کیا ہاتھیوں سے جنگ میں کبھی بندروں کی جیت ہو پائے گی ؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے پاکستانی قوم کو بندروں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دنیا بھر کے بندر بس ایک جیسے ہی ہیں۔ جیسے دنیا بھر کے محنت کش کبھی اکٹھے نہیں ہو سکے، ویسے ہی ہم مظلوم اور محروم بندر بھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اگر اکٹھے ہونا ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ ہم سب بندر برابر ہیں، ہم میں سے کوئی ہیرو نہیں۔ ہیرو وہ ہو گا جو سب بندروں سے مصالحت کرکے ہاتھیوں سے تھوڑا بہت اقتدار اور ا ختیار واپس حاصل کر لے، مگر آج کل کے بندروں میں وہ صلاحیت دور دور تک نظر نہیں آتی۔ ہم پاکستانی بندروں کا مقدر پے درپے شکستیں ہیں کیونکہ ہمارے لیڈر ماضی سے کوئی سبق جو حاصل نہیں کرتے ….!
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ ہم سیاسی بندر بھی عجیب ہیں۔ ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں، ہم خود اپنے دشمن ہیں ۔جنگل کے باقی جتنے بھی جانور ہیں وہ اپنے ریوڑ کو پالتے ہیں، ان کا تحفظ کرتے ہیں۔ ہاتھی تو خاص طور پر اپنی کلاس کیلئے لڑنے لڑانے اور مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ ہم بندروں کے خلاف اکٹھے ہیں جبکہ ہم پولیٹکل کلاس والے بندر پورے 75سال سے آپس میں لڑ بھڑ رہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں شریک رہتے ہیں، ایک کو مار پڑتی ہے تو ہم باقی سارے تالیاں بجاتے ہیں، پھر دوسرے کی باری آتی ہے تو پہلے والے تالیاں بجاتے ہیں۔
ہم بندروں کی خصلت ہے کہ ہم اپنے ہم ذاتوں سے تو لڑتے ہیں لیکن ہاتھی سامنے آ جائے تو ہم آگے بڑھنے کی جگہ دے دیتے ہیں، ہم اس کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں، ہم اسکے سامنے مزاحمت اس لئے نہیں کر پاتے کہ ہم کبھی اکٹھے ہی نہیں ہو پاتے، ہم حملہ آور کیلئے ابریشم اور اپنے قبیلے کیلئےفولاد ہیں، ہماری آپسی لڑائیوں نے جنگل سے ہمارا اختیار بالکل ختم کر دیا ہے، ہاتھی سارے اقتدار و اختیار کے مالک بن چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگل کی ساری سپیس بھی ہم نے ہی انہیں دی ہے، حالانکہ سرحد پار کے دشمن جنگل میں بندروں نے ہاتھیوں کو مکمل بے اختیار کرکے رکھا ہوا ہے ۔اب تو بندروں کا یہ حال ہوگیا ہے کہ انہیں ہر فیصلے کی منظوری ہاتھیوں سے لینی پڑتی ہے، ایک زمانے میں بندروں کے پاس کم از کم جنگل کی معیشت چلانے کا مکمل اختیار ہوتا تھا، مگر ہاتھی بندروں کی نااہلی پر ہر وقت نالاں رہتے تھے، پھر ہاتھیوں کے سردار نے ایک دن سرعام کہا کہ معیشت کی بحالی بھی اُن کی ذمہ داری ہے کیونکہ بندر یہ ذمہ داری اٹھانے کے اہل نہیں ہیں، انہیں ڈر تھا کہ بندروں کی بندر بانٹ کی وجہ سے کہیں جنگل کی معیشت کاجنازہ ہی نہ نکل جائے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آج کل ہاتھی اور بندروں کا قابض گروہ، بندروں کے ایک مخالف گروہ کے خلاف مسلسل برسر پیکار ہے۔ بندروں کا مخالف گروہ سیاسی گمراہی کا شکار ہے ،پریشان ہے، خوفزدہ ہے، مایوس ہے، اور دنیا کے سب سے بڑے جنگل سے کمک کا منتظر ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وہاں کے بندر اور ہاتھی ملکر اِس جنگل کے ہاتھیوں پر دبائو ڈالیں گے اور جیل میں موجود قیدی رہا ہو جائیں گے۔ لیکن یہ حربہ اتنا آسان بھی نہیں کیونکہ ہے بیرونی ہاتھی، پورس کے ہاتھی ہوتے ہیں، وہ صرف مخالف ہاتھیوں سے نہیں لڑتے بلکہ وہ بندروں کو بھی نشانہ بناتے ہیں، اور تو اور وہ تو نیل کے کھیت بھی تاراج کردیتے ہیں۔ پاکستانی جنگل ،افغانی، شامی، لیبیائی اور ایرانی جنگلوں سے بالکل مختلف ہے۔ پاکستانی جنگل کے ہتھیار اور اثاثے بہت تگڑے ہیں، دنیا بھر کے دو سو جنگلوں میں سے صرف آٹھ جنگل ایسے ہیں، جن کے پاس یہ ہتھیار اور اثاثے ہیں۔
