کیا آفریدی گروپ جنید اکبر کی چھٹی کروانے میں کامیاب ہو پائے گا؟

 

 

 

 

پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے حالیہ بیانات اور پارٹی پالیسی سے اختلاف کے بعد پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں قیادت کی تبدیلی کی چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ پی ٹی آئی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی گروپ نے جنید اکبر کی چھٹی کروا کر صوبائی صدارت میں تبدیلی کے لیے باقاعدہ لابنگ شروع کر دی ہے تاکہ اپنی صفوں سے کسی رہنما کو آگے لایا جا سکے اور حکومتی و تنظیمی معاملات میں مکمل ہم آہنگی قائم کی جا سکے۔ جس کے بعد جلد جنید اکبر کو عہدے سے ہٹائے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ خود جنید اکبر بھی اس امر کا عندیہ دے چکے ہیں کہ پارٹی کے اندر گروپنگ موجود ہے اور کچھ حلقے انہیں اس منصب پر دیکھنے کے خواہاں نہیں۔ یوں خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک نئی اندرونی کشمکش اب کھل کر سامنے آتی دکھائی دے رہی ہے۔

 

خیال رہے کہ جنید اکبر کی تبدیلی کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی پہلے ہی صوبے میں تنظیمی کمزوری، اندرونی اختلافات اور عوامی حمایت میں بتدریج کمی کا سامنا کر رہی ہے۔ جنید اکبر کا شمار خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جو پارٹی کی تنظیمی سیاست، پارلیمانی کردار اور مزاحمتی بیانیے کے حوالے سے ایک واضح اور دو ٹوک مؤقف رکھتے رہے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے صوبائی سیاست میں سرگرم ہیں اور انہیں ان چند رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو ایوان کے اندر حساس قومی معاملات، بالخصوص دہشت گردی اور وفاقی پالیسیوں پر کھل کر بات کرنے کے حامی رہے ہیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں یہی اندازِ سیاست پارٹی کی پارلیمانی قیادت کے لیے ناگوار بنتا چلا گیا۔ اور اب ان کی تبدیلی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے باخبر ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار پارٹی دھڑے کی خواہش ہے کہ صوبائی صدر ان کے اپنے گروپ سے ہو تاکہ حکومتی اور تنظیمی معاملات میں ہم آہنگی قائم رہے۔

 

یاد رہے کہ جب علی امین گنڈاپور کو صوبائی صدارت سے ہٹا کر جنید اکبر کو ذمہ داری دی گئی تو اسی وقت سے اندرونی اختلافات نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔ بعض مرکزی رہنماؤں کا خیال تھا کہ جنید اکبر احتجاجی اور تصادم کی سیاست کے حامی ہیں، جو موجودہ سیاسی ماحول میں مقتدر حلقوں کے ساتھ تناؤ کو بڑھا سکتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ کارکنان نے ابتدا میں جنید اکبر کی تعیناتی کو سراہا تھا۔ اس وقت کارکنوں میں یہ تاثر تھا کہ صوبے سے عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر تحریک نہیں چلائی جا رہی۔ جنید اکبر کو ایک “سچے سپاہی” کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ وہ بھرپور احتجاجی مہم منظم کریں گے۔ تاہم صوابی جلسے کی ناکامی اور احتجاجی حکمت عملی میں سست روی نے ان پر تنقید کے دروازے کھول دئیے۔

 

ادھر صوبے میں نئی نوجوان قیادت کے ابھرنے کے بعد سیاسی توازن مزید تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد امید تھی کہ اندرونی اختلافات ختم ہوں گے، مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور جنید اکبر کے درمیان فاصلہ کم ہونے کے بجائے بڑھتاچلا جا رہا ہے۔ نوجوان دھڑے کا مؤقف ہے کہ صوبائی صدر ایسا ہونا چاہیے جو حکومت کے ساتھ ایک پیج پر ہو اور تنظیمی فیصلوں میں رکاوٹ نہ بنے۔ اطلاعات کے مطابق یوتھ ونگ سے تعلق رکھنے والے بعض رہنما صوبائی صدارت کے خواہش مند ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قریبی سمجھے جانے والے ایک نوجوان وزیر صوبائی صدارت کا عہدہ لینے کیلئے سرگرم دکھائی دیتے ہیں جبکہ مراد سعید کے ایک قریبی ساتھی کا نام بھی اس حوالے سے زیرِ گردش ہے۔ پارٹی کے اندر یہ بحث بھی جاری ہے کہ عمران خان خود نوجوان قیادت کو آگے لانا چاہتے ہیں، اور یہی رجحان صوبائی سطح پر بھی نظر آ سکتا ہے۔

نجم سیٹھی نے عمران کے لیے ریلیف کا امکان مسترد کیوں کر دیا؟

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما آن ریکارڈ جنید اکبر کی تبدیلی کی خبروں کی تردید کرتے نظر آتے ہیں ان کے مطابق جنید اکبر کو عمران خان نے مقرر کیا ہے اور انہیں ہٹانے یا کسی اور کو لانے کا فیصلہ بھی وہی کرینگے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی مشاورت جاری نہیں۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت اور جنید اکبر ایک پیج پر ہیں اور عمران خان جسے بھی ذمہ داری دیں گے، سب کو قبول ہوگا۔ تا ہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا اصل مسئلہ قیادت کا نہیں بلکہ حکمت عملی کا ہے۔ ایک گروپ مزاحمتی سیاست کو ترجیح دیتا ہے جبکہ دوسرا حکومتی استحکام اور مفاہمت کو ضروری سمجھتا ہے۔جنید اکبر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ احتجاج کے حامی ہیں اور صوبے میں بجلی اور سڑکیں بند کرنے کے خواہاں ہیں جس سے سہیل آفریدی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کے ابتدائی دنوں اور موجودہ لہجے میں واضح فرق آ چکا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ پارٹی کی جانب سے ان کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی کی مرکزی سطح پر سلمان اکرم راجا سمیت اہم رہنما سہیل آفریدی کے ساتھ ہیں اور جنید اکبر سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ اسی لئے پی ٹی آئی کا آفریدی گروپ یہ سمجھتا ہے کہ اگر نوجوان قیادت صوبائی صدارت بھی اپنے پاس لے آتی ہے تو پارٹی اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی بڑھ سکتی ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی قیادت کا معاملہ محض ایک عہدے کی تبدیلی نہیں بلکہ آئندہ سیاسی سمت کے تعین کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ آیا جنید اکبر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نوجوان قیادت بازی لے جاتی ہے، اس کا فیصلہ بالآخر عمران خان کے ہاتھ میں ہوگااور یہی عنصر اس پوری سیاسی بساط کا سب سے اہم مہرہ ہے۔

 

Back to top button