کیا حکومت ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ ملزمان کو اپیل کا حق دے گی؟

 

 

 

سپریم کورٹ نے 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے ملٹری ٹرائل کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیلوں کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ ملزمان کو اپیل کا حق دیتے ہوئے حکومت کو 45 روز میں قانون سازی کا حکم دے دیا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ حکومت یہ فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے ڈیڑھ ماہ میں مطلوبہ قانون سازی کرے گی یا نہیں۔

 

سویلینز کے ملٹری ٹرائل بارے حکومتی انٹرا کورٹ اپیلوں کا 68 صفحات پر مبنی فیصلہ جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا جسے 22 ستمبر 2025 کو سنایا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے فیصلے میں 47 صفحات کا اضافی نوٹ لکھا ہے۔  یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف 7 مئی کو حکومتی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کی تھیں اور پانچ ججز کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ جسٹس امین، جسٹس حسن رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، اور جسٹس شاہد بلال نے جسٹس محمد علی مظہر کے اضافی نوٹ سے اتفاق کیا تھا جس میں انہوں نے ملٹری کورٹس کے ٹرائل کو جائز قرار دیا، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم افغان نے اختلافی نوٹ تحریر کیا تھا۔

 

سپریم کورٹ نے حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سننے کے بعد سویلینز کے ملٹری ٹرائل کی اجازت دے دی تھی۔ لیکن اپنے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کے سزا یافتہ ملزمان کو اپیل کا حق دینے کے لیے حکومت کو 45 دن میں قانون سازی کرنے کا حکم دیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مناسب آئینی ردعمل آرمی ایکٹ کی دفعات کو یکسر کالعدم کرنا نہیں، آرمی ایکٹ میں بنیادی ضابطہ موجود ہے مگر عام شہریوں کیلئے مناسب اپیل کے فورم کا فقدان ہے جو فراہم کیا جانا ضروری ہے لہذا حکومت اس حوالے سے قانون سازی کرے۔

 

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ شہریوں کیلئے ہائیکورٹس میں آزادانہ اپیل کیلئے قانون سازی 45 روز کے اندر کی جائے۔اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کئی بار حق اپیل پر حکومتی ہدایات کیلئے وقت لیا، 5 مئی 2025 کو آخری سماعت پر بھی اٹارنی جنرل نے ایسا ہی کہا، اور یہ پیشکش بھی کی کہ اگر عدالت ہدایت دے تو سزا کے خلاف اپیل کہ سہولت فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی ہو سکتی ہے ۔

اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا کہ عدالتی حکم کو سنجیدگی سے لیا جائے گا لہذا اب عدالت اس حوالے سے قانون سازی کا حکم دے رہی ہے۔

 

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اپیل کے حق کی عدم موجودگی میں آرمی ایکٹ میں موجود ضابطہ کار عام شہریوں کیلئے آئینی طور پر مکمل نہیں، لہذا حق اپیل کی کمی کو پورا کرنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت سویلیمز کے ٹرائلز آئینی طور پر بنیادی حقوق کے نظام سے باہر رکھے گئے ہیں، لہذا ملٹری ٹرائل میں بھی آرٹیکل 10 اے میں وضع معیار کی پاسداری ہونی چاہیے۔

 

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل اختیارات کی تقسیم کے اصول سے متصادم نہیں، آرٹیکل 175(3) فوجی عدالتوں کے وجودکی نفی نہیں کرتا، اور اس پہلے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو خلاف قانون قرار دینے والے پانچ رکنی بینچ نے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں غلطی کی تھی۔ خیال رہے کہ رواں سال 7 مئی کو سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو درست قرار دیتے ہوئے حکومت کی انٹراکورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے آرمی ایکٹ کو اصل شکل میں بحال کردیا تھا۔

سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے مختصر فیصلہ سنا دیا تھا اور تفصیلی فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے اب 22 ستمبر کو جاری کیا گیا۔

 

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سویلین کے ملٹری ٹرائل کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے لیے گزشتہ سال 6 دسمبر کو جسٹس امین الدین خان کی سرابراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 9 دسمبر کو اپیلوں پر سماعت شروع کی تھی۔ بعدازاں مقدمے کی سماعت کے دوران آئینی عدالت نے 13 دسمبر 2024 کو 9 مئی کے واقعات میں ملوث 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہوں گے، جس کے بعد فوجی عدالتوں نے پہلے مرحلے میں 21 دسمبر کو 20 ملزموں کو 10 سال تک قید کی سزا سنائی تھی جبکہ 26 دسمبر کو دوسرے مرحلے میں عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی سمیت 60 ملزموں کو 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

 

یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو  عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔ اس دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، اور سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔

اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

Back to top button