الیکشن کمیشن حکومت کے حق میں فیصلہ دے گا یا پی ٹی آئی کے؟

ڈھائی ماہ کے انتظار کے بعد جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے مخصوص نشستوں کے کیس میں تفصیلی فیصلہ آ تو گیا ہے لیکن اس کے بعد معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھتا ہوا نظر آتا ہے۔ تفصیلی فیصلے کے بعد جہاں تحریک انصاف والے الیکشن کمیشن سے فوری طور پر اپنے اراکین کے نوٹی فکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، وہیں حکومت اس حکم نامے پر عملدرآمد کرنے سے متعلق ابہام کی شکایت کر رہی ہے اور اس پر قانونی سوالات اٹھا رہی ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن گھنٹہ گھر کا پنڈولم بن کر رہ گیا ہے۔ دوسری جانب پچھلے ڈھائی ماہ کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے جج ہونے کے باوجود کھل کر جو جانبدارانہ رویہ اختیار کیا ہے اس سے ان کی ساکھ پر کافی سنجیدہ سوالات اٹھ گے ہیں اور وہ واضح طور پر تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن رواں برس فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کا یکم مارچ فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے یکم مارچ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔ یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اتفاق رائے کے ساتھ تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف مخصوص نشستوں کے حوالے سے دائر کردہ درخواست مسترد کردی تھی۔ الیکشن کمیشن نے یکم مارچ کو فیصلہ سنایا تھا کہ اگر کسی جماعت کے پاس اس کا انتخابی نشان نہیں ہے تو پھر وہ مخصوصس نشستوں کی بھی اہل نہیں رہتی۔ 70 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ’یہ کسی ایک جماعت، سیاسی رہنما یا امیدوار کا مقدمہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق پاکستان کے عوام اور ان کے آئینی حق سے ہے اور اس حق کی نگہبان سپریم کورٹ ہے۔‘
کیا منصور شاہ چیف جسٹس بن کر الیکشن 2024 کو کالعدم کر دیں گے ؟
سپریم کورٹ کی جانب سے بار بار کے اصرار کے باوجود الیکشن کمیشن نے ابھی تک مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی کا خط ہے جس نے یہ مطالبہ کر رکھا ہے کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ الیکشن ایکٹ میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی ترمیم کی روشنی میں کیا جائے۔ الیکشن کمیشن اگر ترمیم شدہ الیکش ایکٹ کی روشنی میں نشستیں الاٹ کرتا ہے تو حکومت کی دو تہائی اکثریت بحال ہو جاتی ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ آنے کے باوجود آئینی مسئلہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص سیٹوں کا فیصلہ ملکی قانون کے مطابق کرنا ہے۔ آئین پاکستان کے قوانین کی موجودگی میں یہ نشستیں کس طرح سے تقسیم ہونی ہیں اس کا جواب سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں موجود نہیں ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد بھی ابہام بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’قانون بہت واضح ہے کہ آزاد امیدوار کو تین دن میں پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ آزاد امیدوار کا کسی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ ناقابل واپسی ہے۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ ’پارلیمنٹ کی قانون سازی سپریم کورٹ کے فیصلوں سے بالا تر ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں ’پی ٹی آئی کو نہیں دی جا سکتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس پر ایک اور قانونی ڈیڈ لاک چلے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ عدالت کے تفصیلی فیصلہ آنے کے باوجود جو قانونی بحث ہے وہ یہ ہے پارلیمنٹ کی جانب سے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد جو قانون بن گیا ہے اس کے تحت سیٹوں کی تقسیم کیسے ہو گی؟ اور کیا اس قانون کو ’اوور رول‘ کیا جائے گا؟
انہوں نے کہا کہ فل کورٹ نے پریکٹس اور پروسیجر بل کا جائزہ لیا اور کہا کہ فیصلے میں پارلیمان کا استحقاق ہے۔ عدالت نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس میں کوئی ترمیم یا اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد نظرثانی کی درخواست غیر مؤثر نہیں ہوئی ہے۔
وزیر قانون کے مطابق’ قانونی فیصلے اس بنا پر ہوتے ہیں کہ کون انصاف مانگنے آیا ہے۔ اس وقت کی صورت حال میں فائدہ اس جماعت کو پہنچا جو فریق ہی نہیں تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’کیس کی سماعت میں کہیں بھی آزاد ارکان نے یہ نہیں کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے رکن ہیں بلکہ انہوں نے کہا کہ وہ سنی اتحاد کے رکن ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن میں اپنے حلف نامے جمع کروائے تھے۔‘ وزیر قانون کے مطابق مقدمہ ہی یہ تھا کہ کیا سنی اتحاد کو نشستیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو اس حد تک تشریح نہیں کرنی چاہیے کہ قانون کا مسودہ ہی تبدیل ہوجائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور وہ آئین اور قانون کے تحت کارروائی کرے گا۔ ایک طرف عدالتی فیصلہ ہے اور دوسری طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلےکے متعلق کہا جا رہا ہے کہ آئین دوبارہ تحریر کیا گیا ہے۔‘
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کی رائے میں سپریم کورٹ نے بہت اچھے طریقے سے الیکشن کمیشن سمیت اداروں کی کمزرویوں کو اپنے تفصیلی فیصلے کے ذریعے واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ ان اداروں پر ہے کہ وہ اپنی ان کمزوریوں کو دور کریں۔ کنور دلشاد نے کہا کہ اس فیصلے میں خود سپریم کورٹ میں بھی تقسیم بہت واضح نظر آئی ہے۔ اُن کی رائے میں جس طرح دو ججز نے پہلے اقلیتی فیصلے لکھے اور پھر جس طرح تفصیلی فیصلے میں ان کا محاسبہ کیا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ اندر بھی سب اچھا نہیں چل رہا ہے۔ کنور دلشاد کے مطابق چیف جسٹس نے نو سوالات کے جوابات مانگے تھے کہ کیسے آٹھ ججز کے تفیصلی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے ہی وضاحت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر آ گئی اور پھر وہ میڈیا کی زینت بھی بنی۔ سابق سیکریٹری کی رائے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر حکومت عملدرآمد نہیں کرے گی اور نظرثانی کی طرف جائے گی۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے کو مزید تقویت دے گا۔‘
