تحریک انصاف کے 3 مرکزی اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا گیا

ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کرنے والے وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی اے نے تحریک انصاف کے مزید3 اکائونٹس کا سراغ لگا لیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق یہ اکاؤنٹس ووٹن کرکٹ کلب سے رقوم کی ترسیل کے لیے استعمال ہوئے، تینوں اکاؤنٹس سے بھاری رقوم بیرون ممالک سے پاکستان آئیں۔
ذرائع کا کہنا تھا طارق شفیع ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے انصاف ٹرسٹ کھولا تھا، ایف آئی اے نے طارق شفیع کے اکاؤنٹس منجمد کرکے انہیں جواب کے لیے طلب کر لیا ہے۔ طارق شفیع اور عارف نقوی پر بیرون ممالک سفر کی عبوری پابندی عائد کر دی۔
یاد ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے2 اگست کو تحریک انصاف کے خلاف 7 سال 8 ماہ سے زائد وقت زیر سماعت رہنے والے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔
تحریک انصاف کے بانی رہنما اور کئی اہم پارٹی عہدوں پر فائز رہنے والے اکبر ایس بابر نے اپنی ہی جماعت کے خلاف نومبر 2014 میں الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا کہ تحریکِ انصاف کو بیرونی ممالک سے بھاری رقوم حاصل ہوئیں لیکن یہ رقم غیرقانونی ذرائع سے آئی ہے۔ اس کے اصل ذرائع کا کسی کو معلوم نہیں۔پی ٹی آئی نے سماعت رکوانے کے لیے ہر متعلقہ پلیٹ فارم سے رجوع کیا۔ یہاں تک کہ سماعت کے دوران کم از کم 8 وکیل تبدیل بھی ہوئے۔ اگست 2017 میں الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا۔
الیکشن کمیشن کے روبرو پاکستان تحریکِ انصاف کے مختلف کمرشل بینکوں میں 26 بینکوں کی تفصیلات پیش کی گئیں جن میں سے صرف 8 ظاہر شدہ تھے،26 میں سے 18 اکاؤنٹس بے نامی تھے جن میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم جمع کی جاتی رہی لیکن یہ فنڈنگ کہاں خرچ ہوئی، اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
الیکشن کمیشن نے تحقیقات کیلئے مارچ 2018 میں اسکروٹنی کمیٹی قائم کی جس نے 96 مختلف اجلاس منعقد کئے اور اگست 2020 میں اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کے روبرو جمع کرائی لیکن الیکشن کمیشن نے اسے مسترد کردیا جس کے بعد رواں برس جنوری میں حتمی رپورٹ جمع کروائی، اسکروٹنی کمیٹی کی حتمی رپورٹ کے مندرجات کے مطابق پی ٹی آئی کے 65 بینک اکاؤنٹس سامنے آئے جن میں سے صرف 12 کے بارے میں کمیشن کو آگاہ کیا گیا اور مبینہ طور پر 53 اکاؤنٹس چھپائے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے 5 سال کے دوران ملنے والی 32 کروڑ کی تفصیلات چھپائی۔
الیکشن کمیشن نے کم و بیش 7 سال 7 ماہ کی سماعتوں کے بعد تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوٓظ کرلیا تھا، اپریل 2022 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فارن فنڈنگ کیس کا فیسلہ 30 روز میں سنانے کا حکم دیا تھا۔
یارہے کہ پی ٹی آئی نے نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی، عدالت عالیہ نے فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن پر شک کی گنجائش نہیں کہ تمام جماعتوں سے ایک سا برتاؤ ہوگا، توقع ہے کہ الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کے کیسز مناسب وقت میں نمٹائے گا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کی جانب سے بارہا الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا جاتا رہا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد از جلد سنایا جائے،29جولائی کو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا کہ ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نے برطانیہ میں خیراتی مقاصد کے لئے صاحب ثروت لوگوں سے پیسے جمع کرکے پاکستان تحریک انصاف کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائے۔
علاوہ ازیں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ یو اے ای کے ایک شہزادے کی جانب سے دیئے گئے 20 لاکھ ڈالر میں سے بھی 12 لاکھ ڈالرز 2 قسطوں میں پاکستان منتقل کر دیے گئے، کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد حکموتی اتحاد میں شامل جماعتیں الیکشن کمیشن سے فیصلہ سنسنے کا بارہا مطالبہ کرتی رہیں لیکن فنانشل ٹائمز کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ان کی جانب سے مطالبات میں تیزی آگئی۔
