خوف و درد سے دماغ میں خلیاتی عمل تنفس ہوتا ہے

خوف، بے چینی اور درد کی کیفیت میں دماغ میں خلیاتی سطح پرعملِ تنفس متاثر ہوتا ہے۔

تازہ تحقیق کے مطابق شدید تکلیف اور خوف و رنج میں دماغی نیٹ ورک اور عملِ تنفس میں بے ترتیبی پیدا ہوتی ہے۔

اسے سمجھ کر نہ صرف منشیات سے اموات پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ اس پورے عمل کو بھی سمجھنے میں مدد ملے گی۔

رپورٹ کے مطابق دماغی جڑ (برین اسٹیم) سے عصبی خلیات کے مجموعے دماغی حصے ایمگڈالا تک جاتے ہیں جہاں ہمارا دماغ خوف اور دیگر احساسات یعنی درد اور تکلیف کی شدت کو پروسیس کرتا ہے۔

Back to top button