ہر ادارے کو آنکھیں دکھانے والے عمران کا انجام کیا ہوگا؟


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی مقبولیت کے زعم میں ہر ادارے کے ساتھ پنگے ڈالتے ہوئے اتنے زیادہ محاذ کھول لیے ہیں کہ اب انہیں سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان بے شک مقبول ہیں لیکن انھوں نے ہر کسی سے جنگ شروع کر رکھی ہے، وہ اسٹیبلشمنٹ سے بھی لڑ رہے ہیں، عدالتوں کو بھی آنکھیں دکھا رہے ہیں، سیاسی جماعتوں سے بھی برسرپیکار ہیں، سول بیوروکریسی سے بھی ہیڈ آن ہیں، میڈیا سے بھی متھا لگا بیٹھے ہیں اور امریکا، چین اور عربوں سے بھی بگاڑ لی ہے، دوسری جانب عمران کی پارٹی بری طرح تقسیم کا شکار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اتنی لڑائیاں تو یونانی دیوتا ہرکولیس بھی نہیں جیت سکا تھا، خان صاحب تو پھر بھی انسان ہیں لہٰذا انکے سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا وہ اتنی لڑائیاں جیت پائیں گے؟

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ اپنے ساڑھے تین سالہ دور میں انتہائی خراب پرفارمنس کے باوجود خان صاحب اتنے مقبول کیوں ہیں؟ اس کی چار وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ سوشل میڈیا ہے‘ یہ ایک نیا میڈیم ہے اور عمران نے اسے دل وجان سے استعمال کیا‘ یہ شخص بیانیہ بنانے‘ اس میں سے نیا بیانیہ نکالنے اور پرانے بیانیے کو دفن کر کے ایک نئے بیانیے کی عمارت کھڑی کرنے کا ماہر ہے‘ اس فیلڈ میں کوئی دوسرا سیاستدان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور پی ڈی ایم کی سب سے بڑی خامی متبادل بیانیے کی عدم موجودگی ہے‘ بارہ جماعتیں مل کر بھی عمران کے جھوٹے سچے بیانیے بنانے کی صلاحیت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ حکومتی وزراء اب بھی توشہ خانہ کیس میں پھنسے ہوئے ہیں جب کہ عمران خان ڈاکٹر ایمن الظواہری تک جا پہنچا ہے اور پورا سسٹم مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر پا رہا۔ ایسا اس لیے ہے کہ سوشل میڈیا کی تلوار عمران خان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسے شان دار طریقے سے استعمال کررہا ہے‘ عمران بیانیہ بناتا ہے اور اسے سوشل میڈیا کے ذریعے ہر پاکستانی کے ذہن میں اتار دیتا ہے‘ دوسری وجہ ریٹائرڈ سرکاری افسران ہیں‘ وہ خواہ فوجی ہوں یا سویلین، زیادہ تر ریٹائرڈ افسران خان کو پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنے سسٹم کی خامیوں سے واقف ہیں۔ ان کے خیال میں اس فرسودہ سسٹم کو بریک کرنے کے لیے سسٹم سے بڑا اور ضدی شخص چاہیے اور عمران خان میں انھیں یہ خوبی نظر آتی ہے لہٰذا وہ اسے کھل کر سپورٹ کر رہے ہیں۔

جاوید چوہدری کے بقول بری ترین پرفارمنس کے باوجود عمران کی عوامی مقبولیت کی تیسری وجہ اوورسیز پاکستانی ہیں۔ ملک سے باہر نوے فیصد پاکستانی عمران کو پسند کرتے ہیں۔ وہ لوگ اچھے اور صاف ستھرے معاشروں میں بیٹھے ہیں۔ عمران نے بڑی مہارت سے ان معاشروں کی بات کر کے ان کے دل موہ لیے ہیں اور وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف عمران خان ہی پاکستان کو کینیڈا‘ امریکا‘ جرمنی اور جاپان بنا سکتا ہے۔ چنانچہ بیرون ملک پاکستانی اسے رقم بھی دیتے ہیں اور اس کے لیے نعرے بھی لگاتے۔ عمران خان کی مقبولیت کی چوتھی وجہ نوجوان لوگ ہیں۔ ملک کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ لوگ بدقسمتی سے مطالعہ کرتے ہیں اور نہ ہی ان میں تجزیے کی صلاحیت ہے۔ سوشل میڈیا ان کا واحد سورس آف انفارمیشن ہے اور یہ لوگ سوشل میڈیا کی ہر بات کو، خواہ وہ سرے سے جھوٹ ہو، فوری سچ مان لیتے ہیں۔ عمران نوجوانوں کی اس خامی سے واقف ہیں اور وہ اسے کھل کر استعمال کرتے ہیں لہٰذا ان چار عوامل نے مل کر عمران خان کو ملک کا مقبول ترین لیڈر بنا دیا ہے۔

