عمران پہلے نااہل قرار پائیں گے یاجیل جائیں گے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے جھوٹے سچے بیانیے کے زور پر عوام میں اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ اب وہ خود کو سیاست میں لانے اور وزیراعظم بنوانے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہا ہے۔ ایسے میں اب ان کی نااہلی اور گرفتاری کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن آپ اب خان کو نااہل کر دیں یا گرفتار کر لیں، اسکی مقبولیت کے گراف کو نیچے نہیں لا پائیں گے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ میں نے پہلے دن ہی کہا تھا عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا غلط فیصلہ تھا۔ کپتان کرکٹ کا ہو یا پھر سیاست کا، ہمیشہ سے اٹیکنگ ہی رہا ہے، لیکن یہ حقیقت وہ بھی نہ سمجھ سکے جن کی مدد سے عمران خان 2018 میں وزیراعظم بنا تھا۔ عمران نے سیاست کا ایک نیا انداز اپنایا جو غیر روایتی تھا اور اب تک اس میں وہ کامیاب نظر آ رہا ہے۔ اس وقت وہ اپنی مقبولیت کے عروج پر ہے جس کیلئے اس کو ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جو عدم اعتماد کی تحریک کے کرتا دھرتا رہے ہیں۔ کہاں 2021ء میں عمران کی پارٹی کو ایک کے بعد ایک ضمنی الیکشن میں ناکامی کا سامنا تھا اور کہاں اپریل 2022ء کے بعد پنجاب میں 20 میں سے 15 نشستوں پر کامیابی ملی، پھر اسے پنجاب کی حکومت بھی واپس مل گئی۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات اور پھر 9 نشستوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں کیا ہوتا ہے؟
مظہر عباس کہتے ہیں کہ عمران خان جھوٹا سچا بیانیہ بنانے کے ماہر ہیں، تصور کریں خان کے اندازِ سیاست کا کہ اس نے اپنے چیف آف اسٹاف شہباز گِل کے بغاوت کیس کو جنسی حملے کے الزام سے اڑا دیا اور اس معاملے میں بھی عوامی ہمدردیوں کا رخ اپنے حق میں موڑ لیا۔ آج اصل الزام پیچھے رہ گیا ہے اور انسانی حقوق کا سوال آگے آ گیا ہے۔ حکومتی اتحادیوں بشمول مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے پاس اس وقت عمران کا توڑ نظر نہیں آرہا۔ انتہا یہ ہے کہ خود نوازشریف اور اسحاق ڈار اپنی حکومت ہونے کے باوجود ملک واپسی کا نہیں سوچ سکتے۔ دوسری جانب بازی بڑی تیزی سے پی ڈی ایم کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم نے گزشتہ چار مہینوں میں دس بڑی غلطیاں کی ہیں۔ پہلی غلطی عدم اعتماد کی تحریک لانا، دوسری شہباز شریف کو وزیراعظم بنانا، تیسری غلطی حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنوانا، چوتھی مہنگائی کے طوفان پر قابو پانے میں ناکامی، اور پانچویں غلطی فوری انتخابات نہ کرانا تھی۔ مظہر عباس کا کہنا ہے کہ حکومت کی چھٹی بڑی غلطی 5؍مئی کو ریاستی جبر کا استعمال کرنا، ساتویں نیب کے قوانین میں ترامیم کرنا، آٹھویں میڈیا کے ایک خاص گروپ پر پابندی لگانا، نویں غلطی شہباز گِل کیس غلط انداز میں ہینڈل کرنا اور دسویں غلطی حکومت کا عمران خان کی گرفتاری کا منصوبہ ہے، مظہر کا کہنا ہے کہ سیاست دان کو کبھی بھی گرفتاری سے نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی ہوا ہے۔
اس کے بعد مظہر عباس عمران کی غلطیاں گنواتے ہوئے کہتے ہیں عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد عمران کا قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینا مگر باقی اسمبلیوں میں بیٹھے رہنا ان کی سب سے بڑی غلطی ہے جو دوغلے پن کا مظہر ہے۔ انکی دوسری غلطی ایک ساتھ کئی محاذ کھول لینا ہے جیسا کہ نیوٹرلز، حکومتی اتحاد، عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے محاذ آرائی۔ عمران کی تیسری بڑی غلطی عدم اعتماد کی تحریک کے دوران خط کی تحقیق کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل میں تاخیر، ان کی چوتھی غلطی مارچ کرنے میں جلد بازی رہی۔ پانچویں غلطی اعلیٰ عدلیہ پر غیر ضروری تنقید اور چھٹی اپنی حکومت مخالف تحریک کے لئے بی اور سی پلان کا نہ ہونا ہے۔ بہرحال عمران اس لحاظ سے اب تک خوش نصیب ہیں کہ وہ ایک غلطی کرتے ہیں تو حکومت تین غلطیاں کرتی ہے۔ سیاست اور جمہوری معاشروں میں حکومتیں ایک پھل داردرخت کی مانند ہوتی ہیں جو ہمیشہ جھکتا ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب ایک اہم ترین حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کے اندر یہ باتیں ہورہی ہیں کہ پی ٹی آئی سے اتحاد توڑنا اور پی پی پی سے ہاتھ ملانا بڑی سیاسی غلطی تھی۔ اور تو اور، خود مسلم لیگ کے اندر سے بھی اب یہ آوازیں زیادہ بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں کہ اسی طرح چلتے رہے تو عمران خان کو واپس آنے سے روکنا مشکل ہوجائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد اور لاہور میں مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کے دوستوں سے ملاقاتوں سے اندازہ ہوا کہ عمران خان کی معزولی کے بعد پی ٹی آئی رہنما اور کارکن زیادہ پُرجوش ہیں اور مسلم لیگ کے ساتھی زیادہ مایوس کہ ’غلطی ہوگئی‘۔ پنجاب جہاں عثمان بزدار د کے بعد مسلم لیگ کو صرف عام انتخابات کا انتظار کرنا تھا وہاں ایسی سنگین غلطیاں کی گئیں کہ آج اسے اپنے گھر میں اپنی سیاست بچانے کے لیے ڈبل شفٹ کرنی پڑ رہی ہے۔ اس کے علاوہ جو غلطی نواز شریف نے 2000 میں مشرف سے 10 سال جلاوطنی گزارنے کا معاہدہ کر کے سعودی عرب جا کر کی تھی، وہی غلطی انہوں نے تین سال پہلے علاج کی غرض سے لندن جاکر کی۔ اب شاید تھوڑی دیر ہوگئی ہے۔
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کپتان مسلسل بائونسر کرارہا ہے، اٹیک کررہا ہے اور نتائج کی پروا کئے بغیر۔ دوسری جانب اس نے میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا کی طاقت کا ایسا استعمال کیا ہے کہ اسکی کوریج لائیو دکھائی جائے یا ریکارڈ کر کے دکھائی جائے، سیاست کا محور وہی ہے اور وہ اسی کے گرد گھوم رہی ہے۔
