امریکہ کا شہباز حکومت سے پیار کی پینگیں ڈالنے کا فیصلہ
عمران خان کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد امریکی انتظامیہ نے پاکستان کی نئی سیاسی قیادت کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ ایک برس پہلے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکی صدر جو بائیڈن نے عمران خان کا باقاعدہ بائیکاٹ کر رکھا تھا چنانچہ موصوف نے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد اسی بات کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے امریکہ پر اپنے خلاف سازش کرنے کا الزام لگا دیا۔
اب ایک تازہ ڈویلپمنٹ میں امریکا کے بڑے تھنک ٹینک ’بروکنگس‘ نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں صدر بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ نئے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات کو بحال کرنے کا آغاز کریں۔یاد رہے کہ رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک بروک رائیڈل سابق امریکی صدر باراک اوباما اور ہیلری کلنٹن کی انتظامیہ میں مشیر کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ ان کے موجوہ امریکی ڈیموکریٹک سیٹ اپ سے بھی قریبی تعلقات ہیں۔ اس رپورٹ کی دوسری مصنفہ مدیحہ افضل سینٹر فار مڈل ایسٹ پالیسی میں فیلو کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں مداخلت کے خاتمے اور پاکستانی قیادت میں تبدیلی امریکا کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ دنیا کے پانچویں بڑی آبادی والے ملک پاکستان کے ساتھ طویل عرصہ سے اپنے بگڑے ہوئے تعلقات کو بحال کرے۔ انہوں نے لکھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ اعلیٰ سطح پر تبادلہ خیال کرنا چاہیے کیونکہ شہباز شریف پاکستان میں نئے انتخابات ہونے سے پہلے ایک سال تک حکومت میں ہوں گے۔
رپورٹ کے مصنفین نے لکھا کہ چونکہ امریکی پالیسی افغانستان میں جنگ لڑنے پر مرکوز تھی اس لیے پاکستان میں ہمارے بنیادی شراکت دار عسکری اور انٹیلی جنس سروس تھی اور سویلین حکومت پر کم توجہ دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب واشنگٹن، بھارت اور چین کے ساتھ علاقائی استحکام، جنوبی ایشیا میں ترقی کی حوصلہ افزائی اور پاکستان میں منتخب جمہوری قوتوں کی مضبوطی کی حمایت جیسے امور پر ہمارے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان کے مسائل کو ترجیح دیئے بغیر اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ امریکا کو اسلام آباد میں فیصلہ سازی پر پاکستان کے قریبی اتحادی چین کے اثر و رسوخ کو کسی حد تک متوازن کرنے میں بھی دلچسپی ہے۔ رپورٹ کے منصفین نے لکھا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اور خاص طور پر وائٹ ہائوس نے پاکستان کے لیے آج تک نسبتاً غیردوستانہ رویہ دکھایا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب عمران خان وزیر اعظم تھے اس وقت بائیڈن نے ان سے بات نہیں کی لہٰذا اب انہیں نئی حکومت کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ منصفین نے وائٹ ہائوس پر زور دیا کہ شہباز شریف سے جلد از جلد ملاقات کی جائے کیونکہ وہ تین مرتبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بھائی ہیں جو خود تین بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