دینی مدرسوں میں لونڈے بازی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟


جمعیت علمائے اسلام کے زیرانتظام چلنے والے لاہور کینٹ کے معروف دینی مدرسے جامعہ منظور الاسلامیہ میں ایک باریش استاد کی ایک باریش طالبعلم کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ سوال زیربحث ہے کہ دینی مدرسوں میں شہوت زدہ مولویوں کے ہاتھوں طلبہ کے ساتھ لونڈے بازی کا تدارک کیسے کیا جا سکتا ہے؟
لاہور پولیس نے دینی مدرسے کے استاد اور مہتمم مفتی عزیز الرحمان کے خلاف ایک طالب علم صابر شاہ کو بلیک میلنگ کے ذریعے زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم پولیس تاحال اس سفید داڑھی والے لونڈے باز مولوی کو گرفتار نہیں کر پائی ہے۔ دوسری جانب مولوی کے بیٹوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے طالبعلم کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں جس کے بعد اس نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ ان حالات میں خودکشی بھی کر سکتا ہے۔
لاہور کے کینٹ پولیس سٹیشن میں 17 جون کے روز تب مفتی عزیز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جب سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز سامنے آئیں جن میں ملزم کو ایک کالی داڑھی والے کالے کپڑوں میں ملبوس طالب علم کا ریپ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا ویب سائٹس پر لوگوں کا شدید ردِ عمل دیکھنے میں آیا جس میں زیادہ تر لوگ ملزم کو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ملزم لاہور کے مدرسے جامعہ منظور الاسلامیہ میں معلم تھا اور ریپ کا شکار ہونے والے طالب علم اسی مدرسے میں زیرِ تعلیم تھا۔ تھانے میں درج مقدمے میں طالب علم نے دعوٰی کیا ہے کہ ملزم مفتی عزیز کافی عرصہ سے اسے بلیک میل کر کے مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ اسکا کہنا تھا کہ اسے مدرسے کی انتظامیہ کے سامنے ملزم کی شکایت کرنے کے بعد ثبوت کے طور پر جنسی عمل کی ویڈیوز بنانا پڑی تھیں۔ طالب علم کا کہنا ہے کہ مفتی عزیز چونکہ جامعہ کا مہتمم بھی تھا چنانچہ اس پر عائد امتحان میں شامل ہونے کی پابندی ختم کروانے کے لیے اسے بلیک میل کرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پولیس ملزم سے پوچھ تاچھ کرنے کے لیے مدرسے گئی تاہم وہ اس سے قبل مدرسہ چھوڑ کر جا چکا تھا۔ مدرسہ انتظامیہ نے پولیس کو بتایا کہ ‘محلے کے چند افراد کی جانب سے ان ویڈیوز کی طرف توجہ مبذول کروانے پر مدرسہ انتظامیہ نے ملزم کو نوکری سے فارغ کر دیا تھا۔’ اس کے بعد وہ مدرسہ چھوڑ کر جا چکا ہے۔
پولیس کو درج کروائی گئی شکایت میں طالب علم نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ یہ واقعہ منظرِ عام پر لانے کے بعد اسے ملزم کے بیٹوں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ مفتی عزیز کے بیٹوں نے چند نامعلوم افراد کے ساتھ اس کا تعاقب بھی کیا تھا لیکن وہ بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہوگیا۔
سوشل میڈیا ہی پر جاری ہونے والے ایک بیان میں ملزم کی طرف سے چند متضاد بیانات سامنے آئے تھے۔ ایک بیان میں اس کا دعویٰ تھا کہ اُسے ‘کوئی نشہ آور چیز دے کر یہ عمل کرنے پر مجبور کیا گیا اور اسکی ویڈیوز بنالی گئیں۔ اسکا کہنا تھا کی جنسی عمل کے دوران وہ جو حرکات کر رہا تھا وہ نشہ آور شے کے زیرِ اثر کر رہا تھا۔ تاہم یاد رہے کہ ان ویڈیوز میں مفتی عزیز الرحمٰن فائل ہے مفعول نہیں، چنانچہ یہ ممکن نہیں کہ وہ نشے میں ایسا عمل کرنے پر مجبور ہوا ہو۔
اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر مفتی عزیز الرحمٰن پر لعن طعن کا سلسلہ جاری ہے اور ناقدین یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایک دینی مدرسے کے مہتمم کو کم از کم اتنی لمبی سفید داڑھی رکھ کر یہ قبیح فعل کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی۔
دوسری جانب مفتی عزیز کی ڈھٹائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موصوف ایک ویڈیو میں یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کی یہ سب کچھ دو ڈھائی برس پہلے ہوا اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے ویڈیو میں گرم کپڑے پہن رکھے ہیں۔ اسکا کہنا یے کہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ میں کوئی زور زبردستی نہیں کر رہا۔ تاہم اس نے پولیس کے سامنے پیش ہو کر اب تک کوئی بیان نہیں دیا۔
لاہور میں درج مقدمہ میں مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بننے والے طالب علم نے پولیس کو بتایا کہ اس نے سنہ 2013 کے لگ بھگ مدرسہ منظور الاسلامیہ میں داخلہ لیا تھا اور مسلسل وہیں تعلیم حاصل کرتے رہے تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ جب وہ درجہ رابعہ یعنی چہارم میں پہنچا تو امتحانات کے دوران اس وقت کے نگران مفتی نے ایک اور طالب علم سمیت ان پر امتحانات میں نقل کا الزام عائد کرتے ہوئے تین برس کے لیے اس کے وفاق المدارس کے امتحانات میں بیٹھنے پر پابندی عائد کر دی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ ‘مفتی نے الزام عائد کیا تھا کہ میں نے امتحانات میں اپنی جگہ کسی اور لڑکے کو بٹھایا تھا۔ میں نے مفتی صاحب کی بہت منت سماجت کی مگر وہ نہ مانے۔ مگر انھوں نے کہا کہ اگر تم میرے ساتھ بدکاری کرو تو میں کچھ بہتری کے بارے سوچ سکتا ہوں۔’ طالب علم نے پولیس کو بتایا کہ مفتی نے ان سے کہا کہ اگر ‘وہ انھیں خوش کر دیا کرے گا تو میں وفاق المدارس والی پابندی بھی ہٹوا دوں گا اور تمہیں امتحانات میں بھی پاس کروا دوں گا۔’
طالب علم کے مطابق اس طرح وہ ‘با امرِ مجبوری مفتی کے ہاتھوں برسوں ریپ کا نشانہ بنتا رہا۔
تاہم تین سال تک جنسی استحصال کرنے کے باوجود مفتی نے اپنی بات پوری نہ کی اور اسے بلیک میل کرتا رہا۔ چنانچہ تنگ آ کر طالب علم نے مدرسہ انتظامیہ کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا اور مفتی کے خلاف شکایت کی۔ طالب علم نے پولیس کو بتایا کہ انتظامیہ نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ مفتی بزرگ اور نیک آدمی ہیں اور وہ ایسا فعل نہیں کر سکتے چنانچہ طالب علم جھوٹ بول رہا ہے۔
لہقزا مایوس ہو کر میں نے خود اس واقعہ کی ویڈیوز چوری چھپے بنانا شروع کیں۔ طالبعلم صابر شاہ نے پولیس کو بتایا کہ یہ ویڈیو ثبوت اس نے وفاق المدارس العربیہ کے ناظم مولانا حنیف جالندھری کو بھی پیش کیے۔ تاہم اس بات کا علم ہونے پر مفتی نے اسے قتل کروانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی تھیں۔ چند روز قبل جب یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر لیک ہوئیں تو اسے مفتی کے بیٹوں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی جس کے بعد اس نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی اور اس میں بتایا کہ وہ دباؤ میں خودکشی بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اب صابر شاہ کو یہ خطرہ ہے کہ اس کو مار کر خودکشی کا رنگ بھی دیا جاسکتا ہے۔
