جسٹس فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس بندیال کو چارج شیٹ کر دیا

سپریم کورٹ کی ساکھ پر تب بڑے سوالات کھڑے ہوگئے جب پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت قرار دیے جانے والے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو ایک خط میں چارج شیٹ کر دیا۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے عمر عطا بندیال کے نام 3 صفحات پر مشتمل خط لکھا ہے کہ آپ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے تشکیل دیے گئے 5 رکنی بینچ میں ایسے جج شامل کیے ہیں جو سنیارٹی لسٹ میں چوتھے، آٹھویں اور تیرہویں نمبر پر ہیں۔ آپ کا یہ عمل اہم آئینی سوالات پر مبنی کیسوں کی سماعت کے لیے سینئر ججوں پر مشتمل بینچوں کی تشکیل کے اصول کو ترک کرنے کے مترادف ہے۔ انھوں نے لکھا کہ عدالتوں میں انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے اعتراضات کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ دوبارہ سے بینچ تشکیل دیتے ہیں یا نہیں؟
یاد رہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 کی تشریح کے لئے حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک صدارتی ریفرنس دائر کیا ہے تاکہ باغی اراکین قومی اسمبلی کو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ ڈالنے سے روکا جا سکے۔
جسٹس فائز عیسی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست کی سماعت صدارتی ریفرنس کے ساتھ مقرر کرنے کا حکم دیا حیرسن کن ہے کیونکہ جو ریفرنس دائر ہی نہیں ہوا تھا اسے مقرر کرنے کا حکم کیسے دیا جاسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قانون کی رو سے سپریم کورٹ بار کی پٹیشن اور صدارتی ریفرنس کو اکٹھا کر کے نہیں سنا جا سکتا۔ فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ آئینی درخواست اور صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے بنائے گئے بینچ میں چوتھے، آٹھویں اور تیرھویں نمبرکے فاضل ججز کو شامل کیا گیا ہے۔ ایسا کر کے آپ نے اپنے سابق چیف جسٹس کی روایت سے پہلو تہی کیا، اہم آئینی معاملات کی سماعت کے لیے سابق چیف جسٹس نے چیف جسٹس کے بینچ تشکیل دینےکا صوابدیدی اختیار طے کیا تھا، سابق چیف جسٹس نے طے کیا کہ سینئر ججز پر مشتمل بینچ سماعت کرے گا لیکن آپ نے اس اصول سے روگردانی کی ہے۔
فائز عیسی نے چیف جسٹس کوخط میں مزید لکھا کہ یہ ایسا معاملہ جس پر پوری قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے، جج کا حلف کہتا ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی میں ذاتی مفاد کو ملحوظ نہیں رکھے گا، کہاوت ہے کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا نظر بھی آئے، اس کہاوت کا ذکر ججز کے ضابطہ اخلاق میں پانچویں نمبر میں بھی درج ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق بینچ کی تشکیل کا اختیار شفاف مبنی برانصاف اور قانون کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس کولکھا کہ میں کئی مرتبہ آپ کو تحریری طور پر مطلع کر چکا ہو کہ ایک بیوروکریٹ کو وزیراعظم ہاؤس سے درآمد کرکے رجسٹرار سپریم کورٹ تعینات کیا گیا ہے، عام تاثر یہ ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا مقدمہ کس بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر ہو، میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری عدلیہ کے انتظامیہ سے الگ ہونے کے آئینی اصول کی خلاف ورزی ہے۔
سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے خط میں مزید لکھا کہ جناب چیف جسٹس یہ خط لکھتے ہوئے میں نے دو مرتبہ سوچا تاہم آئین کے آرٹیکل 175/3 اور 180 میں آئین سینئر ترین جج کا ذکر کرتا ہے، سنیارٹی ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے، سینئر ججز سپریم کورٹ کا بطور ادارہ تسلسل ہوتے ہیں، جہاں تک مجھےعلم ہے آپ کے تمام سابق چیف جسٹس سینئر ترین جج سے مشاورت کرتے تھے، چیف جسٹس صاحب، آپ نے اس روایت کو بھی ختم کر دیا جس کے ادارے پر برےاثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کو آرٹیکل 186 کے تحت دائر صدارتی ریفرنس کے ساتھ نہیں سنا جا سکتا جس میں صدر نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح پر رائے کی استدعا کی تھی۔ فائز عیسی کا موقف یے کہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت اصل دائرہ اختیار اور آرٹیکل 186 کے تحت مشاورتی دائرہ اختیار بالکل مختلف ہیں اس لیے ان دونوں کی ایک ساتھ سماعت نہیں ہو سکتی۔ جسٹس عیسی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بینچ کا آئین میں کوئی قابل فہم معیار نہیں ہے، یہ سب سے زیادہ پریشان کن ہے اور اس نے غیر ضروری اور قابل احتراز بدگمانیوں کو جنم دیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آئین سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کو تسلیم کرتا ہے اور سینیارٹی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے، جس سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر ترین جج سپریم کورٹ میں ایک تسلسل کو بھی یقینی بناتے ہیں لیکن اس طرز عمل کو ترک کر دیا گیا جس کے ادارے پر منفی نتائج ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے بھیجے گئے ریفرنس پر سماعت کے لیے سپریم کورٹ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔ سماعت 24 مارچ کو شروع ہوگی، لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ججوں پرو اسٹیبلشمنٹ خیال کیے جاتے ہیں جبکہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ دھڑے میں سے کسی جج کو شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے اعتراضات کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ دوبارہ سے بینچ تشکیل دیتے ہیں یا نہیں؟