پاکستانی جنگل معاشی طور پر کمزور ہے دوسرے جنگلوں سے ادھار لیتا ہے، یہ آج کل دبائو میں ہے مگر طاقتور ہاتھی دوطرفہ حکمت عملی بنا چکے ہیں، دبائو آیا تو پہلے لچک دکھانی ہے اور پھر اڑ جانا ہے۔ ڈٹ جانا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ سپر جنگل کے نئے ٹرمپو بندر کیساتھ بھی رابطے بحال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، سپر جنگل کے ہاتھیوں اور پاکستانی جنگل کے ہاتھیوں کا آپس میں 75 برسوں سے گہرا واسطہ اور رابطہ ہے، سپر جنگل کے ہاتھی پاکستان کے ہاتھیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، وہ بھی ٹرمپو کو سمجھائیں گے۔
سہیل وڑائچ کے بقول پاکستانی بندروں کا زیر عتاب گروہ آج کل بہت خوش ہے مگر مقبول بندروں کو ٹرمپو اور سپر جنگل سے امداد آئی تو ان کی پاکستانی جنگل میں شہرت اور مقبولیت کو نقصان پہنچے گا۔ وہی سپر جنگل اور ٹرمپو بندر شام، لیبا، عراق ، فلسطین اور ایران میں جو کچھ کر رہے ہیں، تضادستانی عوام و خواص اس سے سخت ناراض ہیں، لہٰذا زیر عتاب گروہ کو ٹرمپو بندر کے ساتھ اتحاد بہت مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔ اس وقت کی صورتحال یہ ہے کہ زیر عتاب گروہ مقبول تو ہے مگر اپنے لیے ہمدردی رکھنے والوں پر اپنی گرفت گنوا رہا ہے۔ بندروں کے حامیوں کی کئی اقسام ہوتی ہیں، ایک صرف ووٹر ہوتے ہیں جو جنگل کے الیکشن میں ووٹ ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ وہ انقلاب لے آئے ہیں۔ دوسری قسم کے بندر ہمدردی کے بول بولتے رہتے ہیں، وہ محفلوں میں زبان چلاتے ہیں مگر عمل کا وقت آئے تو گھروں میں دُبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ تیسری قسم کے بندرسب سے قیمتی ہوتے ہیں، وہ اپنی سیاست، اپنے نظریے اور اپنے لیڈر کیلئے جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔ زیر عتاب بندروں کے پاس کم از کم پنجابی جنگل میں پہلی دو قسموں کے بندر تو وافر ہیں مگر تیسری قسم کے بندر اب بہت کم ہیں۔ اصل میں بندروں کی جنگ میں وہی جیتتا ہے جس کے پاس تیسری قسم کے بندوں کی بہتاب ہو، ایسی صورت میں ہم بندروں کی یہ قسم لڑبھڑ کر، قربانیاں دیکر ،جانیں دیکر اپنے لیڈر کو اقتدار میں لے آتی ہے۔
ن لیگ کے پاس اتنی اکثریت نہیں یکطرفہ فیصلے کرسکے : بلاول بھٹو
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ فرض کریں کہ اقتداری اور عقابی بندروں میں مصالحت ہو جائے تو جنگل کی سیاسی صورتحال یکسر بدل جائے گی، ہاتھیوں کے دانت کھٹے ہو جائیں گے اور وہ واپس اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ جائیں گے مگر ہم سیاسی بندروں کی سرشت میں عقل وفہم کی کمی ہے۔ ہم سب بندر انفرادی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارا بچائو، ہماری عزت اور ہمارا اقتدار تب ہی ہمیں مل سکتا ہے جب ہم میں مصالحت ہو گی، مگر ہم بندروں کی انائیں بہت بڑی ہیں، مجھے ہر دوسرے بندر سے اختلاف ہے، ضد صرف یہ یے کہ میں دوسرے بندر کو خود سے بڑا کیوں مانوں؟ میں تو خود بہت بڑا ہوں؟ میرا لیڈر بڑا ہے، میرا لیڈر ایماندار ہے، میری جماعت اچھی ہے جبکہ باقی سب لیڈر برے ہیں، سب جماعتیں بری ہیں، حالانکہ قاضی اور ہاتھی دونوں کی نظر میں سب بندر ایک جیسے ہیں، سب ہی کرپٹ، سب ہی نااہل اور سب ہی قابل سزا ہیں، باری باری سب بندروں پر کرپشن، نااہلی، بے ایمانی اور غداری کے الزامات لگ چکے ہیں، سب کو سزائیں بھی ہو چکی ہیں مگر پھر بھی ہم سب کو یقین ہے کہ میں تو ٹھیک ہوں لیکن باقی بندر برے ہیں، ہاتھیوں کی یہی کامیابی ہے کہ وہ بندروں کو لڑا کر رکھتے ہیں ایک کو سزا دیتے ہیں تو دوسرے کو اقتدار کا انعام دیکر اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں۔
