بیرون ملک تعینات پاکستانی سفارتکار واپس آنے سے انکاری

پاکستان سے بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کا رجحان اب ایک سنجیدہ قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں ہر دوسرا شخص، چاہے وہ ان پڑھ ہو یا اعلیٰ تعلیم یافتہ، کسی نہ کسی طریقے سے ملک چھوڑنے کا خواہشمند نظر آتا ہے۔ صورتحال یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفارتی عملے نے بھی یورپی ممالک کی شہریت لینے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دئیے ہیں۔ جس نے حکومت کیلئے ایک نیا سفارتی بحران پیدا کر دیا ہے
اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور دیگر پروفیشنلز سمیت 12 لاکھ سے زائد ہنر مند افراد پاکستان سے باہر جا رہے ہیں جبکہ گذشتہ سال کے پہلکے 8 ماہ کے دوران 7 لاکھ 27 ہزار سے زائد پاکستانی بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ گئے ہیں۔ "برین ڈرین” کا یہ مسئلہ اب عام شہریوں یا ہنر مند افراد تک محدود نہیں رہا۔ اطلاعات کے مطابق اب بیرونِ ملک تعینات کئی پاکستانی سفارت کار بھی پاکستان واپس جانےسے انکاری ہو گئے ہیں اور انھوں نے امریکہ سمیت مختلف یورپین ممالک میں شہریت اور مستقل سکونت کی کوششیں شروع کر دی ہیں
پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع کے مطابق موجودہ قوانین کے تحت کسی سفارت کار کا ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر امریکا یا کسی اور ملک میں امیگریشن حاصل کرنا ممکن نہیں کیونکہ گزشتہ چند سال سے حکومت نے یہ پالیسی نافذ کر رکھی ہے بیرونِ ملک تعیناتی سے قبل سفارت کار کا عام گرین پاسپورٹ منسوخ کر دیا جاتا ہے اور مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد پاکستان واپس آ کر ڈپلومیٹک پاسپورٹ جمع کرانے اور رپورٹ کرنے پر ہی گرین پاسپورٹ دوبارہ جاری کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر کسی دوسرے ملک کی امیگریشن کی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی تاہم مصدقہ اطلاعات کے مطابق سخت شرائط کے باوجود سینکڑوں پاکستانی سفارت کار اور دیگر ملازمین کسی نہ کسی طریقے سے امریکا سمیت مختلف ممالک میں امیگریشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور انھوں نے اپنی مدت ملازمت ختم ہونے کے باوجود پاکستان واپس آنے سے انکار کر دیا ہےجبکہ کئی سفارتکار ابھی تک اپنے امیگریشن مقدمات کے فیصلے کے منتظر ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستانی نوجوانوں اور ہنر مند افراد کا یوں ملک چھوڑنا انتہائی تشویشناک ہے، اور اسی وجہ سے پاکستان میں اب مکمل سفری دستاویزات کے باوجود نوجوانوں کو اب ایئرپورٹس پر سفر سے روکا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت کی درخواست پربیشتر ممالک نے پاکستانیوں کے لئے ویزا شرائط انتہائی سخت کر دی ہیں۔ تاکہ پاکستان سے جاری برین ڈرین کے سلسلے کو روکا جا سکے۔ تاہم بعض دیگر مبصرین کے مطابق بہتر زندگی گزارنا ہر انسان کا حق ہے، اور آج پاکستان میں یہ احساس عام ہو چکا ہے کہ نہ جان محفوظ ہے، نہ مال اور نہ ہی عزت۔ یہی وجہ ہے کہ اب صرف غریب یا کم تعلیم یافتہ ہی نہیں بلکہ صاحبِ حیثیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ مقتدر حلقوں کو اب سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ پاکستان اس وقت صرف افراد ہی نہیں بلکہ اپنا مستقبل بھی کھو رہا ہے، اور وہ وقت دور نہیں جب یہ "برین ڈرین” ایک ناقابلِ تلافی قومی بحران کی شکل اختیار کر لے گا۔
