طالبان حکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ نواز شریف کا تھا یا کسی اور کا؟

یہ 25 مئی 1997 کا ذکر ہے۔ وزیراعظم نوازشریف اپنی اقامت گاہ کے ایک کمرے میں بیٹھے پی۔ٹی۔وی پر رات 9 بجے کا خبرنامہ دیکھ رہے تھے۔ اس دوران شہ سرخی چلی کہ پاکستان نے امارات اسلامی افغانستان (طالبان) کی حکومت کو تسلیم کرلیا ہے۔ میاں صاحب کو دھکچا لگا کہ یہ کب، کیسے، کیوں کر، کس کے حکم سے ہوگیا ہے؟ میں ملک کا وزیراعظم ہوں لیکن قومی اہمیت کے حامل اتنے بڑے فیصلے کا علم مجھے پی۔ٹی۔وی کے خبرنامے کے ذریعے ہو رہا ہے؟ حیرت زدگی کی کیفیت میں انہوں نے مشاہد حسین سیّد سے رابطہ کیا۔ وزیراطلاعات نے بتایا کہ جی ہاں میں نے بھی یہ خبر سنی ہے۔ میں معلوم کرتا ہوں کہ یہ کہاں سے آئی اور کیسے چلی؟
کچھ دیر بعد مشاہد صاحب نے وزیراعظم کو بتایا کہ یہ خبر وزارت خارجہ سے آئی تھی۔ ایم ڈی پی۔ٹی۔وی کی یہ وضاحت درست ہے۔ میں نے خود بھی وزارت خارجہ سے اس کی تصدیق کی ہے۔“ میاں صاحب نے مشاہد حسین کے ذمے لگایا کہ وہ وزیر خارجہ گوہر ایوب خان سے پوچھیں کہ اس خبر کا ماخد کیا ہے؟ شاہ جی کے استفسار پر وزیرخارجہ نے بتایا کہ ”یہ خبر ایک اہم ترین ایجنسی کی طرف سے آئی۔ ایک اعلی منصب پر فائز اہل کار نے خود مجھ سے بات کی اور یہ خبر چلانے کے لئے کہا۔“ وزیراعظم کی برہمی مزید بڑھ گئی کہ وزیرخارجہ میری کابینہ کا رکن ہے اور جس ایجنسی کا نام لیا جا رہا ہے وہ بھی براہ راست میرے ماتحت ہے۔ پھر مجھ سے بالا بالا یہ سب کچھ کیسے ہو گیا؟ انہوں نے اپنے پرنسپل سیکریٹری انور زاہد سے کہا کہ وہ وزیر خارجہ سے مل کر تفصیلات پوچھیں۔ تفصیلات کیا آنا تھیں۔ اس بات کی تصدیق ہو گئی جو مشاہد حسین سیّد پہلے بتا چکے تھے۔
سینئر صحافی اور نواز شریف کے قریبی رفیق عرفان صدیقی اپنی ایک تازہ تحریر میں اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو ابھی نوازشریف کو دوسری بار وزارت عظمی کامنصب سنبھالے بہ مشکل تین ماہ ہوئے تھے۔ آغاز سفر میں ہی ملک کے منتخب چیف ایگزیکٹو کو اپنی ”حدوں“ میں رکھنے کی اس واردات نے میاں صاحب کو برہم کر دیا۔ چیف آف دی آرمی سٹاف، جنرل جہانگیر کرامت سے بات کی گئی تو انہوں نے ذمہ داری متعلقہ ایجنسی پر ڈال دی۔ ایجنسی کے سربراہ سے پوچھا گیا تو ملبہ ماتحت کے سر ڈال دیا گیا۔ وزیر خارجہ سے وضاحت چاہی گئی تو اس نے وہی کہانی سنا دی۔ میاں صاحب نے اگلے ہی دن قریبی رفقا کا ایک مشاورتی اجلاس بلایا۔ ساری صورت حال اُن کے سامنے رکھی۔ تقریباً وہی تمہید باندھی جو وزارت عظمٰی کے ہر دور میں متعدد مواقع پر باندھتے رہے۔ انہوں نے فیصلہ سنایا کہ ”اس معاملے کی پوری چھان بین ہونی چاہیے لیکن ایک بات اہم ہے کہ وزیر خارجہ کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔
