کیا پاک بھارت ہینڈ شیک سے کشیدگی کا خاتمہ ہو پائے گا ؟

 

 

 

نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت خطرناک حد تک ہندوبالادستی کے جنون میں مبتلا ہوچکا ہے جبکہ دونوں ممالک کے مابین مئی میں ہونے والی مختصر جنگ کے بعد سے بھارت میں پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کے خواہاں افراد کی تعداد دن بدن قلیل سے قلیل تر ہوتی جا رہی ہے ایسے میں بنگلہ دیش میں سپیکر سردار ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے مابین مصافحے کی شکل میں ہونے والے اعلیٰ سطحی رابطے کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم سینئر صحافی نصرت جاوید کے مطابق خطے کے موجودہ کشیدہ حالات میں سردار ایاز صادق اور جے شنکر کے رسمی مصافحے کی صورت میں علامتی رابطے سے پاک بھارت تعلقات کی بحالی کے امکانات معدوم ہیں۔

 

پاک بھارت تعلقات میں مصافحہ ڈپلومیسی کے حوالے سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید کا اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہنا ہے کہ 2025 کے آخری روز یعنی 31 دسمبر کو ٹیلی ویڑن سکرین پر اچانک بینڈ،باجہ اور بارات کے ساتھ پاک بھارت رابطے بارے ’’بریکنگ نیوز‘‘ آنا شروع ہوگئی۔ فرطِ جذبات سے مغلوب ہوئی آواز میں اینکر خواتین وحضرات خبر دے رہے تھے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی تدفین کے روز بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر جب تعزیت کے لئے ڈھاکہ پہنچے تو پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق بھی وہاں موجود تھے۔ سردار ایاز صادق کو دیکھتے ہی جے شنکر ازخود ان کی جانب بڑھے اور مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھادیا۔ سپیکر قومی اسمبلی بڑھے ہاتھ کو ٹھکرا نہیں سکتے تھے۔ اس لئے انھوں نے بھی اپنا ہاتھ آگے بڑھادیا۔ یوں دونوں کے مابین مصافحہ ہوگیا۔ مصافحہ کے بعد ان دونوں میں کیا گفتگو ہوئی اس کے بارے میں خبر دینے والوں کو کچھ علم نہیں تھا۔ جو نظر آیا وہ مگر جے شنکر اور ایاز صادق کے مابین ہوئے مصافحہ کو ’’اہم‘‘ قرار دینے کے لئے کافی تھا۔

 

نصرت جاوید کے مطابق مصافحہ کی تصاویر کو سکرین پر دہراتے ہوئے اس پہلو کو بارہا اجاگر کیا گیا کہ گزرے برس کے مئی میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہوئی جنگ کے بعد پہلا موقع تھا جب متحارب ممالک کے مابین ایک تیسرے ملک میں اعلیٰ ترین سطح پر خواہ مختصرہی سہی غیر مخاصمانہ رابطہ ہوا۔ نصرت جاوید کے بقول اس رابطے کو رپورٹ کرتے ہوئے شاعرانہ استادی کے ذریعے بین السطور یہ پیغام بھی دینے کی کوشش ہوئی کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر نے پہل نہیں دکھائی تھی۔ ان سے مصافحہ کے لئے قدم اور ہاتھ بھارتی وزیر خارجہ نے بڑھائے۔ مذکورہ پہلو پر توجہ دینے کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ ’’پہل‘‘ بھارت کی جانب سے ہوئی ہے۔ وہ غالباََ پاکستان کے ساتھ تنائو برقرار رکھتے ہوئے تھک گیا ہے۔ اب تعلقات معمول پر لانے کی راہ ڈھونڈنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

 

تاہم نصرت جاوید کے مطابق نریندر مودی کی وزارت عظمیٰ میں تیسری میعاد تک پہنچتے ہوئے بھارت خطرناک حد تک ہدوتوا اور ہندوبالادستی کے جنون میں مبتلا ہوچکا ہے۔ پاکستان کی مخالفت بھارت کے فیصلہ ساز حلقوں اور اشرافیہ کی بالاترسوچ بن چکی ہے۔ اس سوچ کے ہوتے ہوئے جے شنکر کا مصافحہ کے لئے سردار ایاز صادق کی جانب بڑھنا مجھے خیر کی کوئی امید دلاتا نظر نہیں آتا۔ ایسے میں ہمارے ٹی وی اینکروں کی جانب سے مصافحے کے بعد جذبات سے مغلوب ہوئی آواز میں جو کہانی بیان ہوئی ہے وہ جی کو خوش رکھنے کی بچگانہ کوشش کے سوا کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ نصرت جاوید کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے ہاتھ بڑھاکر سردار ایاز صادق کی جانب بڑھنے کی تصویر بنگلہ دیش کے عبوری وزیر اعظم ڈاکٹر یونس صاحب نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر بنائے اکائونٹ سے جاری کی تھی۔ تاہم اس حوالے سے حیران کن خبر یہ بھی ہے کہ خالدہ ضیاء کے انتقال کی تعزیت کیلئے بنگلہ دیشی پارلیمان کی عمارت میں غیر ملکی مہمانوں کیلئے مختص کمرے میں خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمن اور خاندان کے دوسرے افراد کو پرسہ دینے جب بھارتی وزیر خارجہ تشریف لائے تھے تو وہاں ڈاکٹر یونس بذاتِ خود موجود نہیں تھے۔ تاہم سردار ایاز صادق ان سے قبل وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ نصرت جاوید کے بقول جے شنکر جب طارق رحمن کو پرسہ دینے پہنچے تووہاں موجود سب افراد کھڑے ہوگئے۔ سردار ایاز صادق بھی ان میں شامل تھے۔ جے شنکر نے کھڑے افراد سے مصافحہ کیا موقع کی مناسبت سے ان کیلئے سردار ایاز صادق کو نظرانداز کرنا ناممکن تھا۔ ایسے میں انہوں نے اپنا نام بتاتے ہوئے سردار ایاز صادق سے ہاتھ ملالیا اور ساتھ ہی یہ اطلاع بھی دے دی کہ وہ جانتے ہیں کہ سردار ایاز صادق کون ہیں۔ سردار ایاز صادق نے بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں پہچاننے کا عندیہ دیا۔ ان رسمی جملوں کے سوادونوں میں مزید کوئی بات نہ ہوئی۔

 

نصرت جاوید کے مطابق حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تعزیت کے رسمی موقع پر پاکستان اور بھارت کے دو اہم افراد کی اتفاقیہ اور مختصر ملاقات کو مئی 2025ء کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین ’’اہم رابطہ‘‘ والی کہانی بناکر ٹی وی سکرینوں پر بارہا دہرانے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ نصرت جاوید کے مطابق  بھارتی وزارت خارجہ نے سرکاری طورپر جے شنکر کے مختصر دورہ بنگلہ دیش کی جو تصاویر جاری کی ہیں ان میں سے ایک میں بھی انہیں سردار ایاز صادق کی جانب بڑھنے کے بعد ان سے مصافحہ کرتے ہوئے نہیں دکھایا گیا۔ نصرت جاوید کے بقول اگر بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر کے ساتھ آگے بڑھ کر ہاتھ ملانے کا مقصدپاکستان اور بھارت کے مابین ’’جمی برف پگھلانا‘‘ ہوتا تو بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہوئی تصاویرمیں جے شنکر کا ایازصادق سے ہاتھ ملانا بھرپور انداز میں اجاگر کیا جاتا۔ اس لئے مصافحے کو  ’’تاریخی‘‘ اہمیت دینے سے ا جتناب ہی بہتر ہے۔

Back to top button