سروں کے شہنشاہ نصرت فتح علی خان کا فن آج بھی زندہ ہے

سروں کے شہنشاہ قوال استاد نصرت فتح علی خان کو دنیائے فانی سے کوچ کئے ہوئے 23 برس بیت گئے لیکن آج بھی ان کا فن زندہ ہے.
برصغیر پاک و ہند سمیت دنیا بھر میں کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے عظیم قوال، موسیقار و گلوکار استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 23 برس گزر گئے۔صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کے معروف گھرانے سے تعلق رکھنے والے ممتاز گلوکار اور منفرد لہجے کے قوال و موسیقار استاد نصرت فتح علی خان نے سیکڑوں کی تعداد میں انتہائی خوبصورت اور یادگار غزلیں، قوالیاں اور گیت پیش کیے۔استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948ء کو پیدا ہوئے اور انہوں نے انتہائی کم عرصے میں دنیا میں مقبولیت حاصل کی، انہیں نہ صرف اپنے گیتوں بلکہ قوالی کی وجہ سے بھی منفرد حیثیت حاصل تھی۔
استاد نصرت فتح علی خان نے ’دم مست قلندر مست‘، ’علی مولا علی‘، ’یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے‘، ’میرا پیا گھر آیا‘، ’اللہ ہو اللہ ہو‘، ’کنا سوہنا تینوں رب نے بنایا‘، ’اکھیاں اڈیک دیاں‘، ’کسی دا یار نا وچھڑے’، ’میرا پیا گھر آیا‘، ’آفریں آفریں‘ اور ’میری زندگی‘ جیسے لازوال گیت اور قوالیاں پیش کیں۔ ْ نصرت فتح علی نے قوالی کے 125 آڈیو البم ریلیز کیے جو ورلڈ ریکارڈ بھی ہے، ان کے ترتیب دیے گئے گانوں اور موسیقی کی وجہ سے بولی وڈ کو بھی دنیا بھر میں منفرد شہرت ملی اور آج تک بولی وڈ فلموں میں ان کے تیار کیے گئے گانوں کو شامل کیا جاتا ہے۔استاد نصرت فتح علی خان کی نمایاں خدمات کے باعث ہی کئی بھارتی اداکار و فلم ساز انہیں فخر سے اپنے ملک کا حصہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی موسیقی میں کوئی تفریق نہیں رکھی اور بھارتی فلم انڈسٹری کو شاندار موسیقی دی۔
1948 میں فیصل آباد میں معروف قوال فتح علی خان کے گھر پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان قوالی اورلوک موسیقی میں اپنی پہچان آپ تھے۔ نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف خاندان کے دیگرافراد کی گائی ہوئی قوالیوں سے ہوا۔ ’’حق علی مولا علی‘‘ اور ’’دم مست قلندرمست مست‘‘ نے انہیں شناخت عطا کی۔ انہوں نے اپنے فن کو اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا اور دنیا بھر میں بے شمار غیر مسلموں کو مسلمان کیا۔موسیقی میں نئی جہتوں کی وجہ سے ان کی شہرت پاکستان سے نکل کرپوری دنیا میں پھیل گئی۔ بین الاقومی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995 میں ریلیز ہونے والی فلم’’ڈیڈ مین واکنگ‘‘ تھا جس کے بعد انہوں نے ہالی ووڈ کی ایک اور فلم ’’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘‘ کی بھی موسیقی ترتیب دی۔
استاد نصرت فتح علی خاں نے فن موسیقی کی روحانی کیفیات کے ذریعے پوری دنیا کو مرید بنائے رکھا۔ عالمی سطح پر جتنی شہرت انھیں ملی وہ شاید کسی اور موسیقار یا گلوکار نصیب نہیں ہوئی۔ بحثیت قوال ان کے 125 آڈیو البم ریلیز ہوئے جو ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔ ان البمز میں ’’دم مست قلندر مست ‘‘، ’’علی مولا علی‘‘، ’’یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے‘‘، ’’میرا پیاگھر آیا‘‘،’’اللہ ہو اللہ ہو‘‘، کینا سوہنا تینوں رب نے بنایا‘‘ سمیت کئی یادگار قوالیاں اور گیت شامل ہیں۔
نصرت فتح علی خاں نے بالی ووڈ کی کئی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کے ساتھ اپنی آواز کا جادو بھی جگایا جس میں ’’اور پیار ہوگیا‘‘، ’’کچے دھاگے‘‘ اور ’’کارتوس‘‘ شامل ہیں۔ نصرت فتح علی خاں کے فن کی تعریف ملکہ ترنم نورجہاں، شنہشاہِ غزل مہدی حسن اور لتا منگیشکر جیسے گائیک نے بھی کی۔ انھیں گیت، غزل ، قوالی ،کلاسیکل، نیم کلاسیکل پر مکمل عبور حاصل تھا۔ نصرت فتح علی خاں نے اپنے فن کو اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا اور دنیا بھر میں بے شمار غیر مسلموں کو مسلمان کیا۔
استاد نصرت فتح علی خان جگر اور گردوں کے عارضے سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے باعث صرف 48 برس کی عمر میں 16 اگست 1997ء کو کروڑوں مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔وفات کے وقت وہ اپنے کریئر کے عروج پر تھے، کئی بین الاقوامی فنکار اسے اپنی خوش قسمتی قرار دیتے ہیں کہ انہوں نے نصرت فتح علی خان کے ساتھ کام کیا۔اگرچہ استاد نصرت فتح علی خان کےدرجنوں مقبول گیت اور قوالیاں موجود ہیں، تاہم ہم یہاں ان کے کچھ مقبول کلاموں کو مداحوں کے لیے پیش کر رہےہیں۔
تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی
میرے رشک قمر
آفریں آفریں
کنا سونا
ہلکا ہلکا سرور
تم اک گورکھ دندھا ہو
میرا پیا گھر آیا
اکھیاں اڈیک دیاں
عشق دا رتبہ
پیا رے، پیا رے
سانوں اک پل چین نہ آوے
سوچتا ہوں، وہ کتنے معصوم تھے
کسے دا یار نہ وچھڑے
تنہائی
جھولے جھولے لال