گوہر ایوب کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ایسا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اگر کسی نے کہا بھی تھا تو وہ ایجنسی والوں خو بتا دیتے کہ اتنی بڑی بات میں وزیراعظم کی منظوری کے بغیر نہیں کہہ سکتا۔“ میاں صاحب نے کہا کہ ”اس کے بعد ان کے پاس اپنے منصب پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔“ تاہم شرکا کی اکثریت نے رائے دی کہ ”اس معاملے کا تعلق محض داخلی بدانتظامی، دفتر خارجہ کی نااہلی، کسی وزیر کی خودسری یا ادارہ جاتی کشمکش سے نہیں، اس کا تعلق امور خارجہ کی حساسیت سے ہے۔ کدی بڑے فیصلے کی ورت میں پیغام یہ جائے گا کہ وزیراعظم نوازشریف، طالبان حکومت تسلیم کرنے کے خلاف تھے لہذا انہوں نے وزیر خارجہ کو معزول کر دیا۔ ایسے فیصلے کا فوری اثر پاک افغان تعلقات پر پڑے گا۔ طالبان کے ساتھ کشیدگی پیدا ہو جائے گی۔ اپوزیشن کو بھی پراپگنڈے کا موقع ہاتھ آجائے گا۔ روایتی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔ سو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مصلحت غالب آگئی۔
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ وقتی طورپر گوہر ایوب خان کے خلاف کارروائی تو ٹل گئی لیکن کچھ عرصہ بعد اُنہیں وزارتِ خارجہ سے ہٹا کر پانی اور بجلی کی وزارت سونپ دی گئی۔ وزارت خارجہ سرتاج عزیز کے حصے میں آ گئی۔ عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ہماری بیاض سیاست کے کسی صفحے پہ رقم یہ چھوٹی سی کہانی، بس کہانی ہی رہے گی۔ یہ پس پردہ تھی تو بھی قوم کا کچھ زیاں نہیں ہو رہا تھا اور اب منظر عام پہ آ گئی ہے تو بھی کوئی بھونچال نہیں آئے گا۔ ”مٹی پاﺅ“ کلچر کے سبب جہاں سقوط ڈھاکہ جیسا پہاڑ جتنا سانحہ، گورستانِ ماضی میں گم ہوگیا ہے وہاں اس نومولود انکشاف کی ننھی منی قبر کس کھاتے میں آتی ہے؟ لیکن عرفان صدیقی کے مطابق ممکن ہے کہ اس کہانی سے کچھ سوالوں کی گنجلک گرہیں کھل سکیں۔ مثلاً یہ کہ میاں نوازشریف کی ”اسٹیبلشمنٹ“ سے کیوں نہیں بنتی اور ہر بار ان کا جھگڑا کیوں ہو جاتا ہے؟ کیا توتکار کا آغاز ان کی طرف سے ہوتا ہے یا پہلا تیر کسی اور کمین گاہ سے آتا ہے؟ وہ ”ریاست بالائے ریاست“ کا گِلہ کیوں کرتے ہیں؟ ممکن ہے اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں بھی کچھ مدد مل سکے کہ وہ وزیر خارجہ تعینات کرنے کے بجائے، وزارت خارجہ کا قلم دان اپنے پاس رکھنا کیوں پسند کرتت ہیں؟
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ چند روز پہلے مشاہد حسین سیّد نے ایک ٹی وی پروگرام میں پاکستان کی جانب سے سے سابقہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی اصل کہانی سنائی تو مجھے بھی حوصلہ ملا کہ تاریخ کے اس ورق سے مزید نقاب سرکا دیا جائے۔ چنانچہ میں نے بھی یہ کہانی تفصیل سے بیان کر دی۔
