گاما پہلوان پاکستانی تاریخ کا ایک دیو مالائی کردار کیسے بنا؟

مشہور زمانہ گاما پہلوان پاکستان مین پہلوانی کی تاریخ کا ایک دیومالائی کردار ہیں۔ انھیں مشرق کا ہرلوکیس کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، گھنی لمبی مونچھیں، پانچ فٹ سات انچ قد،46 انچ چوڑے سینے اور 34 انچ کی کمر کا حامل گاما پہلوان اپنی زندگی کے 50 برس میں تقریباً 400 مقابلوں کے دوران ناقابل تسخیر رہے انھوں نے اپنی زندگی کے 50 برس کشتی لڑنے کے بعد مایوس ہو کر پہلوانی سے کنارہ کشی اس لیے اختیار کر لی کہ کوئی بھی پہلوان اکھاڑے میں ان کا سامنا کرنے سے کتراتا تھا۔ گاما پہلوان نے زندگی میں سینکڑوں مقابلے کئے لیکن ان کا پولش پہلوان زبیشکو سے ہونے والا مقابلہ اسوقت تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ گیا جب صرف 30 سیکنڈ میں گاما نے ہیوی ویٹ ورلڈ چمپئین کو چت کر کے عمر بھر اکھاڑے میں ناقابل شکست رہنے کے اپنے اعزاز کا دفاع کیا۔ اطالوی پہلوان زبشکو اور گامے پہلوان کے مابین 1928 میں ہونے والے آخری مقابلے کے وقت دونوں شہ زوروں کی عمر 50 سال کے لگ بھگ تھی، زبشکو ہیوی ویٹ ورلڈ چیمپیئن بن چکا تھا اوروہ واحد پہلوان تھا جس نے گامے کا سامنا کیا ہوا تھا لیکن شکست نہیں کھائی تھی۔ دوسری جانب گاما پہلوان تقریبا ریٹائر ہو چکے تھے کیونکہ کوئی پہلوان ان کا سامنا نہیں کرتا تھا۔
تب گاما پہلوان نے بتایا تھا کہ ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ زبشکو کبھی دوبارہ میرے ساتھ مقابلہ کرے گا۔ جب اس نے 20 سال کے بعد مجھے دوبارہ چیلنج کیا تو مجھے اس کی جرات دیکھ کر خوشی ہوئی اور میں نے بھی تیاری شروع کر دی۔ 29 جنوری 1928 کو ہندوستان بھر سے تماشائی یہ کشتی دیکھنے کے لیے پٹیالہ آئے، ان میں کئی خودمختار ہندوستانی ریاستوں کے مہاراجہ بھی شامل تھے۔ گاما نے بتایا تھا کہ ’جب زبشکو اور میں اکھاڑے میں پہنچے تو بالکل سناٹا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہاں ہم دونوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں۔ ہم دونوں نے ہاتھ ملایا۔ پھر اس نے اپنا چغہ اتار کر اپنے مینیجر کو دیا اور وہ میرے جانب بڑھا۔1910 کی طرح اس بار بھی اکھاڑے میں قدم رکھنے کے چند لمحوں کے بعد زبشکو زمین پر تھا، لیکن اس بار یہ اس کی شکست تھی۔ زبشکو اس کے بعد پہلوانی سے ریٹائر ہوگئے۔
گاما پہلوان نے مقابلے کے بعد ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ میں نے سیکنڈوں میں ہی اسے زمین پر گرا دیا اور تین منٹ تک اس کی چھاتی پر بیٹھا رہا۔ اس کے بعد مجھے اٹھنے کا کہا گیا۔ میں نے زبشکو سے دوبارہ ہاتھ ملایا اور مہاراجہ کو سلام کرنے گیا۔ مہاراجہ بہت خوش تھا۔ اس معرکے میں واحد شخص جو ناخوش تھا وہ انگریز کنسٹرکٹر تھا جس نے پٹیالہ میں 1928 کی اس تاریخی کشتی کے لیے خصوصی طور پر اکھاڑہ تیار کیا تھا۔ اس نے گاما پہلوان سے شکوہ کیا تھا کہ ’تم نے سیکنڈز میں ہی اسے زیر کر لیا اور میری چھ ماہ کی محنت پر پانی پھیر دیا۔ گاما نے جواب دیا: ’اگر پلک چھپکتے ہی اسے زیر نہ کرتا تو اس میں کیا کاری گری رہ جاتی، یہی تو میری کاری گری تھی کہ اسے پتہ بھی نہیں چلا۔‘
1928 میں گاما پہلوان اور ورلڈ چمپئین زبشکو کے مابین ہونے والے آخری مقابلے سے قبل بھی دونوں پہلوانوں کے مابین ایک مقابلہ ہوا جس میں دونوں ناقابل شکست رہے۔1910 میں گاما پہلوان نے یورپ کا دورہ کیا لیکن اٹلی اور فرانس میں کوئی پہلوان ان کے مقابلے میں نہ آیا، پھر وہ لندن پہنچے جہاں دنیا بھر کے پہلوان جمع تھے جن میں ترکی کے رستم محمود، ماریکی پہلوان رولینڈ، اطالوی رستم جان لیمب، انگلستان کے ہاک سمتھ اور پولش پہلوان ستنیسواو زبیشکو شامل تھے۔ دنیا کے مانے ہوئے پہلوانوں کے درمیان کھڑے ہو کر گاما پہلوان نے اعلان کیا کہ جو پہلوان ان سے پانچ منٹ تک کشتی لڑے گا وہ انھیں پانچ پاؤنڈ انعام دیں گے، چنانچہ گلاسکو، لیورپول، مانچسٹر وغیرہ میں 40 کشتیاں ہوئیں لیکن کوئی انھیں پچھاڑ نہ سکا تھا۔ بعد میں امریکی رستم رولینڈ نے کشتی لڑی اور گاما نے اسے بھی چند منٹوں میں گرا دیا۔ اس کے بعد پولش پہلوان ستنیسواو زبیشکو نے گاما پہلوان سے نبرد آزما ہونے کا فیصلہ کیا۔
اس تاریخی کشتی کا ذکر ستنیسواو زبیشکو نے سنہ 1937 میں شائع ہونے والی اپنی آپ بیتی ’ان دی باکسنگ رنگز آف دی ورلڈ‘ میں بھی کیا ہے۔ یاد رہے کہ 1910 میں پہلی بار زبیشکو کو ہرا کر گاما پہلوان نے ’رستم زماں‘ کا خطاب حاصل کیا تھا، انھیں ایک طلائی پیٹی اور گرز بھی عطا کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے رحیم بخش سلطانی والا کو لکھنئو میں ہونے والی کشتی میں زیر کر کے ’رستم ہند‘ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ سنہ 1927 تک گاما پہلوان ناقابل شکست رہے تھے اور برصغیر کے تمام نامی گرامی پہلوانوں کو چت کر چکے تھے۔
سنہ 1928 میں بالآخر ان کا سامنا ایک بار پھر زبیشکو کے ساتھ ہوا اور اس بار پٹیالہ میں میدان سجا لیکن مقابلہ اسوقت 30 سکینڈ میں تمام ہو گیا جب گاما بجلی کی سی تیزی سے جھپٹے اور زبیشکو کو پچھاڑ کر ان کی چھاتی پر بیٹھ گئے اور عوام کو یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ مقابلہ ختم ہو چکا ہے۔ ’زبیشکو نے اس مقابلے کے بعد گاما پہلوان کو شیر کا خطاب دیا تھا۔