زبان دراز عمران خان عدالت سے معافی مانگیں گے یا نہیں؟


پاکستانی سیاست میں اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بدزبانی کی نئی تاریخ رقم کرنے والے سابق وزیراعظم عمران خان بالآخر اپنی بد زبانی کی وجہ سے توہین عدالت کے دو کیسوں میں پھنس چکے ہیں۔ ایسے میں اگر انہیں توہین عدالت کے جرم میں کوئی علامتی سزا بھی دی جاتی ہے تو وہ عوامی عہدہ رکھنے کے لیے پانچ سال کے لیے نااہل ہو جائیں گے۔ اس وقت عمران خان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں توہین عدالت کے دو مقدمات زیر سماعت ہیں، پہلا کیس ایک خاتون جج کو کھلے عام دھمکیاں دینے کا ہے جب کہ دوسرا کیس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے کا ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں کہ کپتان کو زبان درازی پر توہین عدالت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

یاد رہے کہ 9 برس قبل جولائی 2013 میں تب کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عمران خان کی جانب سے عدلیہ سے متعلق ’شرمناک‘ لفظ استعمال کرنے پر انہیں توہین عدالت کا نوٹس بھیجا تھا۔ عمران اُن دنوں 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزام پر چار حلقے کھلوانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک بیان میں الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان کا کردار شرمناک ہے۔‘ عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں حامد خان پیش ہوئے اور ابتدائی سماعت میں توہین عدالت کے الزام پر جواب جمع کروایا۔ تاہم ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے دوبارہ جواب جمع کروانے کی مہلت دی تھی تاکہ وہ معافی مانگ سکیں۔ لیکن عمران خان نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے جواب دیا تھا کہ ’میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں لیکن عدالت سے معافی نہیں مانگوں گا۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں عمران خان نے موقف اختیار کیا تھا کہ ’انہوں نے الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسروں کی کارکردگی پر تنقید کی تھی۔ ریٹرننگ افسران کے کام پر تبصرہ کرنے سے توہین عدالت لاگو نہیں ہوتی۔‘ انہوں نے ’شرمناک‘ کا لفظ پوری عدلیہ کے لیے نہیں بلکہ ریٹرننگ افسروں کے لیے استعمال کیا تھا۔ عمران خان نے عدالت سے توہین عدالت کا نوٹس واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انہوں نے عدالت کو کبھی سکینڈلائز کرنے یا کسی جج کی تضحیک یا توہین کی کوشش نہیں کی۔‘

اس کیس میں اس وقت کے اٹارنی جنرل فار پاکستان نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ ’اعلٰی عدالتوں پر خواہ کوئی بھی الزام عائد کرے، عوام اس پر یقین نہیں کریں گے۔ عدالت کی عظمت اور وقار عوام کی نظر میں ہے اور رہے گا۔‘ اٹارنی جنرل کے بیان کے بعد سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا تھا۔ عمران نے اٹارنی جنرل کے بیان پر شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

سینئر قانون دان اور تحریک انصاف کی لیگل ٹیم کے رکن فیصل چوہدری کے مطابق 2013 کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا ہو۔ اس سے پہلے عمران کی جانب سے رواں برس 25 مئی کو لانگ مارچ کے دوران سپریم کورٹ کو دی گئی کمٹمنٹ توڑنے اور اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی کرنے پر بھی حکومت کی جانب سے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کی درخواست دی گئی تھی۔ عدالتی حکم کے برعکس عمران خان نے ایچ نائن کے بجائے بلیو ایریا میں جلسہ کیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے حکومتی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی کرنے سے گریز کیا تھا۔

اسکے علاوہ عمران خان کو الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی توہین عدالت کے نوٹسز جاری ہو چکے ہیں۔ لیکن فواد چوہدری کے بھائی اور تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں بلکہ ایک کمیشن کی حیثیت رکھتا ہے اسے لیے اسکے نوٹس کو عدالتی نوٹس نہیں کہا جا سکتا۔ واضح رہے کہ چیف الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجہ نے عمران کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 30 اگست کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ سکندر سلطان راجہ سے پہلے عمران خان کا پچھلے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا سے بھی پنگا پڑ گیا تھا اور موصوف نے توہین عدالت کر دی تھی۔

2017 میں تب کے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا محمد نے عمران کو توہین عدالت کا نوٹس بھجوایا تھا۔ عمران نے الیکشن کمیشن پر فارن فنڈنگ کیس بارے تبصرہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر ’جانبداری‘ کا الزام عائد کیا تھا۔ متعدد بار طلبی کے باجود عمران الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوئے اور کمیشن کے دائرہ کار کو چیلنج کیا۔ بلآخر جب معاملہ سیریس ہوگیا تو عمران نے بذریعہ وکیل الیکشن کمیشن سے معافی مانگی تاہم کمیشن نے انہیں ذاتی حیثیت میں طلب ہونے کی ہدایت کی۔

لیکن عمران کی عدم پیشی پر چیف الیکشن کمشنر نے انکے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ہائی کورٹ نے وارنٹ معطل کرتے ہوئے عمران کو شوکاز نوٹس کا جواب جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔ جس کے بعد ان کے وکیل بابر اعوان نے الیکشن کمیشن میں معافی نامہ جمع کروایا اور بیان پر غیر مشروط معافی مانگ لی۔

تاہم ان کے جواب میں معافی کے بجائے پچھتاوے کا لفظ استعمال کیا گیا تھا۔ ابھی یہ کیس چل رہا تھا کہ جسٹس سردار رضا کی ریٹائرمنٹ ہو گئی۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کو بھی عمران نے ہی تعینات کیا تھا لیکن پھر وہ بھی فارن فنڈنگ کیس کی وجہ سے زیر عتاب آ گئے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ عمران توہین عدالت کے الزام سے بچ نکلتے ہیں یا پھر نا اہل قرار پاتے ہیں۔

Back to top button