کیا ٹرمپ کو چھت سے اُتارنے پر پاکستان کو کوئی انعام ملے گا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چھت پر چڑھ تو گئے تھے لیکن انہیں نیچے اترنے کے لیے کوئی سیڑھی نہیں مل رہی تھی، لہٰذا انہیں پاکستان کا سہارا لینا پڑا جس نے انہیں جنگ بندی کی سیڑھی فراہم کی تاکہ وہ اپنی فیس سیونگ کرتے ہوئے چھت سے نیچے اتر سکیں۔
بی بی سی اردو کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ یہ ٹرمپ کی خوش قسمتی ہے کہ ان کے پاکستانی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے دوستانہ تعلقات تھے، ورنہ وہ جس چھت پر چڑھ گئے تھے وہاں سے ان کے لیے اترنا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق اب اسلام آباد میں ہونے والی ممکنہ بات چیت یکطرفہ ڈکٹیشن کے بجائے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوگی، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ دونوں فریقین کے مابین مسلسل ثالثی کرنے والے پاکستان کو اس کا کیا صلہ ملے گا۔
وسعت اللہ خان کے مطابق عالمی میڈیا، خصوصاً واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جنرل جیسے امریکی اخبارات کی رپورٹس کو یکجا کیا جائے تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایران میں بدامنی پیدا کر کے اسے حکومت کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ایرانی ریال کی قدر گرانے کے لیے ڈالر کی قلت پیدا کی گئی تاکہ عوامی بے چینی میں اضافہ ہو۔ اسکے علاوہ کردستان کے راستے اسلحہ اور جدید کمیونیکیشن آلات ایران پہنچائے گئے۔ لہٰذا دسمبر کے آخر میں تہران سے شروع ہونے والے مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے سو سے زائد شہروں تک پھیل گئے، جہاں سرکاری تنصیبات اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کے جلاوطن شہزادے رضا شاہ پہلوی، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کی کھل کر حمایت کی گئی۔ دوسری جانب ایرانی حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ بند کر دیا۔
جنوری کے اوائل میں حالات مزید کشیدہ ہو گئے اور سرکاری و غیر سرکاری ذرائع کے مطابق تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں سینکڑوں سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ وسعت اللہ خان کے مطابق اس سازش میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے اہم ترین کردار ادا کیا جبکہ امریکی سی آئی اے بھی پس منظر میں متحرک رہی اور اس منصوبے کی فنڈنگ کرتی رہی۔ اطلاعات کے مطابق عراقی کردستان کو ایک بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ٹرمپ نے خود بھی اعتراف کیا کہ کردوں کے ذریعے مظاہرین کو اسلحہ فراہم کیا گیا، تاہم ان کے بقول یہ اسلحہ مطلوبہ مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے نیتن یاہو کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنا کر ایرانی حکومت کو گرانا ممکن ہے۔ اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بریفنگز میں امریکی حکام بشمول وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شریک ہوئے، تاہم بعض حلقوں کی جانب سے اس حکمت عملی پر تحفظات بھی ظاہر کیے گئے۔ خاص طور پر یہ مؤقف سامنے آیا کہ ایران کا جوہری پروگرام دنیا کے کیے فوری خطرہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیلی تجزیات پر انحصار کرتے ہوئے محدود مدت کی ایک تیز رفتار جنگی کارروائی کا تصور اپنایا۔ تاہم یہ اندازہ غلط ثابت ہوا اور ایران نے غیر متوقع مزاحمت دکھائی، جس کے باعث جنگ طول پکڑ گئی۔
وسعت اللہ خان کے مطابق ایران نے شدید دباؤ کے باوجود خود کو سنبھالے رکھا اور دفاعی پوزیشن اختیار کر لی، چنانچہ اسے شکست دینا ممکن نہ ہو سکا۔ اس دوران امریکی اڈوں اور خلیجی اتحادیوں کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے عالمی معیشت متاثر ہوئی۔
تجزیہ کار کا کہنا یے کہ جنگ لمبی ہو جانے پر صدر ٹرمپ مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں اور بالآخر انہوں نے جنگ بندی کی ضرورت محسوس کی۔ یہی وہ موقع تھا جب پاکستان نے دونوں فریقین کے مابین ثالث کا کردار ادا کیا۔ امریکی مولا جٹ بن کر بڑکیں مارنے والے صدر ٹرمپ کو جب اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ ان کے لیے ایران کو شکست دینا ممکن نہیں تو انہوں نے چھت پر سے مدد کے لیے آوازیں لگانا شروع کیں۔ ایسے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے انہیں چھت سے اترنے کے لیے سیڑھی فراہم کی۔ اس سیڑھی نے ٹرمپ کو فیس سیونگ فراہم کرتے ہوئے ایک مشکل صورتحال سے نکلنے کا راستہ دیا۔
وسعت اللہ خان کے مطابق اس جنگ نے عالمی طاقت کے توازن پر بھی سوال اٹھا دیئے ہیں۔ ایران پر حملہ آور ہونے والے امریکہ کی نہ صرف عسکری برتری کا پول کھل گیا بلکہ دیگر ممالک، خصوصاً جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی سکیورٹی پالیسیوں پر نئی بحث شروع ہو گئی۔ وسعت اللہ خان یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پاکستان کو اس اہم سفارتی کردار کے بدلے محض تعریف ملے گی یا کوئی ٹھوس فائدہ بھی حاصل ہوگا۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی اس کوشش کا حقیقی صلہ کیا نکلتا ہے۔
انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ٹرمپ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے مستقبل میں کیوبا کے خلاف ایک نیا محاذ کھول سکتے ہیں، خاص طور پر جب امریکی داخلی سیاست میں انہیں دباؤ کا سامنا ہے اور نومبر میں مڈ ٹرم الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔
