کیا صدر ٹرمپ کا اقتدار پاکستان کے لیے مشکلات لائے گا؟

نومنتخب امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ 20جنوری کو اپنے عہدہ صدارت سنبھالیں رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف یوتھیوں نے ٹرمپ سے عمران خان کی رہائی کی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں وہیں حکومتی ذمہ داران پاکستان کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کو "مشکل وقت” کے آغاز سے تعبیر کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی اندرونی حلقے ٹرمپ کے دور اقتدار میں دو طرفہ تعلقات میں ممکنہ رکاوٹوں کے سامنے آنے کا بھی عندیہ دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
حالیہ پیش رفت سے واقف ذرائع کے مطابق پاکستان کا ٹرمپ کے آنے سے پاک امریکہ تعلقات میں بگاڑ کا یہ اندازہ 2 وجوہ پر مبنی ہے۔ایک ٹرمپ کی ترجیحات اور دوسرا ٹرمپ کی کابینہ میں پاکستان سے متعلق مثبت نظریہ نہ رکھنے والے افراد کی تعداد کی بنا پر یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ان کے آنے سے پاک امریکہ تعلقات شدید متاثر ہونگے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان کے خلاف عوامی اشتعال انگیزی کی بنا پر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل پر زیادہ توجہ مرکوز ہے تاہم نئی انتظامیہ میں اہم عہدوں پر فائز پاکستان دشمن دیگر افراد بھی ہیں جن پر اس حوالے سے نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ایک ذریعے نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے اندر پاکستان سے ہمدردی رکھنے والے افراد زیادہ نہیں ہیں کیونکہ اسلام آباد اب امریکہ کی ترجیح نہیں رہا۔ تاہم اس کھ باوجود واشنگٹن میں پاکستانی مشن امریکی پاور کوریڈورز میں راہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق اگرچہ سبکدوش امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل پاکستانی حکام کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقاتوں میں بائیڈن کے دور میں دوطرفہ تعلقات کی ایک خوبصورت تصویر پیش کی ہے تاہم اصل صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنی چار سالہ مدت کے دوران امریکی صدر بائیڈن نے کسی پاکستانی وزیر اعظم سے بات تک نہیں کی۔
اسی طرح اس عرصے میں اعلی سطح کے کسی امریکی وفد نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ امریکی وزیر خارجہ بلنکن، جنہوں نے کئی مواقع پر بھارت سمیت خطے کا دورہ کیا، تاہم وہ کبھی اسلام آباد میں نہیں رکے۔اُلٹا بائیڈن کی مدت ختم ہونے سے صرف چند ہفتے قبل ان کے سینئر معاون نے حیران کن دعویٰ کردیا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام امریکہ اور خطے کے لیے خطرہ ہے۔
واشنگٹن میں مقیم تھنک ٹینک کے ایک رکن کا خیال ہے کہ امریکی نائب قومی سلامتی کے مشیر کا بیان اس لیے حیران کن نہیں تھا کیونکہ امریکی سیاسی حلقوں میں بہت سے لوگ پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس کے باوجود بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ایک خاص سطح پر رکھا اور اسلام آباد کو آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔
تاہم اب پاکستانی حکام کو خدشہ ہے امریکہ کی جانب سے اب اس طرح کا تعاون بھی تبدیل ہو جائے گا کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اسلام آباد کو زیادہ احسن طریقے سے نہیں دیکھ سکتی۔ پاکستان کے لیے اس منظر نامے میں ممکنہ لائف لائن سعودی عرب ہو سکتا ہے جس کے منتخب صدر ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ ‘‘
تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ کا دوسرا دورِ صدارت پاکستان کے لیے کیسا ہو گا؟جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے ٹرمپ کی وائٹ ہاوس میں موجودگی کی کیا اہمیت ہو گی اور کیا پاکستان سے متعلق امریکہ کی موجودہ پالیسی میں کوئی تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے؟
اس حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو جنوبی ایشیا پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کی اہمیت کا اندازہ تو ہے۔ اگر امریکہ وسط ایشیائی ریاستوں اور افغانستان سے تعلقات استوار کرنے کے ساتھ وہاں چین اور روس کا اثر و رسوخ کم کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اسے پاکستان کا تعاون درکار ہو گا کیونکہ امریکہ کو یہ خدشہ ہے کہ افغان سرزمین دوبارہ دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ پاکستان تو تواتر کے ساتھ یہ کہہ رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔لہٰذا امریکہ انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔
جب شیخ وقاص اکرم نے عمران کو 190 ملین پاؤنڈز کیس میں شرم دلائی
بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق چوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں اور انہیں امریکی صدر بننے کا یہ آخری موقع ملا ہے اس لیے وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ پہلے والی غلطیاں نہ دہرائیں۔ تاہم جہاں تک پاکستان اور اس خطے کا تعلق ہے۔ صدر بننے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ بھارت یا پاکستان میں کسی کی سائیڈ نہیں لیں گے تاہم بھارت کو تو وہ بالکل ناراض نہیں کریں گے کیونکہ وزیرِ اعظم مودی سے ٹرمپ کی پہلے ہی اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے اور یہ بات واضح ہے کہ خطے میں صدر ٹرمپ کا جھکاؤ بہرحال بھارت ہی کی جانب ہو گا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں یوتھیوں کے اندر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ٹرمپ صدر بننے کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اچھے تعلقات کی وجہ سے پاکستانی حکام پر اُن کی رہائی کے معاملے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی پیشگوئی کرنا قبل ازوقت ہے۔ تاہم لگتا نہیں ٹرمپ اس حوالے سے کوئی کردار ادا کرینگے کیونکہ کوئی بھی ملک کسی ایک شخص کے لئے دوسرے کسی ملک سے تعلقات کیوں خراب کرے گا۔ تاہم عمران خان کی رہائی کے حوالے سے ٹرمپ کی جانب سے کوئی ٹوئٹ یا پیغام خارج از امکان نہیں۔
