توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کو دستاویزات فراہم کرنے کا حکم

الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دے دیا، آج الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی کمیشن نے ابتدائی سماعت مکمل کی۔
سماعت میں درخواست گزار محسن شاہنواز رانجھا اور حکومتی اتحاد کی جانب سے وکیل خالد اسحاق الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کہ جگہ ان کے معاون وکیل بیرسٹر گوہر کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، معاون وکیل بیرسٹر گوہر نے استدعا کی کہ بیرسٹر علی ظفر مصروفیت کے باعث نہیں آ سکے لہٰذاسماعت ملتوی کی جائے۔
عمران خان اب رکن اسمبلی نہیں رہے، اس پر چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کی نظر میں عمران خان تاحال رکن قومی اسمبلی ہیں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے کمیشن کو استعفیٰ منظور کر کے نہیں بھجوایا، آپ اپنی مرضی کی تشریح نہ کریں، جب تک اسپیکر کی جانب سے استعفے منظور کر کے نہ بھیجے جائیں رکن ڈی نوٹی فائی نہیں ہو سکتا.
رواں ماہ کے آغاز میں مختلف جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے تعلق رکھنے والے اراکین نے توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کی نا اہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کیا تھا، ریفرنس مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا نے نااہلی کے لیے ریفرنس چیف الیکشن کمشنر کو جمع کروایا تھا جس پر قومی اسمبلی کے اراکین آغا حسن بلوچ، صلاح الدین ایوبی، علی گوہر خان، سید رفیع اللہ آغا اور سعد وسیم شیخ کے دستخط تھے.
عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن کی سماعت میں کہا کہ انہیں ریفرنس کی کاپی فراہم کی جائے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے عمران خان کے وکیل کو درخواست کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریفرنس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کر دی۔خیال رہے کہ عمران خان نے اپنی وزارت عظمی کے دوران ہی نجی ٹی وی چینل ”سما نیوز“سے ایک انٹرویو میں توشہ خانہ سے خریدی گئی گھڑیوں کو فروخت کر کے بنی گالہ اور گردونواح میں سٹرکوں کی تعمیر پر پیسے خرچ کرنے کا بتایا تھا. حکمران اتحاد کی جانب سے یہ ریفرنس رواں ماہ الیکشن کمیشن پہنچا ۔
