگ الگ اپنے ایجنڈے کے تحت احتجاج کرتی ہیں تو حکومت کو زیادہ ٹف ٹائم نہیں ملے گا تاہم اگر پی ٹی آئی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے مل کر سڑکوں پر احتجاج شروع کردیا تو حکومت کیلئے ایسے احتجاج سے نمٹنا آسان نہیں ہو گا۔

سیاسی تجزیہ کار شہباز شریف کے مولانا کو رام کرنے کیلئے ان کے گھر جانے کو ایک بڑی سیاسی پیشرفت قرار دے رہے ہیں مبصرین کے مطابق اگر مولانا حکومت کے ساتھ جاتے ہیں تو انہیں اقتدار میں حصہ ملنے کا واضح امکان موجود ہے، یوں انکی زندگی کو درپیش خطرات بھی ختم ہو جائیں گے اور ان کی انا کی بھی تسکین ہو جائے گی، دوسری جانب اگر وہ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو پھر انہیں پانچ برس تک اپوزیشن میں رہنا پڑے گا جو سراسر گھاٹے کا سودا یے جومولانا کے سیاسی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مولانا صاحب کے تابناک سیاسی کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو وہ گناہ بے لذت کے قائل نہیں اور اسی لیے زیادہ عرصہ اپوزیشن میں نہیں رہ پاتے۔ وہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے ہمیشہ اقتدار کا حصہ رہے ہیں اور اسکے مزے لیتے آئے ہیں۔ چنانچہ آگے بھی کوئی بعید نہیں کہ وہ کچھ نخرے دکھانے کے بعد ایک بار پھر سے حکومت کا حصہ بن جائیں۔ ویسے میں انکے پاس اب مزید نخرے اٹھوانے کا وقت کم رہ گیا ہے۔

لیکن دوسری جانب بعض دیگر مبصرین سمجھتے ہیں کہ مولانا ابھی دونوں فریقین کو مزید کھلائیں گے اور ترلے منتیں کروائیں گے۔ ان کے مطابق شہباز حکومت کو خوش گمانی تھی کہ مولانا سے خاص لوگوں کی بات ہو چکی ہے اور انہیں منانے میں زیادہ زور نہیں لگے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کے بعد خاص لوگوں اور مولانا کے تعلقات کافی کشیدہ ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا کا پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد ناممکن نظر آتا ہے لیکن وہ دروازہ مکمل بند نہیں کر رہے اور روزانہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو اپنی چوکھٹ پر بلوا کر اپنی اقتدا میں نماز پڑھواتے ہیں۔ ڈیزل اور فضلو کے آوازے کسنے والے عمران خان اور انکی پی ٹی آئی نے مولانا کو جتنا رسوا کیا تھا اس کے اب وہ چن چن کر بدلے لے رہے ہیں، اب پی ٹی آئی والے انہیں حضرت مولانا فضل الرحمٰن کہہ کر پکار رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی مولانا کے ساتھ بڑی بے وفائی کی تھی۔ مولانا پی ڈی ایم کے صدر تھے لیکن الیکشن کے بعد نون لیگ حکومت سازی کےلیے پیپلزپارٹی کے ساتھ بیٹھ گئی اور مولانا کو پوچھا تک نہیں۔ حتیٰ کہ نواز شریف یا شہباز شریف نے انہیں فون تک بھی نہیں کیا۔ نون لیگ حکومت کے مزے لوٹتی رہی اور مولانا مجبوری میں اپوزیشن کرتے رہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ مولانا گناہ بے لذت کے قائل نہیں اور نہ ہی زیادہ عرصہ اقتدار سے باہر رہ سکتے ہیں۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار، سہیل وڑائچ کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا کو حکومت اور اپوزیشن کیا فائدہ دے سکتے ہیں،جدھر فائدہ زیادہ ہوگا مولانا ادھر جائیں گے نقصان کا سودا وہ بالکل نہیں کریں گے۔ سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا جب سیاسی جماعتوں کے مابین اتحاد بنتا ہے تو جمہوریت میں اس کا فائدہ ہوتا ہے تاہم اس وقت پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا جو رول ہونا چاہئے وہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن اتحاد کے پہلے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ بہت معنی خیز ہے۔ اس اعلامیے میں اس اسمبلی کو ختم کرنے اور نئے الیکشن کی بات کی جا رہی ہے حالانکہ خود تو آپ اسمبلی میں بیٹھے ہیں اور حکومت سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں یہ بڑا تضاد ہے۔سہیل وڑائچ کے مطابق بہترین سیاست یہ ہے کہ اسمبلی کے اندر بھی رہیں اور باہر احتجاج بھی کریں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اپوزیشن جماعتیں سٹریٹ پاور دکھانے کیلئے مولانا کو ساتھ ملانے کی خواہاں ہیں جبکہ حکومت جے یو آئی کی اپوزیشن اتحاد میں عدم شمولیت کی خواہشمند ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا کو حکومت اور اپوزیشن کیا فائدہ دے سکتے ہیں۔جدھر فائدہ زیادہ ہوگا مولانا ادھر جائیں گے نقصان کا سودا وہ ہرگز نہیں کریں گے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق مولانا کے پی ٹی آئی کے ساتھ جانے کے امکانات کم ہیں کیونکہ بانی پی ٹی آئی کے حالیہ فیصلوں میں دانائی نظر نہیں آتی کیونکہ کامیاب سیاست دان وہ ہوتا ہے جو راستہ نکالے۔اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لینا کیا اہل سیاست کو سوٹ کرتا ہے۔ اس لئے مولانا ہرگز گھاٹے کا سودا کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔

Back to top button