کیا ڈنگ ٹپاؤ پالیسی حکومت کو عوامی غضب سے بچا پائے گی؟

 

 

 

وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث دباؤ کا شکار پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کے استعمال کو محدود کرنے کے لئے کفایت شعاری اقدامات کا تو اعلان کر دیا ہے تاہم معاشی ماہرین نے حکومتی اقداتا کو ناکافی اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کا غماز قرار دے دیا ہے۔ ان کے مطابق ملکی معیشت کو درپیش اصل چیلنج درآمدی تیل پر شدید انحصار، بڑھتا ہوا درآمدی بل اور مہنگائی کا مسلسل دباؤ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلان کردہ اقدامات وقتی ریلیف تو فراہم کر سکتے ہیں، لیکن گہرے معاشی بحران کے مقابلے میں ان کے اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔ ان کے بقول پائیدار معاشی استحکام کے لیے جامع اور طویل المدتی اصلاحات ناگزیر ہیں، بصورتِ دیگر آنے والے دنوں میں بڑھتی مہنگائی اور معاشی دباؤ ملک میں بے چینی کو جنم دے سکتے ہیں اور یہی داخلی انتشار حکومت کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔

 

خیال رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کی بندش اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے نتاظر میں حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اقدامات کے تحت سرکاری افسران اور حکومتی عہدیداروں کے بیرونِ ملک دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، ان حکومتی اقدامات میں افطار پارٹیوں اور دیگر سرکاری تقریبات کی منسوخی، سرکاری ملازمین کے ایندھن الاؤنس میں کمی اور ورک فرام ہوم جیسے فیصلے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کو بھی 30 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی معاشی بحران کی شدت کو دیکھتے ہوئے حکومتی اقدامات ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دو دن کی تنخواہیں دینے یا چند سرکاری اخراجات کم کرنے جیسے فیصلے بڑے معاشی بحران کے مقابلے میں بہت محدود نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر حکومت واقعی بڑے پیمانے پر بچت چاہتی ہے تو پارلیمنٹیرینز کے لیے مختص ایس ڈی جیز پروگرام میں موجود تقریباً 70 ارب روپے کے فنڈز میں کمی جیسے اقدامات بھی زیر غور لائے جا سکتے تھے۔معاشی ماہرین نے بیوروکریسی کی مونیٹائزیشن پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض افسران ایک طرف مونیٹائزیشن الاؤنس بھی وصول کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب سرکاری گاڑیاں اور سرکاری ایندھن بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت اس پالیسی میں اصلاحات کے ذریعے زیادہ مؤثر بچت ممکن ہے۔

 

معاشی ماہر راجا کامران کے مطابق حکومت کے ان اقدامات کا مقصد صرف مالی بچت نہیں بلکہ عوام کو ایک سیاسی اور معاشی پیغام دینا بھی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک دوروں، افطار پارٹیوں اور دیگر سرکاری تقریبات پر پابندی جیسے فیصلوں کے ذریعے حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ مشکل معاشی حالات میں ریاست بھی اخراجات کم کر رہی ہے۔راجا کامران کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپرجاتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر پڑے گا کیونکہ ملک کا زیادہ تر ایندھن درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول مہنگے داموں تیل کی خریداری، بحری جہازوں کے ذریعے ترسیل اور سیکیورٹی اخراجات کے باعث پاکستان میں ایندھن عالمی منڈی کے مقابلے میں بھی زیادہ مہنگا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو مہنگائی میں مزید اضافہ، معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور غربت میں اضافے کے خدشات موجود ہیں۔ تاہم بعض دیگر ماہرین کے بقول سرکاری ملازمین کے ایندھن الاؤنس میں 50 فیصد کمی، سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی اور ورک فرام ہوم جیسے اقدامات سے ایندھن کی کھپت کم ہو سکتی ہے۔ اگر ایندھن کے استعمال میں کمی آتی ہے تو درآمدی بل پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے اور بجٹ خسارے میں کمی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ان کے مطابق تعلیمی اداروں میں ہفتے میں اضافی تعطیلات یا عارضی بندش جیسے اقدامات بھی ایندھن کے استعمال میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں،

پٹرول مہنگا کر کے حکومت نے اپنا بوجھ عوام پر کیوں ڈال دیا؟

تاہم بعض دیگر معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کے حالیہ اقدامات کا ایک مقصد ایندھن کے استعمال میں کمی لانا اور سبسڈی کے لیے وسائل جمع کرنا ہے تاکہ عوام پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا بوجھ کم سے کم ڈالا جا سکے۔ پاکستان کو طویل المدتی حل کے طور پر توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف جانا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومتی حالیہ فیصلوں کا مقصد فوری طور پر معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ بچت کرنا اور اضافی وسائل جمع کرنا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ کفایت شعاری اقدامات سے کچھ حد تک بچت ممکن ہے، تاہم توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف تیزی سے منتقلی، درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی اور سرکاری اخراجات میں بنیادی اصلاحات کے بغیر معاشی دباؤ کو کم کرنا نا ممکن ہے۔ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں مہنگائی اور معاشی سست روی کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں، جو نہ صرف معیشت بلکہ معاشرتی استحکام اور حکومت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

 

Back to top button