عمران خان لیڈر ہیں لیکن یہ بیک وقت قومی اسمبلی کے نو حلقوں میں ضمنی الیکشن کے امیدوار بن کر نکولس دوم جیسی غلطی کر رہے ہیں۔ وہ سیاست کے آخری زار بننے کی پوری پوری تیاری کر رہے ہیں‘ عمران اگر جیت جاتے ہیں تو بھی ان کی پارٹی ختم ہو جائے گی اور اگر ہار جاتے ہیں تو بھی ان کی پارٹی نہیں بچے گی۔

اپنی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ کہ بات سیدھی اور سادی ہے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ میں اگر 9 حلقوں سے جیت گیا تو پی ڈی ایم حکومت ختم ہو جائے گی حالانکہ انکا یہ خیال سو فیصد غلط ہے۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت اگر ملک میں تاریخی مہنگائی، ضمنی الیکشن میں شکست اور پنجاب کی حکمرانی کھونے کے بعد بھی قائم ہے تو پھر وہ ایسے 9 حلقوں میں ہارنے کے بعد کیوں گھر چلی جائے گی جنکے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ عمران کو جیت کر بھی یہ حلقے چھوڑنے پڑیں گے۔ ویسے بھی اگلے الیکشن اکتوبر 2023 میں ہی ہوں گے اور اس سے پہلے الیکشن کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرا اگر عمران 9 حلقوں میں جیت جاتے ہیں تو پارٹی کے باقی ایم این ایز اور لیڈرز کو محسوس ہو گا لہ پی ٹی آئی میں صرف عمران ہی عمران ہیں اور ان کی گنجائش ختم ہوتی جارہی ہے۔ یہ تاثر انھیں مزید احساس کمتری اور خان صاحب کو مزید برتری کے احساس میں مبتلا کر دے گا۔ یہ احساس سیاسی جماعتوں کو کھا جاتا ہے لہٰذا تحریک انصاف مزید کمزور ہو جائے گی اور اگر اس کے باوجود عمران واپس آ بھی گئے تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ تمام وزارتیں بھی خود چلائیں گے؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ الیکشن نہیں جیت سکتے وہ خود میں وزارت کی اہلیت کیسے پیدا کریں گے؟ اور اگر اس کے برعکس ہو گیا اور عمران تمام یا آدھی سیٹیں ہار جاتے ہیں تو کیا اسے عمران اور پی ٹی آئی کی شکست فاش نہیں سمجھا جائے گا؟ کیا عمران کی پارٹی اس کے بعد متحد رہ سکے گی؟

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان بےشک مقبول ہے لیکن اپنی اس مقبولیت کے زعم میں وہ ہر ریاستی ادارے کے ساتھ متھا لگا چکے ہیں۔ اتنی لڑائیاں تو یونانی دیوتا ہرکولیس بھی نہیں جیت سکا تھا، خان صاحب تو پھر بھی انسان ہیں، لہٰذا آپ خود سوچئے کیا آپ اتنی لڑائیاں جیت سکیں گے؟ آپ کس کس کا مقابلہ کریں گے اور آپ اگر جیت بھی گئے تو کیا یہ ملک اس کے بعد چلنے کے قابل رہے گا؟ بہرحال عمران ضمنی الیکشن جیت جائیں یا ہار جائیں، وہ اس ملک کے آخری زار ثابت ہوں گے اور سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ہی رہیں گے۔

لیکن جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو شاید 22 کروڑ پاکستانی عوام کی کوئی نیکی پسند آ گئی جو اسوقت ملک میں عمران کے مقابلے میں عمران جیسا کوئی شخص موجود نہیں ورنہ اب تک 1971 والا دور واپس آچکا ہوتا۔ یاد رہے کہ 1971 میں شیخ مجیب اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے دو خوف ناک مقرر اور پاپولر لیڈر آمنے سامنے آ گئے تھے۔ ان کی مقبولیت کا تاوان پاکستان کو دینا پڑ گیا تھا اور جنرل یحییٰ خان کی وجہ سے پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ لہٰذا آج اگر پی ڈی ایم کی صفوں میں بھی عمران خان جیسا کوئی شخص ہوتا تو یہ ملک اب تک فارغ ہو چکا ہوتا۔ اللہ کا خصوصی کرم ہے عمران خان صرف ایک ہی ہے لہٰذا ہمارے پاس اب بھی وقت ہے کہ ہم اکٹھے بیٹھ جائیں اور ملک کو بچائیں کیونکہ ملک کی کشتی یوں ملاح کے بغیر زیادہ وقت نہیں نکال سکے گی۔

Back to top button