شاہ محمود اسٹیبلشمنٹ کی گیم کھیلیں گے یا عمران کا ساتھ دیں گے؟

9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام سے بری ہونے والے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے خود پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کی گیم کھیلنے کا الزام جھٹلاتے ہوئے جیل سے جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں دعوی کیا ہے کہ وہ کل بھی بانی تحریک انصاف کے ساتھ تھے، اور آج بھی ان کے ساتھ ہیں۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی میں ان کے مخالفین نے شک میں اضافہ کرتے ہوئے یہ سوال کر ڈالا ہے کہ جیل میں قید ہونے کے باوجود انکا ویڈیو پیغام باہر کیسے آ گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برس میں عمران کا تو کوئی ویڈیو پیغام باہر نہیں آیا لہذا شاہ محمود قریشی کو یہ اجازت کیسے مل گئی؟
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی اس حوالے سے اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام سے بری ہونے والے شاہ محمود قریشی کے بارے میں ایک عمومی رائے یہی بن رہی ہے کہ ان کی بریت فوجی اسٹبلشمنٹ سے مفاہمت کا نتیجہ ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں شاہ محمود کو رہائی مل جائے گی اور پھر وہ تحریک انصاف میں اپنا گروپ بنا سکتے ہیں۔ لہذا شاہ محمود قریشی نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے عمران کے ساتھ اظہار وفاداری پر مبنی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ دوسری جانب یہ کہا جا رہا ہے کہ پالستان میں سزاؤں کا موسم شروع ہو گیا ہے۔
9 مئی کے مقدمات میں سزاؤں کا عمل شروع ہوتے ہی ایک ہی روز میں دو فیصلوں نے ملک کا سیاسی منظر نامہ ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سپریم کورٹ 9 مئی کیسز کے فیصلے جلد از جلد سنانے کا حکم دے چکی ہے۔ اور اب سزائیں شروع ہیں۔ لیکن اب جب کہ سزائیں سنانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو تحریک انصاف والے سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں ایک طرف یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہری اور عمر چیمہ کو دس دس برس قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں وہیں شاہ محمود قریشی بری ہو گئے ہیں۔
یعنی ایک طرف سزائیں ہیں تو دوسری طرف بریت ہے۔ اس لیے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بریت اور سزائیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ شاہ محمود قریشی کی بریت نے ملک کے سیاسی منظر نامہ پر بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ شاہ محمود کبھی مزاحمت کی سیاست نہیں کرتے۔ انکا ماضی گواہ ہے کہ انکے خاندان نے ہمیشہ فوجی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر مفاہمت کی سیاست ہی کی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ ہم نے ان کو بانی کے ساتھ مزاحمت کی سیاست کرتے دیکھا جس پر سب حیران بھی تھے۔ لوگ سوال کر رہے تھے کہ شاہ محمود قریشی کا خاندان تو مفاہمت کی سیاست کی پہچان رکھتا ہے۔ پھر وہ کیسے اسٹبلشمنٹ کے خلاف چل رہے ہیں۔ لیکن اب رائے یہ ہے کہ وہ واپس مفاہمت کی سیاست کی طرف آگئے ہیں۔
سینیئر صحافی کے مطابق یہ بات درست ہے کہ 9 مئی کو شاہ محمود قریشی کراچی میں تھے۔ وہ لاہور یا پنجاب میں کسی اور جگہ کسی بھی احتجاج میں شریک نہیں تھے۔ شائد 9 مئی کے احتجاج کی تیاری کے لیے جو اجلاس ہوئے وہ ان میں بھی شریک نہیں تھے۔ عمران جانتے تھے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ پر حملے کے حق میں نہیں ہوں گے، اس لیے وہ کسی بھی اجلاس میں شامل نہیں کیے گے تھے۔ لیکن یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے کہ اس سے پہلے بھی شاہ محمود قریشی کو گرفتار کیا گیا تھا پھر وہ رہا ہو گئے تھے۔ تب بھی یہی بات سامنے آئی تھی کہ ان کی رہائی سیاسی طور پر مشروط تھی۔ وہ رہائی کے بعد کپتان کو ملے تھے لیکن ان کی ملاقات کامیاب نہیں رہی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب شاہ محمود کو کوئی فیصلہ کرنا تھا ۔ لیکن انھوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا جس کے بعد وہ دوبارہ گرفتار ہوئے، انھوں نے لمبی جیل کاٹی ہے اور ٹرائل کا بھی سامنا کیا۔
