کیا فوج نواز شریف کو بلوچستان کا سیاسی حل تلاش کرنے دے گی ؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بلوچستان کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادگی تو ظاہر کر دی ہے لیکن سیاسی تجزیہ کار ان کی کامیابی کے بارے میں شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔ انکے مطابق سب سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ نواز شریف بلوچستان کے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اپنی بات منوا سکیں گے، خصوصا جب وہ وزیر اعظم بھی نہیں اور ان کے بھائی شہباز شریف دل و جان سے اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیاں آگے بڑھا رہے ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بلوچستان میں دہشت گردی کو ملٹری مائنڈ سیٹ کے ساتھ چل کر ختم کرنا چاہتی ہے جبکہ نواز شریف اس مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ جعفر ایکسپریس پر بلوچستان لبریشن آرمی کے حملے اور مسافروں کے قتل عام کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اس حوالے سے ابھی تک کوئی فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ تو نہیں ہوا لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے اور دہشت گردوں سے نمٹنے کا حل طاقت کا استعمال ہے۔ دوسری جانب سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جیسے بلوچ قوم پرست رہنماؤں کا موقف ہے کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں اور اگر بلوچستان کا معاملہ سلجھانا ہے تو اس کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔
بلوچستان میں سردار اختر مینگل کی جانب سے جاری لانگ مارچ کے بعد مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف سے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ایک چھ رکنی وفد کے ہمراہ جاتی عمرہ میں ملاقات کی اور ان سے مسئلہ بلوچستان کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اس ملاقات میں سینیٹر جان محمد بلیدی، ممبر قومی اسمبلی پھلین بلوچ، سردار کمال خان بنگلزئی، اسلم بلوچ، شاوس خان بزنجو اور ملک ایوب شامل تھے۔ ملاقات میں مسلم لیگ نون کی طرف سے احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، اور اویس لغاری، سمیت دیگر نون لیگی رہنما بھی موجود تھے۔ ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات میں بلوچ رہنماؤں نے نواز شریف کو اختر مینگل کے دھرنے اور بلوچ خواتین کی گرفتاری کے بعد صوبے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا اور بلوچ عوام کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی دی۔
ملاقات میں شامل ایک نون لیگی رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بلوچ رہنماؤں کی خواہش پر نواز شریف بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول نواز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ میاں نواز شریف نے بلوچ رہنماؤں کے وفد کو بتایا کہ وہ اس سلسلے میں شہباز شریف سے بات کریں گے اور یقینی بنائیں گے کہ وہ بطور وزیر اعظم اس معاملے کو خود دیکھیں۔ نواز شریف نے بلوچ رہنماوں کو یقین دلایا کہ وہ بلوچستان کے سیاسی حل پر یقین رکھتے ہیں۔
تاہم اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے مسئلہ بلوچستان کے حل کے لیے کردار ادا کرنے پر رضا مندی تو ظاہر کر دی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اگلے ہفتے ایک ماہ کے لیے بیرون ملک روانہ ہو رہے ہیں۔ لندن سے واپسی کے بعد وہ بلوچستان کا دورہ کریں گے اور بلوچ جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد فیصلہ کریں گے کہ مسئلہ کیسے حل کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق کہنے کو تو نواز شریف کا دورہ لندن نجی نوعیت کا ہے لیکن وہاں ان کی اہم ملاقاتیں بھی طے ہیں۔ نواز شریف دورہ بلوچستان سے پہلے لندن میں کن لوگوں سے ملنے والے ہیں اس بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ معلوم نہیں۔
نواز شریف سے ملاقات کے بعد ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ صوبے کے عوام کو نواز شریف سے مسائل کے حل کی امید ہے، یاد ریے کہ کچھ عرصہ پہلے صدر آصف علی زرداری بھی بلوچستان کا دورہ کر کے بلوچ لیڈروں سے ملاقات کر چکے ہیں۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے بقول سیاسی جماعتوں کا بلوچستان کے لیے متحرک ہونا بہت خوش آئند بات ہے کیونکہ اس سے مسائل کے حل کی راہیں نکل سکتی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت اور سیاسی مکالمے سے ہی حل ہوگا۔ ان کے خیال میں سیاسی جماعتوں کا آگے بڑھ کر بلوچوں کو انگیج کرنا درست ہے لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس بلوچستان میں کتنا اختیار ہے۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار ایاز امیر کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے پاس بلوچستان کی حکومت ہے، ایک پارٹی کا وزیر اعلٰی ہے اور دوسری کا گورنر ہے لہازا ان لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اور کیا چاہیے۔ تاہم انہیں یقین نہیں کہ نواز شریف بلوچستان کے بدلے ہوئے حالات میں کچھ زیادہ کارگر ثابت ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا، ” بلوچستان میں سیاسی لوگوں کے پاس سپیس بہت کم ہے، جب تک اسٹیبلشمنٹ سیاسی قوتوں کا ساتھ نہیں دے گی مسلم لیگ نون بھی کچھ نہیں کر سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ یہ نتیجہ نکال چکی ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی طریقے سے نہیں بلکہ فوجی طریقے سے ہی حل ہوگا لہذا سویلین حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی ہاں میں ہاں ملانا پڑے گی۔ لیکن طاقت کے استعمال اور فوجی اپریشن سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید خرابی کی طرف جائے گا۔
عمران خان کی آستینوں میں کون سے زہریلے سانپ چھپے ہوئے ہیں؟
کئی سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بلوچستان میں صورتحال سرداروں اور روایتی سیاست دانوں کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔ جو عام لوگ وہاں سرگرم ہیں ان میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں اور نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی اور بینیفشری ہیں۔ اس کے علاوہ نواز شریف کا مینڈیٹ بھی متنازعہ ہے۔ جس کے پاس مینڈیٹ ہے یا جسے عوامی حمایت حاصل ہے وہ پابند سلاسل ہے۔ اس صورتحال کو دیکھیں تو نواز شریف کے لیے یہ آسان نہیں ہو گا۔ لہکن سینیئر صحافی سلمان غنی کے مطانق تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف بلوچ قوم پرست جماعتوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اسی لیے مولانا فضل الرحمن ، محمود اچکزئی اور چوہدری شجاعت بھی نواز شریف کو بلوچستان کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں کردار ادا کرنے کے لیے کہہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کے ذاتی علم میں ہے کہ نواز شریف اختر مینگل سے رابطے میں ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ نواز شریف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ہر بات پر لبیک نہیں کہتے۔ اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت زیادہ تابع فرماں ہوتے تو اس وقت خود ایوان وزیراعظم سے باہر نہ بیٹھے ہوتے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں وہی کردار ادا کر سکے گا جس کو اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد حاصل ہوگا۔ ان کے خیال میں نواز شریف اور زرداری جیسے لوگوں پر اگر اسٹیبلشمنٹ اعتماد کرے تو وہ بلوچستان کی صورت حال کو بہتر بنانے میں بہت معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ماضی میں کئی سیاسی لیڈر بلوچوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد شرمندگی اٹھا چکے ہیں۔ اسلیے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ نواز شریف مسئلہ بلوچستان کے حل کے لیے جو اقدامات تجویز کریں گے انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے قبول کر لیا جائے گا۔
