صدر زرداری اچانک عمران خان کے خلاف کیوں کھڑے ہو گئے؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کی جانب سے عمران خان پر حالیہ تنقید کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ نون لیگی قیادت خصوصاً نواز شریف اور شہباز شریف خان کی بیماری کے معاملے پر بول نہیں رہے تھے، لہٰذا زرداری صاحب نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تنہا سمجھتے ہوئے اس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا۔ یاد رہے کہ صدر زرداری نے حال ہی میں عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں مردوں کی طرح قید کاٹنی چاہیے بجائے اس کے کہ بچوں کی طرح رونا دھونا کریں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری بہت گہرے انسان ہیں، سیاسی شطرنج کے ماہر کھلاڑی ہیں۔ ان کی کامیاب سیاسی چالوں کے سبب ہی پیپلز پارٹی مسلسل 16 سال سے صوبہ سندھ میں برسرِ اقتدار ہے۔ موجودہ وفاقی سیٹ اپ میں بھی انہیں آئینی عہدے حاصل ہیں۔ گناہ ثواب کی ذمہ داری نون لیگ پر ہے مگر آئینی حکمرانی میں آصف زرداری اور ان کی پارٹی بھی حصہ دار ہے۔ زرداری دوستوں کے دوست مشہور ہیں مگر کوئی ان سے چالاکی کرے تو پھر اس کو گھر تک چھوڑ کر آنے کے بھی ماہر ہیں۔

 

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ یہ ادنیٰ صحافی 1988ء سے انہیں ذاتی طور پر جانتا ہے اور مسلسل ملاقاتوں سے ان کو پرکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ان کی شخصیت کی پرتیں تہہ در تہہ ہیں، انہیں کھولنا بہت مشکل ہے مگر سیاست کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے ان کی سیاسی رمزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ عمران کی عین یعنی آنکھ کا معاملہ حد سے بڑھا تو بیماری نے سیاست میں آگ لگا دی۔ نون کی حکمتِ عملی اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے اور نیچے نیچے رکھنے کی رہی۔ عطا اللہ تارڑ، رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیروں نے اپنے بیانات کے ذریعے اس معاملے کو ڈیل کیا لیکن نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف پُراسرار طور پر خاموش رہے۔ ایسے میں صدر آصف زرداری کھل کر سامنے آئے، عمران کی بیماری اور اپنی جیلوں کا تقابل کر کے تحریک انصاف کے بیانیے کا جواب دیا اور انصافی پروپیگنڈے کی توپوں کا رخ جان بوجھ کر نون سے ہٹا کر اپنی طرف کر لیا۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ زرداری نے ایسا کیوں کیا؟ اس چال کے اندر کیا چھپا ہے اور اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟ آصف علی زرداری نے شاید بھانپ لیا ہوگا کہ نون کی اعلیٰ ترین قیادت خود کو اس قضیے سے دور رکھ کر وہی سیاسی غلطی کر رہی ہے جو وہ عمران کے بیانیے کے جواب میں سیاست کی بجائے گورننس پر توجہ کر کے کر رہی ہے، جس سے عمرانی بیانیے کا بوجھ غیر سیاسی فوج پر پڑ رہا ہے اور اس بوجھ کو نون کو جس مؤثر طریقے سے بانٹنا چاہیے، اس میں واضح کمی اور خلا ہے۔ صدر پاکستان نے یہ زوردار بیان دے کر اشارہ دیا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ مخالفت کا بوجھ اٹھانے اور اپنا کندھا پیش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ کوئی مانے نہ مانے، 2024ء کے الیکشن سے پہلے جب نون کے اقتدار کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی تو ابتدائی طور پر یہ طے ہوا تھا کہ اقتدار بلا شرکتِ غیرے نون کو ملے گا اور فوج اس حکومت اور سیاست کو کامیاب کرنے کے لیے مکمل حمایت کرے گی۔ ہدف یہ تھا کہ ملک کو ایک طاقتور اور معاشی جن بنانا ہے۔ یہ بھی طے ہوا تھا کہ پیپلز پارٹی کو شریکِ اقتدار نہیں کرنا کیونکہ پیپلز پارٹی اور نون کی معاشی پالیسیاں متضاد ہیں، نون نجکاری کی حامی جبکہ پیپلز پارٹی کے اس بارے میں واضح تحفظات ہیں۔ اور ایک بات جو سرِ عام تو نہیں کہی جاتی تھی مگر کانوں ہی کانوں میں یہ سرگوشی کی جاتی تھی کہ پیپلز پارٹی کے لوگ کرپٹ ہوتے ہیں اور نون یہ بوجھ اٹھانا نہیں چاہتی۔

 

اس پلان کے مطابق سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کو حکومت نہیں دی جانی تھی بلکہ پیپلز پارٹی کے مخالفین کو ملا کر وہاں حکومت کی تشکیل ہونی تھی۔ اسی منصوبے کے تحت جب سندھ کی نگران حکومت بنی تو وہاں کا وزیر داخلہ ایک ایسی شخصیت کو بنایا گیا جس نے کھل کر پیپلز پارٹی کی مخالفت کی، ان کے اسکینڈل بنائے۔ مہر، سرداروں، جتوئیوں اور پگاڑا خاندانوں کو قوم پرستوں کے ساتھ جوڑ کر ایک اتحاد بنایا گیا۔

