کیا عمران کے خلاف مائنس ون فارمولا کامیاب ہو پائے گا؟

 

 

 

معروف صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں ماضی میں بارہا مائنس ون فارمولہ آزمایا گیا۔ یہ فارمولہ سب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو، پھر بے نظیر بھٹو اور بعد ازاں نواز شریف کے خلاف استعمال کیا گیا اور اب عمران خان اس فارمولے کی زد میں ہیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اگرچہ ماضی اور حال میں کئی مماثلتیں ہیں، تاہم آج ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ عمران خان کے حامی اپنے بیانیے کو جھوٹا ہونے کے باوجود مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی دباؤ، گرفتاریوں، پابندیوں اور مشکلات کے باوجود عمران کی مقبولیت میں قابل ذکر کمی نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق تاریخ کا پہیہ ہمیشہ سیدھی لکیر میں نہیں چلتا بلکہ فیصلہ کن لمحوں میں الٹا بھی گھوم جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت آشکار ہوتی ہے، بہروپ اتر جاتا ہے اور کردار بے نقاب ہو جاتے ہیں۔

 

سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ انسانی تاریخ میں بھگوڑے کبھی بہادر نہیں ٹھہرے مگر آج کے پاکستان میں بھگوڑے سب سے ذیادہ بہادر تصور کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب وہ جو مٹی ہیں اور مٹی سے جڑے ہوئے یہیں پڑے ہیں، وہ بزدل، کمپرومائزڈ اور لفافےقرار پائے ہیں۔  ان کے بقول آج کے سیاسی منظرنامے میں ایسے عناصر نمایاں ہیں جنہیں وہ ’بہادر بھگوڑے‘ کہتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو مشکل وقت میں ملک چھوڑ گئے اور محفوظ ٹھکانوں پر جا بیٹھے، ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے سوشل میڈیا بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے اکثریتی افراد بیرون ملک جا بیٹھے ہیں اور وہاں سے اندرونِ ملک موجود کمزور اور بے بس افراد پر لفظی تیر برساتے ہیں۔

 

اس کے بعد سہیل وڑائچ ان لوگوں کے لیے’ناتواں نگوڑوں‘ کی اصطلاح  استعمال کرتے ہیں جو پاکستان میں رہ کر دباؤ، تنقید، گالیوں اور سختیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ لوگ نہ تو عمران کے بیرون ملک بیٹھے سوشل میڈیا بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے یوٹیوبرز کی طرح ڈالرز کما رہے ہیں، اور نہ ہی انہیں کوئی بیرونی تحفظ حاصل ہے۔ انکے مطابق معاشرے شاید ایسے ہی بے حس ہوا کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک روپ اور بہروپ کی یہ آویزش جاری ہے۔ کانگریسی مسلمان کہتے تھے، ہم ہندوستان کی تقسیم اس لیے نہیں چاہتے کہ اس سے مسلمان تقسیم ہوجائیں گے اور لیگی مسلمان کہتے تھے کہ ہم ہندو کا غلبہ نہیں چاہتے۔

 

دونوں کے یہ نعرے دلفریب تھے مگر دونوں سچ سے کوسوں دور تھے۔ کانگریسی مسلمان اس لیے غلط تھے کہ اگر ہندوستان کے سارے مسلمان اکٹھے بھی رہتے تو اکثریت کی وجہ سے ہندوستان کی حکمرانی تو ہندو کے پاس ہی رہنی تھی اور لیگی مسلمان اس لیے غلط تھے کہ جن علاقوں میں پاکستان بنا وہاں تو پہلے ہی مسلمانوں کی حکمرانی تھی۔ پنجاب، سندھ، بنگال سب میں پہلے سے ہی مسلمان حکمران تھے۔ مگر یہ دونوں نعرے بہت بکے اور آج تک بہت بکتے ہیں۔ مسلم لیگ پاکستان کی حاکم بنی تو کانگریسی مسلمان، قوم پرست اور صوبہ پرست سب غدار ٹھہرے۔ حقیقت کچھ اور تھی۔ حکمران نااہل نکلے اور مخالف بدنیت ۔ مسلم لیگ راتوں رات ری پبلکن بنی تو ’غدار‘ ڈاکٹر خان صاحب اور ’مشکوک‘ حسین شہید سہروردی الزامات سے بری قرار دے کر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن گئے اور ماضی کے ’محبِ وطن‘ لیگی انہی غداروں کے ساتھ شریک سفر ہوکر حکمرانی کرنے لگے۔

9 مئی کے حملوں پر عمران کا ملٹری ٹرائل یقینی ہے: نجم سیٹھی

اسکے بعد کنونشن لیگ ملک کے استحکام اور خوشحالی کی پیامبر کا بہروپ بن گئی اور کونسل مسلم لیگ قائداعظم اعظم اور مادرملت کی وراثت کی دعویدار بن گئی۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ دونوں دعوے غلط تھے، کنونشن لیگ میں ایوب خان کے ساتھی اور انکے مفادی تھے، کونسل لیگ بہتر تھی مگر بعد میں سب اقتدار کے پجاری ثابت ہوئے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بہادر بھگوڑوں اور ناتواں نگوڑوں کی یہ داستان سات دہائیوں سے جاری ہے لیکن مار ہمیشہ سچ کو پڑی ہے اور جھوٹ کا بول بالا ہوتا رہا ہے۔ اب بھی وہی چلن ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف کے خلاف مائنس ون فارمولے آزمانے کے بعد اب اسی سوچ کو عمران خان کے تناظر میں دہرایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر بار یہی ہوتا ہے کہ وقتی طور پر طاقتور حلقے غالب آ جاتے ہیں، جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور سچ بولنے والوں کو دیوار سے لگایا جاتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی ’گالیاں‘ تاریخ میں ٹرافیوں میں بدل جاتی ہیں۔ انکے مطابق آج جھوٹ کو پاؤں ہی نہیں بلکہ پہیے لگ چکے ہیں، جبکہ سچ معذور بنا بیٹھا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بیرون ملک فرار ہو جانے والے بہادر بھگوڑے وقتی طور پر کامیاب دکھائی دیتے ہیں، لیکن تاریخ کا پہیہ آخرکار گھومتا ضرور ہے اور اسکا فیصلہ ہمیشہ طاقت، شور یا بیانیے کے زور پر نہیں بلکہ حقیقت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

Back to top button