تاہم مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ اب شاہ محمود کی بریت ہو گئی ہے جس کے بعد ان کی فوج سے ڈیل کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
9 مئی کے ملزمان کو سزائیں: PTI کا شیرازہ مزید تیزی سے بکھرنے لگا
شاہ محمود قریشی کی بریت سے پہلے 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر بھی ان کے بیٹے زین قریشی اور فوجی اسٹبلشمنٹ کے درمیان ڈیل کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ تب تحریک انصاف نے یہ الزام لگایا تھا کہ زین قریشی کو جہاں چھپنے کے لیے کہا گیا تھا وہ وہاں نہیں تھے بلکہ وہاں سے غائب ہو گے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فوجی اسٹبلشمنٹ کے پاس چلے گئے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ زین قریشی نے 26ویں آئینی ترمیم میں حکومت کو ووٹ نہیں دیا تھا۔ وہ شک کے دائرے میں تھے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ان کے ووٹ کی ضرورت نہیں پڑی، اس لیے ان کا ووٹ استعمال نہیں کیا گیا۔ لیکن ان کا ووٹ حکومت اور فوج اسٹبلشمنٹ کے پاس تھا اور اگر ضرورت پڑتی تو زین بھائی لوگوں کی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ دینے پر راضی تھے۔
دوسری جانب زین قریشی اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ لیکن انھیں تحریک انصاف کی طرف سے شو کاز جاری کیا گیا، انھیں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ انھوں نے شوکاز کا جواب دیا جس کے بعد اس پر مزید کارروائی نہیں کی گئی۔ لیکن تب سے زین قریشی خاموش ہیں۔ پہلے وہ باقاعدگی سے ٹاک شوز میں آتے تھے لیکن اب وہ غائب ہیں۔ ان کا غا ئب ہونا بھی سوالات پیدا کر رہا ہے۔ وہ خاموش ہیں یہ بھی معنی خیز ہے۔ اس لیے لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ بات پہلے طے ہو گئی تھی۔ بہر حال سوال اب شاہ محمود قریشی کیا کریں گے۔ سہروردی کہتے ہیں کہ میری رائے میں وہ تحریک انصاف میں مسلم لیگ (ن) کے شہباز شریف بننے کی کوشش کریں گے۔ وہ مفاہمت کو آگے لے کر چلیں گے، انہوں نے جیل سے بھی مفاہمت کے لیے خط لکھے ہیں۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ وہ تحریک انصاف کی مفاہمت کی آواز بن جائیں۔ وہ مفاہمت اور ڈائیلاگ کی بات کریں۔ لیکن کیا بانی انھیں یہ کرنے دیں گے ۔ شائد انھیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے ۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے انھیں پارٹی سے نکالنا مشکل ہو جائے گا۔ ایسے ہی انھیں رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔
سینیئر صحافی کے مطابق شاہ محمود قریشی پارٹی کے اندر ایک مفاہمتی گروپ بنا سکتے ہیں، وہ لوگ جو تحریک انصاف میں واپس آنا چاہتے ہیں وہ ان کو ساتھ ملا سکتے ہیں۔ تحریک انصاف میں مفاہمت کے لیے لوگوں کو اکٹھا کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی بھی مفاہمت کے نام پر ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور ڈائیلاگ کے بعد اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلنے کی بات کریں۔ یہ سب لوگ کہیں گے یہی کہ ہم کپتان کے وفادار ہیں لیکن ان کا اصرار ہوگا کہ فوجی کے خلاف مزاحمت بند ہونی چاہیے۔
لیکن مزمل سہروردی کے مطابق ی بانی کو قبول نہیں ہو گا کیونکہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ خود جیل سے باہر آنا ہے جس کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ عمران خان نے پہلے ہی شاہ محمود کی جانب سے مفاہمت کی تجویز پر مبنی خط رد کر دیا ہے۔ ایسے میں شاہ محمود کو جلد از جلد اپنا فیصلہ کرنا ہوگا، وگرنہ وہ بھی فواد چوہدری کی طرح نہ گھر کے رہیں گے اور نہ ہی گھاٹ کے۔ انہیں بھی پٹے ہوئے فواد کی طرح کوئی سیاسی جماعت لینے کو تیار نہیں ہو گی۔ امید کی جانی چاہیے کہ وہ اس بار غلطی نہیں کریں گے۔ انھیں سمجھ آگئی ہے، کیونکہ کہ وہ کافی سمجھدار ہیں۔