 

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ماضی کے شریکِ کار لاڑکانہ کے عباسی خاندان کو اس میں فٹ کیا گیا۔ کھچڑی تیار تھی، ایسے میں آصف زرداری نے اپنی جادو کی چھڑی نکالی اور سب سے پہلے دیہی سندھ میں اپنے مخالف سیاسی گھوڑوں پر کاٹھی ڈالی۔ سندھ کے مہروں اور ہر ممکنہ طور پر جیتنے والے گھوڑوں کو سبز چراگاہوں کے خواب دکھائے گئے، حتیٰ کہ پگاڑا خاندان کو بھی بڑی باعزت پیشکش کی گئی۔ جتوئی اور پگاڑا خاندان کے سوا شیرازی، مہر اور باقی بڑے بڑے نام زرداری کے جادو میں آ گئے۔ پھر زرداری نے راولپنڈی، اسلام آباد کے حلقوں میں مؤثر لابنگ کی اور وہاں بھی حسینہ واجد کے بنگلہ دیش ماڈل کی خامیوں کو پیش کیا۔

 

تاہم 2024ء کے انتخابات کے نتائج ایسا سرپرائز تھے جس نے بنگلہ دیش ماڈل یعنی ون پارٹی بالادستی پروگرام کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ نئی حقیقتوں پر نون کو پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت اور سندھ پیپلز پارٹی کو دینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ گویا سہیل وڑائچ کے بقول پیپلز پارٹی کو موجودہ اقتدار کھیر کی طرح نہیں ملا، انہوں نے کھچڑی سے دال کے دانے چنے۔ نون لیگی قیادت کو ایک انٹیلی جنس سربراہ نے تاثر دیا تھا کہ الیکشن آپ کے لیے حلوہ ہیں، لہٰذا آپ اکیلے ہی یہ حلوہ کھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اس کھانے میں شامل نہیں ہوگی مگر الیکشن کے نتائج حلوے کی بجائے کڑوے ثابت ہوئے اور نون لیگ کو مجبوری میں پیپلز پارٹی سے مل کر مخلوط حکومت بنانا پڑ گئی۔

 

سہیل وڑائچ کے بقول وفاقی حکومت بن گئی۔ آصف زرداری صدر پاکستان کے عہدے پر متمکن ہوئے تو ان سے نہروں اور ڈیموں کے حوالے سے سندھ کے پانی کی قربانی مانگی گئی۔ آصف زرداری جتنے ہی پاکستان کھپے کے نعرے لگائیں، وہ سندھ کا پانی دے کر وہاں کی سیاست میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا، اندرونِ سندھ نئی نہروں کے مسئلے پر احتجاج اور ہنگامے پھوٹ پڑے۔ ان مظاہروں کا دباؤ اس قدر بڑھا کہ نہروں کی تجویز سرد خانے کے سپرد ہو گئی ہے۔ صدر آصف زرداری نے پارلیمان سے اپنے خطاب میں ان نہروں کی باقاعدہ مخالفت کی تو کالا باغ ڈیم کی طرح یہ منصوبہ بھی تہِ خاک ہو گیا۔

اسی دوران چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ نہروں کی مخالفت کے پسِ پردہ خود پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ صدر پاکستان نے ہمالیہ سے پار ایک ملک کو ریاستی پالیسی سے ہٹ کر ایک خط لکھا جس سے سپر پاور ناراض ہو سکتی تھی، اس لیے اس خط کو روک لیا گیا۔ یہ الزام بھی لگایا گیا کہ زرداری صاحب سرگرم نہیں، وہ دن کو سونے اور رات کو جاگنے کے عادی ہیں۔ سندھ حکومت کے خلاف مسلسل یہ پروپیگنڈا جاری رہا کہ وہاں بہت کرپشن ہے، اور یہ کہ سندھ میں ایک متوازی نظام جسے سسٹم کہا جاتا ہے رائج ہے اور اس سسٹم کو براہِ راست آصف زرداری تک رسائی حاصل ہے۔

گورنر ٹیسوری کو بچانے کے لیے MQM کا صدر زرداری پر حملہ

بقول سہیل وڑائچ، ظاہر ہے کہ پیپلز پارٹی ان الزامات سے مکمل انکاری ہے بلکہ وہ تو کہتی ہے کہ صحت، تعلیم اور اس کا روڈ نیٹ ورک پنجاب اور ملک بھر سے بہتر ہے، اور ان کا یہ دعویٰ بھی معقول ہے کہ مسلسل جیتنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم سندھی عوام کے پسندیدہ ترین ہیں اور بہترین کام کر رہے ہیں۔ آصف زرداری اتنے سادہ نہیں کہ بے وجہ بولیں، اتنے بے وقوف بھی نہیں کہ مگرمچھوں کی خوراک بنیں۔ اگر تھوڑا بہت ان کی رمزوں کو جانیں تو ان کا حالیہ تحریک انصاف مخالف بیانیہ اپنی پارٹی کو دباؤ سے نکالنے کے لیے ہے۔ انہیں جہاں نون کی کمزوری نظر آئی، وہ نواز شریف اور شہباز شریف سے آگے بڑھ کر فوج سے کندھا ملا کر کھڑے ہو گئے۔

Back to top button