کیا ٹرمپ کے بعد شہباز نیتن یاہو کو بھی نوبیل انعام دلوائیں گے؟

تحریک انصاف کے لیے ہمدردی رکھنے والے معروف تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بھی نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیں۔

اپنے سیاسی تجزیے میں ایاز امیر کہتے ہیں کہ پاکستان اس وقت ایسی معاشی مجبوریوں میں جکڑا ہوا ہے جس نے ملک کی خارجہ پالیسی اور قومی وقار دونوں کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ مجبوری کے سودے ہیں اور ہماری قومی ذہانت اور قابلیت کا پیمانہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اپنے اوپر مجبوریوں کا بوجھ ضرورت سے زیادہ لاد رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی دنیا میں ایک یا دو ارب ڈالرز کوئی بڑی رقم نہیں سمجھی جاتی، مگر پاکستان کی حالت یہ ہے کہ اگر دوست ممالک ہر سال ایسے قرضے رول اوور نہ کریں تو ملکی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے تو اب اس معاملے میں سالانہ مہلت دینے کا تکلف بھی ختم کر دیا ہے اور بعض اوقات قرضوں کا رول اوور صرف ایک یا دو ماہ کے لیے کیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی حکام کو مسلسل ان ممالک سے رابطے اور درخواستیں کرنا پڑتی ہیں۔
ایاز امیر کے مطابق اگرچہ پاکستان کی معاشی مشکلات ایک حقیقت ہیں لیکن قومی وقار کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی مجبوریوں کے تحت کسی عالمی رہنما کی تعریف بھی کرنی پڑے تو اسے ایک حد اور توازن کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے شرم الشیخ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں دیے گئے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ یوٹیوب پر وہ ویڈیو مکمل سن سکیں، مگر ابتدائی چند جملوں کے بعد ہی انہیں ویڈیو بند کرنا پڑی۔

ان کے مطابق شہباز کی تقریر کا انداز اس قدر مبالغہ آمیز تھا کہ تقریب میں موجود اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے تاثرات بھی ویڈیو میں واضح طور پر حیرت کا اظہار کرتے نظر آئے۔ ایاز امیر کا کہنا تھا کہ اس موقع پر امریکی صدر کو مردِ امن قرار دیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ انکی کوششوں سے جنوبی ایشیا میں ممکنہ جنگ ٹل گئی۔ ان کے مطابق اس طرح کے بیانات نہ صرف غیر معمولی تھے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی سنجیدگی کے بارے میں بھی سوالات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، لیکن کسی بھی عالمی رہنما کی تعریف میں اس حد تک جانا مناسب نہیں۔

ایاز امیر کا کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا جا سکتا ہے تو یہی منطق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر بھی لاگو ہو سکتی ہے۔ اب شہباز شریف کو نیتن یاہو کے لیے بھی امن کا نوبیل انعام تجویز کرنا چاہیے۔
ایاز امیر نے پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کا موازنہ ماضی سے کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب صدر جنرل ایوب خان یا انکے بعد کے ادوار میں پاکستانی قیادت کی عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں نسبتاً برابری کی سطح پر نظر آتی تھیں، لیکن اب صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے اور پاکستان کی معاشی ضروریات نے اسے کمزور پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل یحییٰ خان کے دور میں مراکش کے شہر رباط میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں بھارت کو مبصر کے طور پر مدعو کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جس پر پاکستان نے سخت موقف اختیار کیا اور بالآخر بھارت کی دعوت واپس لے لی گئی۔ ان کے مطابق اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت پاکستان کی سفارتی حیثیت نسبتاً مضبوط تھی۔

ایاز امیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے حالیہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون بھی بڑی حد تک معاشی مجبوریوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو مالی مدد فراہم کر سکتا ہے، لیکن خطے کے حساس محاذوں جیسے افغانستان یا کشمیر میں عملی عسکری کردار ادا کرنے کا امکان کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد بعض حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں کہ شاید سعودی عرب پاکستان کی جوہری صلاحیت میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم ان کے مطابق ایسی باتوں کی کوئی واضح بنیاد موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے لیے اصل علاقائی چیلنج ایران ہے اور دفاعی تعاون کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ایاز امیر نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر مذاکرات جاری تھے اور ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ قریب تھا۔ میزبان ملک عمان کے وزیر خارجہ بھی اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ مذاکرات کے دوران اچانک ایران کے خلاف کارروائی کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کم از کم واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا کہ جنگ کا آغاز کس نے کیا۔ ان کے مطابق سفارتی مجبوریوں کی وجہ سے محتاط زبان استعمال کی جا سکتی ہے لیکن مکمل خاموشی بھی مناسب نہیں۔
ایاز امیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایران میں ہونے والے حملوں اور ہلاکتوں کے باوجود پاکستان کی جانب سے کوئی مضبوط ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق اصولی مؤقف اختیار کرنا کسی بھی ریاست کی سفارتی ذمہ داری ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود ایرانی قوم مزاحمت اور استقامت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اسی وجہ سے امریکی صدر ٹرمپ کے ایران میں ریجیم تبدیلی کے منصوبے کی ناکامی نظر آ رہی ہے۔ ان کے بقول یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ شدید بمباری کے باوجود ایرانی عوام کا حوصلہ ٹوٹنے کے بجائے مزید مضبوط ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایاز امیر کے مطابق پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے لہٰذا اسے اپنی خارجہ پالیسی میں بھی اتنا اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ عالمی معاملات پر واضح اور متوازن مؤقف اختیار کر سکے۔ ان کے بقول مجبوریوں کا اعتراف اپنی جگہ درست ہے، لیکن قومی وقار اور اصولی مؤقف کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

Back to top button