بی این پی۔مینگل کی زینت شاہوانی نے پارٹی سے ‘بے دخلی’ کو مسترد کردیا

سینیٹ انتخابات کے دوران پارٹی کے امیدوار کے حق میں ووٹ نہ ڈالنے کے الزام کے تحت بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سے نکالی جانے والی رکن صوبائی اسمبلی زینت شاہوانی ایڈووکیٹ نے پارٹی کے فیصلے کو مسترد کردیا۔
اپنے حامیوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ وہ ‘جھوٹے الزامات’ پر پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیں گی۔
زینت شاہوانی نے پارٹی کی انکوائری کمیٹی کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی اور کہا کہ وہ پارٹی میں رہنے کے اپنے حق کے لیے لڑیں گی۔زینت شاہوانی 2018 کے عام انتخابات میں بی این پی۔مینگل کے ٹکٹ پر خواتین کی مخصوص نشست پر بلوچستان اسمبلی کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔
پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ زینت شاہوانی نے سینیٹ انتخابات میں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر بی این پی مینگل کے امیدوار ایڈووکیٹ ساجد ترین کو اپنا ووٹ نہیں دیا تھا جس کے نتیجے میں ساجد ترین الیکشن ہار گئے تھے۔
ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے معاملے کی تحقیقات کی اور ہارس ٹریڈنگ میں زینت شاہوانی کو ذمہ دار ٹھہرایا جس کی وجہ سے پارٹی امیدوار کو شکست ہوئی۔زینت شاہوانی نے کہا کہ میرے خلاف کمیٹی کے تمام الزامات من گھڑت اور غلط ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اسی پینل میں اپنا ووٹ ڈالا تھا جس میں ان کا نام شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے پارٹی کے صدر اور سینئر نائب صدر اسمبلی سے استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے لیکن انہوں نے دباؤ میں نہ آنے کا فیصلہ کیا اور وہ اسمبلی میں ہی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے جس کی بنیاد پر انہیں پارٹی سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔زینت شاہوانی نے خبردار کیا کہ اگر وہ رپورٹ کو عام نہیں کرتے تو میں آئندہ کچھ دنوں میں صوبے کے لوگوں کے سامنے اہم انکشافات کروں گی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی صدر نے انہیں ترقیاتی اسکیموں پر فنڈز استعمال کرنے کی اجازت دینے کے بجائے رقم دوسرے حلقوں میں منتقل کردی۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایک آسان ہدف بنایا گیا کیونکہ میں ایک عورت ہوں تاکہ حقیقی ملزمان کو بچایا جاسکے جو ساجد ترین کی شکست کے ذمہ دار ہیں۔
