ساحل پر غیر ملکی ٹرالرز پر پابندی کا مطالبہ

نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مکران ساحل پر غیر ملکی ماہی گیروں کے ٹرالرز پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔
بلوچستان کے ساحل پر چینی اور بین الصوبائی ٹرالرز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ وہ سمندری وسائل کو ختم کرنے کے علاوہ مقامی آبادی کو اپنی معاش سے محروم کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ نیشنل پارٹی گزشتہ کئی روز سے گوادر ضلع کی ہر تحصیل میں غیر ملکی ٹرالرز کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مقامی لوگوں کی شکایات پر بہت کم توجہ دی ہے اور ‘سمندری حیات کی نسل کشی’ قبول نہیں کی جاسکتی ہے۔مکران ساحل پر غیر ملکی اور دوسرے صوبے کے ٹرالروں کو ماہی گیری کی اجازت دینے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ‘غیر قانونی اور دیگر صوبوں کے ٹرالرز کو بلوچستان کے ساحل پر ماہی گیری کرنے پر پابندی عائد کی جانی چاہیے’۔
صوبائی حکومت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی غیر قانونی شکار کی وجہ سے بھتہ مافیا کا مرکز بن گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سمندری اور ماہی گیری کا محکمہ اندھا اور بہرا ہوچکا ہے کیونکہ وہ عوام کی آواز سننے سے قاصر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ایسا لگتا ہے کہ وہ مقامی لوگوں کو اپنے معاش سے محروم رکھنے کے معاملے سے لاعلم ہیں’۔
ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ سینیٹ سمیت ہر فورم پر لوگ عوام دشمن اور بلوچستان مخالف اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مثبت اثرات بلوچستان میں کہیں نہیں دیکھنے کو ملے، لیکن حکومت کی پالیسیوں سے سمندری حیات اور لوگوں کی روزی روٹی پر منفی اثرات ہر ایک کو نظر آرہے ہیں۔