طالب علم نے پولیس کو بتایا کہ مفتی ہر جمعے کے روز تقریباً 10 یا 11 بجے اسے طلب کرتا ااور اسکے ساتھ غلط کاری کرتا تھا۔اس نے پولیس کو چند آڈیو کالز کی ریکارڈنگ بھی ثبوت کے طور پر فراہم کی جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ کس طرح مفتی نے مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یہ تمام شواہد سامنے آنے کے بعد مدرسہ کی انتظامیہ نے واقعات کا نوٹس لیا اور مدرسہ کے مہتمم نے مفتی کو نوکری سے برخاست کر دیا۔ صابر نے پولیس کو بتایا کہ اُسے مفتی اور اس کے بیٹوں کی طرف سے جان کا خطرہ ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ جس روز مفتی کو مدرسہ سے فارغ کیا گیا اس کے اگلے روز جب وہ کسی کام سے مدرسے سے نکلا تو مفتی کے تین بیٹوں اور چند نامعلوم افراد نے ان کا تعاقب کیا۔
اس نے تعاقب کرنے والے افراد کو جب یہ کہتے سنا کہ ‘پکڑو اس کو بھاگنے نہ پائے آج اس کا قصہ تمام کرتے ہیں’ تو خوف زدہ ہو کر اس نے وہاں سے دوڑ لگا دی اور اپنی جان بچائی۔چنانچہ اس نے پولیس سے تحریری درخواست کی ہے کہ مفتی کو گرفتار کیا جائے اور اسکے بیٹوں سے اسکی جان بچائی جائے۔
یاد رہے کہ لونڈے باز مفتی لاہور کا رہائشی ہے اور گذشتہ تقریباً 25 سال سے مدرسہ منظور الاسلامیہ میں بطور معلم کام کرتا رہا ہے۔ اسکے علاوہ وہ مذہبی جماعت جمیعت علما اسلام کا لاہور سے رکن بھی تھا۔
تاہم جمیعت علما اسلام نے طالب علم کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ سامنے آنے کے بعد مفتی سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ جماعت کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ مفتی کی بنیادی رکنیت واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دی گئی ہے۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں اس وقت تک اسے ضلع لاہور کی ہر سطح کی ذمہ داری سے بھی سبکدوش کر دیا گیا ہے اور کے کسی قول اور فعل کی جمیعت علما اسلام ذمہ دار نہ ہوگی۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر پاکستان کے اندر اور باہر سے لوگوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مدارس میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں اور انکا لنک تھانوں میں فراہم کیا جائے تاکہ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے بنائے جانے والے مدرسوں سے لونڈے بازی اور لونڈے بازوں کا خاتمہ ہو سکے۔
ایک صارف سبین کیانی نے لکھا کہ بچوں کے ساتھ جنسی ہراسانی، ریپ اور قتل وغیرہ پاکستان کے بڑے مگر دبا دیے جانے والے مسائل ہیں۔ وزیرِاعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ اس کا کوئی مستقل حل نکالیں تا کہ ملک کی آنے والی نسلوں کو بچایا جا سکے۔’ صحافی ثنا جمال نے لکھا کہ ‘مفتی اور وہ تمام افراد جو ان کا دفاع کر رہے ہیں انھیں شرم آنی چاہیے۔ بچوں کے ساتھ اس قسم کی زیادتی اور پھر اس کو دبانے کی کوشش بہت شرمناک ہے۔ زیادتی کرنے والا اپنے سیاسی یا مذہی اثر و رسوخ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا۔ انصاف اور حفاظت ہمارے بچوں کا حق ہے۔’ سماجی کارکن اور ریسرچر عمار راشد نے لکھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس طالب علم کو تلاش کریں اسے حفاظت فراہم کرے جبکہ ملزم کو بھی گرفتار کیا جائے۔’یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ مفتی پر الزام عائد کرنے والا طالب علم اس وقت چھپنے پر مجبور ہے اور اس کو دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔’ دوسری جانب ایک اور سوشل میڈیا صارف ندا فاطمہ کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ دینی مدارس میں پروان چڑھتے ہوئے لونڈے بازی کے کلچر کا ہے جس کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام مدارس کا ہی خاتمہ کر دیا جائے۔

Back to top button