ترین کے باغی گروپ کا بزدار کو کھڑکانے کا امکان

جہانگیر ترین کی جانب سے باقاعدہ طور پر اپنا ہم خیال گروپ تشکیل دیے جانے کے بعد پہلے مرحلے میں پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی حکومت گرانے کی منصوبہ بندی شروع ہو گئی ہے جن سے نہ صرف صوبائی اراکین اسمبلی کی ایک بڑی تعداد تنگ ہے بلکہ اسٹیبلشمنٹ بھی ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خیال گروپ کی تشکیل کے اگلے ہی روز عدالت میں پیشی کے بعد جہانگیر ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہوئے پنجاب حکومت کو تختہ مشق بنایا اور یہ الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھیوں کے خلاف بزدار کی صوبائی حکومت نے انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ترین کی دھمکی کا دباؤ لیتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے ہم خیال گروپ کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر رشید اکبر نوانی سے رابطہ کرلیا ہے اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے بھی سعید اکبر نوانی سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کردیا ہے تاکہ عثمان بزدار کے خلاف ہم خیال گروپ کی کسی ممکنہ کارروائی کو روکا جا سکے۔
ان حالات میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے اندر سیاسی جنگ نے زور پکڑ لیا ہے۔ پارٹی میں ترین گروپ کے باضابطہ اعلان سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں طاقت کا توازن بھی بدل گیا ہے اور اگر ترین گروپ بزدار کا ساتھ چھوڑ دے تو ان کی حکومت دھڑام سے گر پڑے گی۔ یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کے سہارے کھڑی ہے۔ ان میں سب سے اہم اتحادی قاف لیگ ہے جس سے تعلق رکھنے والے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی خود بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں، لہذا اگر ترین گروپ بزدار کے خلاف کھل کر میدان میں آ جاتا ہے تو اسکا بچنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہوگا۔
خیال رہے کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی اسمبلی کی کل نشستیں 371 ہیں اور حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت کو 186 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جولائی 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے پنجاب سے 181 نشستیں حاصل کیں اور مسلم لیگ ق، آزاد اراکین اور پاکستان راہ حق پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔ پنجاب اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس وقت حکومتی اتحاد کی کل 196 نشستیں ہیں۔ 2018 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن نے 166 سیٹیں حاصل کیں اور پیپلزپارٹی کو ساتھ ملا کر اپوزیشن کی کل 173 نشستیں بنتی ہیں۔ لیکن اب صورت حال دلچسپ ہو چکی ہے کیونکہ ترین گروپ کے علیحدہ ہونے سے تحریک انصاف کی اسمبلی میں طاقت بھی تقسیم ہوگی۔ ترین گروپ کا دعویٰ ہے کہ ان کے ہم خیال ممبران کی تعداد 24 ہے۔ ان 24 اراکین کے پارلیمانی لیڈر کے طور پر سعید اکبر نوانی سپیکر کو اپنی درخواست جمع کرائیں گے۔ اگر جہانگیر ترین گروپ کے 24 اراکین اسمبلی اپوزیشن کے 173 اراکین کے ساتھ مل کر عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئیں تو اپوزیشن اتحاد کی عددی طاقت 197 ممبران کی ہو جائے گی جس سے بزدار حکومت فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ترین گروپ کے 24 اراکین پنجاب اسمبلی عثمان بزدار کی حمایت واپس لے لیں تو بھی صوبائی اسمبلی میں ان کی اکثریت ختم ہوجائے گی اور وہ اقتدار سے محروم ہو جائیں گے۔ یاد رہے کے ہم خیال گروپ کی تشکیل کے بعد تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے باغی ممبران اسمبلی ٹاک ٹی وی ٹاک شوز میں نہ صرف عمران خان اور بزدار کے خلاف اپنا غصہ نکال چکے ہیں بلکہ اس بات کا عندیہ بھی دے چکے ہیں کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو وہ حکومتی جماعت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں ہم خیال گروپ کے پارلیمانی لیڈر ایم این اے راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ ابھی تو کھیل شروع ہوا یے لیکن اگر ہمارے ساتھیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں ختم نہ کی گئیں تو ہم اپنے ساتھ زیادتی کرنے والی حکومت کے خلاف بھی کھڑے ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ پنجاب میں بزدار حکومت 10 ووٹوں کی اکثریت پر کھڑی ہے۔ ہم خیالوں کے 24 ممبران کے اپنا گروپ بنانے سے بزدار حکومت کے حمایتی اراکین کی تعداد 196 سے گھٹ کر اب 172 رہ گئی ہے جبکہ اپوزیشن 173 پر پر کھڑی ہے۔ لہازا وزیراعلٰی بزدار نے اراکین پنجاب اسمبلی سے ملاقاتوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے تاکہ اقتدار بچایا جا سکے۔
حکومتی اراکین اسمبلی سے ملاقاتوں کے بعد جاری ایک سیاسی بیان میں بزدار نے کہا ہے کہ ’طاقتور مافیا تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف پہلے دن سے سازشوں کے جال بن رہا ہے۔ بدقستمی سے مافیا کی جڑیں ہر شعبے میں پھیلی ہوئی ہیں۔‘ انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے اپوزیشن کا ٹولہ بھی اس مافیا کی سرپرستی کر رہا ہے۔‘ تاہم انہوں نے یہ واضع نہیں کیا کہ اس مافیا سے ان کی مراد ہم خیال گروپ ہے یا وہ کسی خفیہ گروہ کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، لیکن اس صورت حال سے ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ ترین گروپ کے سامنے آنے کے بعد پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت مکمل طورپر ترین کی مرہون منٹ ہو جائے گی، پھر چاہے کوئی قانون پاس کروانا ہو یا جولائی میں آنے والا بجٹ ہو، عمران خان کے وسیم اکرم پلس عثمان بزدار کو ہر قدم پر ترین کی حمایت درکار ہوگی۔
دوسری جانب ترین گروپ میں شامل پنجاب اسمبلی کے باغی اراکین میں دو صوبائی وزرا، وزیراعلیٰ کے دو مشیر، دو سپیشل اسسٹنٹ اور پانچ پارلیمانی سیکرٹری شامل ہیں۔ لہذا اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے جہانگیر ترین کو گرین سگنل دے دیا تو بزدسر حکومت کا فوری خاتمہ ہو جائے گا۔
