کیا ایران پر حملے کے بعد پاکستان کی باری آنے والی ہے؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی جنگ کے بعد اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی باری بھی آنے والی ہے۔ ان کے مطابق اس خدشے کی بنیادی وجہ امریکی انتظامیہ کا یہ موقف ہے کہ پاکستانی میزائل پروگرام اب امریکہ کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں حامد میر کا کہنا یے کہ ہماری حکمران اشرافیہ ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا تھی کہ صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کے بعد امریکہ پاکستان کو کبھی میلی آنکھ سے نہیں دیکھے گا۔ تاہم 18 مارچ کو امریکی سینیٹ کی نیشنل انٹیلی جنس کمیٹی کے اجلاس میں ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے پاکستان کے میزائل پروگرام کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دے دیا، جبکہ بھارت کے میزائل پروگرام کا ذکر تک نہیں کیا گیا، حالانکہ اس کی رینج پاکستان کے میزائلوں سے دوگنی ہے۔
حامد میر نے سوال اٹھایا کہ کیا تلسی گبارڈ نے یہ بیان ہمارے حکمرانوں کے محبوب صدر ٹرمپ کی مرضی کے خلاف دیا؟ ان کے مطابق صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو ایران کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے اور اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے کے لیے تلسی گبارڈ سے پاکستان کے خلاف بیان دلوایا گیا۔ حامد میر نے نومبر 2025 میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی واشنگٹن میں ہونے والی ایک کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کانفرنس کے دوران انہوں نے واضح کیا تھا کہ دنیا روز بروز غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے اور صدر ٹرمپ کی وجہ سے ہم تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے سکول آف فارن سروس کے ایک پروفیسر نے استفسار کیا کہ پاکستان نے تو صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا، اور وزیر اعظم شہباز شریف کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کو ایٹمی جنگ سے بچایا، لہذا ایسے میں یہ خطرہ کیوں ظاہر کیا جا رہا ہے؟
حامد میر نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ نے غزہ میں اسرائیلی ظلم و ستم کو روکنے کے بجائے نیتن یاہو کی حوصلہ افزائی کی، جو ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو پارٹنر ان کرائم ہیں اور مل جل کر ایران پر حملہ کریں گے، جو پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
حامد میر کے مطابق امریکی صدر کی ٹیم بشمول ان کی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ، کانگریس سے پوچھے بغیر بڑی جنگیں شروع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انکے مطابق ٹرمپ کی ٹیم ہمیں شامل یہودی فیصلہ ساز مسجد اقصیٰ کو گرا کر یہودی عبادت گاہ قائم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ تلسی گبارڈ مسلمانوں کے خلاف نفرت رکھتی ہیں اور ان کا یہ رجحان کوئی پوشیدہ نہیں ہے۔
حامد میر نے حال ہی میں پاکستانی میزائل پروگرام پر اظہار تشویش کرنے والی تلسی گبارڈ کا سیاسی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2012 میں کانگریس کی رکنیت حاصل کی، انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز ڈیموکریٹک پارٹی سے کیا، اور صدر ٹرمپ کی بڑی ناقد رہیں۔ اس دوران تلسی گبارڈ کو بھارتی ہندو انتہا پسند جماعتوں بی جے پی اور آر ایس ایس کی حمایت حاصل رہی اور بھاری فنڈنگ بھی ملی۔ انکا کہنا ہے کہ تلسی گبارڈ کے بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ تعلقات اور امریکی انتخابی سرگرمیوں نے پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا کیے ہیں۔
حامد میر نے بتایا کہ نومبر 2025 میں ٹرمپ کی نیشنل سکیورٹی سٹرٹیجی ایک پبلک دستاویز کے طور پر جاری کی گئی، جس میں صاف طور پر لکھا گیا تھا کہ امریکہ اپنے دشمنوں سے توانائی کے ذخائر چھین لے گا۔ اس دستاویز میں ایران پر غلبہ حاصل کرنے کا عندیہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس سے پوچھے بغیر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جو دوبارہ حملہ کیا ہے اسکے بعد جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل ایران کے بعد ترکی کو بھی نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے، اور اسی لیے ایران کے سپریم لیڈر مجتبٰی خامنہ ای نے ترکی اور عمان پر حملوں کو فالس فلیگ آپریشنز قرار دیا ہے۔ حامد میر نے کہا کہ ایسے میں ایران کے بعد پاکستان کی باری لگنے کا خدشہ بڑھ چکا یے۔
ایران نے جنگ بندی کےلیے 6 شرائط پیش کردیں
لیکن حامد میر نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ نے مسلمانوں میں شیعہ اور سنی کی فرقہ وارانہ تقسیم کو پس پشت ڈال دیا ہے اور عوام صرف ایک مسلمان کے طور پر متحد ہو گئے ہیں، دوسری جانب ہماری اشرافیہ کے درمیان شیعہ سنی اختلاف اب بھی موجود ہے۔ ادھر ٹرمپ صلیبی جنگ کے نام پر یورپ کو ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حامد میر نے پاکستانی حکمرانوں کو خبردار کیا کہ تلسی گبارڈ پاکستان کو ہر قیمت پر ایران کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہیں لہذا پاکستانی فیصلہ سازوں کو بہت سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔ ان کے مطابق ایران کیخلاف امریکی جنگ اور تلسی گبارڈ جیسے کردار پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں، لہٰذا پاکستانی حکمرانوں کو بہت ذیادہ محتاط، ہوشیار اور باخبر رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی دباؤ یا اشتعال انگیز ایکشن کا مقابلہ متحد ہو کر کیا جا سکے۔
