وفاقی شرعی عدالت نے آئینی عدالت کو اپنی بلڈنگ دینے سے انکار کر دیا

وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی آئینی عدالت کو اپنی عمارت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد قائم کی جانے والی آئینی عدالت کے ججز کو عارضی طور پر وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں رکھنے کی تجویز زیرِ غور تھی، تاہم وفاقی شرعی عدالت نے اپنی بلڈنگ فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

وفاقی شرعی عدالت کے انکار کے بعد چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت، جسٹس امین الدین خان، فی الحال اسلام آباد ہائی کورٹ کے روم نمبر ایک میں بیٹھیں گے۔ اس انتظام کے تحت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، سردار سرفراز ڈوگر، کو روم نمبر دو میں منتقل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر جسٹس امین الدین خان کی بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت تقرری کی منظوری دی تھی، جس کے بعد آج جسٹس امین الدین نے بطور پہلے چیف جسٹس حلف اٹھایا جبکہ آئینی عدالت کے مزید تین ججوں نے بھی اپنے عہدوں کا حلف لیا۔

Back to top button